ڈنمارک میں قرآن کی بے حرمتی: اسلاموفوبیا پر عرب ممالک کی تنبیہ

سعودی عرب سمیت اردن، کویت اور قطر نے بھی انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی کارروائیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے خاص طور پر رمضان کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا ملی ہے۔

رواں سال جنوری میں ڈنمارک کی انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت کے رہنما راسمس پلوڈن کے خلاف استنبول میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا جس میں راسمس پلوڈن کی تصویر کو نذر آتش کیا گیا (فائل فوٹو اے ایف پی)

سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک نے ڈنمارک میں اسلام مخالف انتہا پسندوں کی جانب سے جمعے کو مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن اور ترکی کے پرچم کو نذر آتش کیے جانے کی مذمت کی ہے۔

ریاض کے ساتھ اردن، کویت اور قطر نے بھی انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی کارروائیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے خاص طور پر رمضان کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا ملی ہے۔

مسلم مخالف ڈینش گروپ ’پیٹریوٹرن گار لائیو‘ نے فیس بک پر اسلامو فوبک پیغامات والے بینرز اٹھائے ہوئے حامیوں کی لائیو فوٹیج نشر کی جب انہوں نے کوپن ہیگن میں ترکی کے سفارت خانے کے سامنے قرآن کا نسخہ اور ترکی کا پرچم نذر آتش کیا۔

ترک اخبار ’ڈیلی صباح‘ کی رپورٹ کے مطابق ترک وزارت خارجہ نے اس واقعے کو ’نفرت انگیز جرم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آزادی اظہار کی آڑ میں ایسے مذموم اقدامات کو ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا۔

عرب نیوز کے مطابق سعودی وزارت خارجہ نے ڈنمارک کے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مزید ایسے واقعات رونما نہ ہوں جس سے سماجی ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کو خطرہ لاحق ہو جائے۔

اردن کی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ عمل نفرت اور نسل پرستی کو ہوا دیتا ہے۔

اردن کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا: ’قرآن کو نذر آتش کرنا نفرت کے حوالے سے سنگین عمل اور اسلامو فوبیا کا مظہر ہے جو تشدد کو ہوا دیتا ہے۔ یہ مذاہب کی توہین ہے اور اسے آزادی اظہار کی کوئی شکل نہیں سمجھا جا سکتا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان میں ڈنمارک کے حکام پر زور دیا گیا کہ وہ ایسی کارروائیوں کو دہرانے سے روکیں جو ’تشدد اور نفرت کو ہوا دے اور پرامن بقائے باہمی کے لیے خطرہ پیدا کرے۔‘

کویت کی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ قرآن کو نذر آتش کرنے سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

وزارت نے مجرموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا کہ ’اظہار رائے کی آزادی کو اسلام یا کسی دوسرے مذہب کی توہین کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔‘

قطر نے بھی قرآن پاک کے نسخے کو جلانے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ تازہ ترین واقعہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے واقعات میں ’خطرناک اضافے‘ کو ظاہر کرتا ہے۔

قطری وزارت خارجہ نے کہا کہ آزادی اظہار کے دعوے کے تحت قرآن کو جلانا ’پرامن بقائے باہمی کی اقدار کے لیے خطرہ ہے اور مکروہ دوہرے معیارات کی نشاندہی کرتا ہے۔‘

وزارت نے قطر کی طرف سے ’عقیدہ، نسل یا مذہب کی بنیاد پر ہر قسم کے نفرت انگیز عمل کو مسترد کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا۔

قطری وزارت خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے نفرت، امتیازی سلوک، اشتعال انگیزی اور تشدد کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا اور مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم کے اصولوں کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا