اسلام آباد میں 27 ارب سے زائد مالیت کے پلاٹ کی نیلامی

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والی نیلامی کے دوران 12 پلاٹ فروخت ہو چکے ہیں جن کی قیمت 27 ارب روپے سے زائد ہے۔

تین روز پر مشتمل اس نیلامی میں جہاں بڑی تعداد میں ریئل اسٹیٹ سے منسلک کاروباری افراد شریک ہیں وہیں عام شہری بھی پلاٹوں کی خریداری کے لیے موجود تھے (انڈپینڈنٹ اردو)

اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے شہر کے سیکٹرز میں مختلف سائز کے کمرشل اور رہائشی پلاٹس کی نیلامی جاری ہے۔

ہال کے داخلی راستوں پر سکیورٹی چیک کے بعد ہال کے اندر الگ منظر نظر آیا، جہاں ایک جانب تو سٹیج سے مسلسل اعلانات کیے جا رہے تھے جبکہ دوسری جانب کاغذات کو ٹٹولنے میں محو افراد کرسیوں پر براجمان تھے۔

یہ کبھی سٹیج سے آتی آواز کی جانب متوجہ ہوتے تو کبھی اپنے پاس موجود کاغذات پر غور کرتے، جیسے کوئی حساب لگا رہے ہوں۔

اس دوران وہاں موجود افراد میں سے کچھ الجھن کا شکار نظر آئے تو کچھ نے الجھن کو سلجھا کر مطمئن ہوتے ہوئے ہاتھ کھڑے کر دیے۔

چند لمحوں بعد ہی ہوا میں لہراتا صرف ایک ہاتھ رہ گیا جس کے ساتھ سٹیج سے آواز آئی ’پانچ کروڑ 45 لاکھ۔۔ ایک، دو، تین۔‘

تین روز پر مشتمل اس نیلامی میں جہاں بڑی تعداد میں ریئل اسٹیٹ سے منسلک کاروباری افراد شریک ہیں وہیں عام شہری بھی پلاٹوں کی خریداری کے لیے موجود تھے۔

کسی بھی پلاٹ کی نیلامی سے پہلے اس کی کچھ تفصیلات بتائی جا رہی تھیں جس میں سی ڈی اے کی جانب سے اس کی ابتدائی رقم سرفہرست تھی۔

ابتدائی رقم سنتے ہی ہال میں کرسیوں پر بیٹھے افراد اس پر بولی لگانا شروع ہو گئے۔ جہاں ایک طرف ایک ہی فرد بولی میں شریک تھا وہیں کچھ افراد مل کر بولی لگانے سے پہلے آپس میں بحث بھی کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ انہیں متعلقہ زمین خریدنے کے لیے زیادہ بولی لگانا تھی کیونکہ دوسری جانب زیادہ بولی لگائی گئی تھی۔

تاریخ کا سب سے مہنگا پلاٹ

نیلامی کے پہلے روز اسلام آباد کی تاریخ کا سب سے مہنگا پلاٹ آٹھ ارب 54 کروڑ روپے میں نیلام ہوا۔

سابق چیئرمین سی ڈی اے عثمان یونس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ ان کا ادارہ تاحال چار پلاٹوں کی نیلامی کر چکا ہے جن کی مجموعی قیمت 11 ارب 95 کروڑ روپے ہے۔

تقریباً ساڑھے آٹھ ارب روپے کا حامل یہ پلاٹ شہر کی تاریخ کا مہنگا ترین پلاٹ ہے جو تجارتی مرکز بلیو ایریا میں واقع ہے۔

زمین کا یہ ٹکڑا اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ کے قریب واقع ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس نیلامی میں سی ڈی اے کا کام صرف سہولت کاری کرنا ہے اور وہ قطعی طور پر بولی لگانے والے افراد سے نیلامی کے دوران رابطہ نہیں کر سکتی۔

اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں جگہ جگہ کیمرے نصب کیے گئے تھے جس کے بارے میں انتظامیہ سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ایسا نیلامی کے عمل کو شفاف طریقے سے چلانے کے لیے کیا گیا ہے۔

کچھ افراد جو اپنی بولی فائنل ہونے پر خوش تھے تو وہیں کچھ پریشان بھی دکھائی دیے کیونکہ ان کی پسند کی زمین کی بولی کسی دوسرے فرد نے بہتر لگائی۔

اس دوران سٹیج سے بتایا جا رہا تھا کہ ’سی ڈی اے سستے داموں یہ پلاٹ بیچ رہا ہے اور اس لیے یہ موقع ضائع نہیں جانا چاہیے۔‘

جب کسی پلاٹ پر بولی نہیں لگائی جاتی تھی تب سٹیج سے اس زمین کے فوائد بتائے جاتے تھے۔

سی ڈی اے ترجمان آصف رضا شاہ نے نیلامی کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سی ڈی اے اسلام آباد کا اہم ترقیاتی ادارہ ہے جہاں شہریوں کی سہولیات کے لیے بیک وقت مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔

آصف رضا شاہ نے بتایا کہ ان منصوبوں کو فنانس کرنے کے لیے سی ڈی اے کے پاس موجود مختلف زرعی فارمز، کمرشل پلاٹ اور سکول کے پلاٹس نیلام کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تین روزہ نیلامی میں 60 سے زائد پلاٹ رکھے گئے ہیں جن میں پیٹرول پمپ، سکول اور مارکیٹس کے پلاٹ بھی شامل ہیں۔

’تاحال سی ڈی اے کے 12 پلاٹ فروخت ہو چکے ہیں جن کی قیمت 27 ارب روپے سے زائد ہے۔ نیلامی کے پہلے روز آٹھ پلاٹ بیچے گئے جن کی قیمت تقریباً 22 ارب 60 کروڑ روپے سے زائد ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جولائی 2021 میں ہونے والی نیلامی کے بعد سی ڈی اے نے کئی منصوبے شروع کیے جن میں اسلام آباد کے علاقے سیوینتھ ایوینیو اور بارہ کہو کے منصوبے شامل ہیں، اور اب مارگلہ ایوینیو اور پی ڈبلیو ڈی کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔

ان کے مطابق ان منصوبوں کو فنانس کرنے کے لیے نیلامی کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کا فیصلہ موجودہ حکام کرتے ہیں۔

نیلامی سے متعلق سی ڈی اے کے مقاصد پر آصف رضا شاہ نے بتایا کہ سی ڈی اے شہر کی زمین کا ضامن ہے، فروخت ہونے والے پلاٹس کی شفافیت سے نیلامی کی جاتی ہے جن کی تفصیلات پہلے ہی شائع کر دی جاتی ہیں۔

’اس عمل میں تمام سرمایہ کار موجود ہوتے ہیں جن کے سامنے نیلامی کی جاتی ہے جسے ریکارڈ بھی کیا جاتا ہے۔ ہم شہریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ سی ڈی اے جن بھی منصوبوں پر کام کرے گا وہ شہر اور ملک کی بھلائی کے لیے استعمال کرتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان