وزارت خزانہ کا آرمی چیف کا ٹیکس ریکارڈ لیک ہونے پر نوٹس

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعلامیہ کے مطابق ٹیکس تفصیلات کا لیک ہونا قانون کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ یوم پاکستان کے موقع پر 23 مارچ 2019 کو فوجی پریڈ دیکھنے کے لیے آ رہے ہیں (اے ایف پی)

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے اہل خانہ کی ٹیکس سے متعلق تفصیلات لیک ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے 24 گھنٹوں میں ذمہ داروں کا تعین کرکے رپورٹ طلب کی ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعلامیہ کے مطابق ٹیکس تفصیلات کا لیک ہونا قانون کی خلاف ورزی ہے۔

اعلامیے کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریوینیو معاملے کی فوری طور پر تحقیقات کرے اور 24 گھنٹوں میں وزیراعظم کے مشیر برائے ریونیو طارق پاشا ذمہ داروں کا تعین کرکے رپورٹ پیش کریں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اعلامیے میں ’اطلاعات لیک کرنا سنگین غلطی‘ قرار دیا گیا ہے اور مشیر برائے ریوینیو کو ذاتی طور پر اس معاملے کی فوری انکوائری کی ہدایت کی گئی ہے۔

انکوائری سے متعلق تفصیلات جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے طارق پاشہ سے متعدد بار رابطہ کیا لیکن تاحال ان کی جانب سےکوئی جواب موصول نہیں ہو سکا۔

گذشتہ روز صحافی احمد نورانی کی جانب سے ویب سائٹ فیکٹ فوکس پر شائع کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں آرمی چیف اور ان کے اہل خانہ کے اثاثہ جات سے متعلق تفصیلات سامنے لائی گئیں تھیں جن میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ آرمی چیف بننے کے بعد جنرل باجوہ اور ان کے اہل خانہ کے اثاثہ جات میں مبینہ طور پر تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

یہ تفصیلات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت ختم ہونے میں چند ہی دن باقی ہیں اور وہ الوداعی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ 

انڈپینڈنٹ اردو نے اس حوالے سے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یا آئی ایس پی آر سے بھی رابطہ کیا لیکن تاحال اس معاملے پر ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست