کابل یونیورسٹی کے میوزک ٹیچر پشاور میں رباب سکھانے لگے

فیض محمد سخی اپنے بچوں سمیت طالبان کے ڈر سے پشاور منتقل ہو چکے ہیں اور تین مرلے کا ایک گھر کرائے پر لیا ہے جبکہ پشاور ہی میں ایک کمرے میں موسیقی کی اکیڈمی کھول رکھی ہے۔ ان کے شاگردوں میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں۔

’بعض شوقین نوجوان مہینہ دو گزارتے ہیں لیکن بعد میں کہتے ہیں کہ ان کی کوئی ملازمت یا تنخواہ نہیں ہے، اسی وجہ سے فیس ادا نہیں کر سکتے اور چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔‘

’فنکاروں کی حالت افغانستان میں اتنی خراب ہے کہ وہ گھر سے باہر بھی نکل سکتے۔ بعض ملک چھوڑ کر بیرون ممالک پناہ لے چکے ہیں جبکہ بعض پشاور آ گئے ہیں۔‘

’لیکن یہاں بھی مہنگائی کی وجہ سے گزارہ مشکل ہے اور اسی وجہ سے اب موسیقی کی اکیڈمی کھول لی ہے تاکہ کچھ کما سکوں۔‘

یہ کہنا تھا افغانستان کے معروف رباب نواز فیض محمد سخی کا جو کابل یونیوسٹی میں شعبہ موسیقی کے استاد تھے اور15  سال سے وہاں پر نوجوانوں کو موسیقی سکھا رہے تھے۔

فیض محمد 22  سال سے رباب کی تاروں پر ’امن کی دھن‘ پوری دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔

فیض محمد سخی اپنے بچوں سمیت طالبان کے ڈر سے پشاور منتقل ہو چکے ہیں اور تین مرلے کا ایک گھر کرائے پر لیا ہے جبکہ پشاور ہی میں ایک کمرے میں موسیقی کی اکیڈمی کھول رکھی ہے۔ ان کے شاگردوں میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں۔

  فیض سخی نے پشاور منتقل ہونے والے افغان فنکاروں کے بارے میں بتایا کہ کابل میں تو ویسے بھی طالبان نے موسیقی پر پابندی عائد کی ہے لیکن جو فنکار پشاور منتقل ہو گئے ہیں، وہ معاشی طور پر بہت کمزور ہیں۔

انھوں نے بتایا ’یہی فنکار افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد موسیقی سے کمائی کر کے گھر کا چولہا جلاتے تھے، لیکن اب پشاور آکر یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ اوپر سے مہنگائی اتنی زیادہ ہے کہ گھر کا کرایہ ادا کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔‘

 فیض سخی نے بتایا کہ موسیقی کی اکیڈمی کھولنے کا ایک مقصد تو یہ تھا کہ انھوں نے جو دو دہائیوں میں موسیقی سیکھی ہے، اس کو آگے دوسرے لوگوں کو سکھا سکیں جبکہ دوسرا مقصد اس سے کچھ کمائی بھی ہے تاکہ گھر کا خرچہ چل سکے۔

فیض سخی کا کہنا تھا کہ ابھی 15 شاگرد آتے ہیں اور ماہانہ فیس پانچ سے دس ہزار تک ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’بعض شوقین نوجوان مہینہ دو گزارتے ہیں لیکن بعد میں کہتے ہیں کہ ان کی کوئی ملازمت یا تنخواہ نہیں ہے، اسی وجہ سے فیس ادا نہیں کر سکتے اور چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔‘

گزشتہ سال اگست میں افغان طالبان نے افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی کی حکومت گرا کر کابل کا انتظام سنبھال لیا تھا۔ افغان طالبان کے آنے کے بعد لاکھوں افراد افغانستان سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے، اور انہی میں موسیقی سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل ہیں جو کسی دوسرے ملک پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 موسیقی سے جڑے زیادہ تر افراد یورپ، لندن، امریکہ سمیت دیگر ممالک چلے گئے ہیں تاہم بعض موسیقار پشاور متنقل ہو گئے اور یہاں موسیقی کی محفلوں میں بھی شرکت کر کے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

رباب سیکھنے کے لیے کتنا عرصہ چاہیے؟

فیض سخی نے اس حوالے سے بتایا کہ کسی بھی موسیقی کے آلے کو سیکھنے کے لیے موسیقی کا شوق رکھنا ضروری ہے کیونکہ بغیر شوق کوئی بھی موسیقی نہیں سیکھ سکتا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ’شوق کے بعد پریکٹس کو وقت دینا بھی ضروری ہے کیونکہ موسیقی کے آلات جتنا آپ زیادہ پریکٹس کریں گے تو جلدی سیکھ جائیں گے اور اسی میں رباب بھی شامل ہے۔‘

پشاور میں افغان موسیقاروں کی زندگی

پشاور میں رہنے والے افغان موسیقاروں کو شکایت ہے کہ ’ان کو نہ افغانستان اور نہ پشاور میں آرام سے رہنے دیا جاتا ہے اور پولیس کے ہاتھوں تنگ کیا جاتا ہے۔‘

اسی طرح کا ایک مقدمہ چند ہفتے پہلے پیش آیا تھا جب تین افغان موسیقاروں پر فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

افغانستان سے آئے ہوئے موسیقاروں کے  حقوق کے لیے پشاور میں بنائی گئی غیر سرکاری تنظیم ’ہنری ٹولنہ‘ کے سربراہ اور پشتو کے گلوکار راشد خان نے بتایا کہ ’کابل سے آئے ہوئے فنکاروں اور موسیقاروں کو پولیس کی جانب سے تنگ کیا جاتا ہے۔‘

تین فنکاروں پر مقدمہ درج کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ مقدمہ عدالت میں بھی گیا تھا اور ہم نے اس حوالے سے مظاہرے بھی کیے تھے کہ افغان فنکاروں کو تنگ نہ کیا جائے۔

پولیس کے مطابق افغان فنکار غیر قانونی طور پر اور بغیر دستاویزات رہائش پذیر تھے جو ایک جرم ہے اور اسی قانون کے تحت ان پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

راشد خان نے بتایا ’افغانستان سے نکلے ہوئے موسیقاروں اور فنکاروں کے پاس دستاویزات کہاں سے آ جائیں گی کیونکہ وہ تو بہت ایمرجنسی میں وہاں سے نکلے تھے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ان فنکاروں کو خصوصی طور پر ٹریٹ کرنا چاہیے جس طرح یورپ کے ممالک  کرتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا