ٹرمپ کی نہ سنیں، ریپ کے سب متاثرین ’چیخیں نہیں مارتے‘

ای جِین کیرول نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر 1996 میں مین ہیٹن کے ایک ڈپارٹمنٹ سٹور کے فٹنگ روم میں انہیں ریپ کا نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے، جس کی ٹرمپ نے تردید کی ہے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ریپ کا الزام لگانے والی مصنفہ ای جِین کیرول (درمیان میں) 25 اپریل 2023 کو نیویارک میں مین ہیٹن فیڈرل کورٹ سے باہر آ رہی ہیں (اے ایف پی)

کیا میں بہت حیران ہوں کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ریپ کے بارے میں قابل نفرت خیالات رکھتے ہیں؟ نہیں، مجھے ایسے شخص سے کوئی توقع نہیں تھی جس نے ہم تک یہ جملہ پہنچایا ہو کہ ’انہیں پوشیدہ جگہ سے پکڑو،‘ کہ ایسا کوئی شخص ان معاملات کی جامع، اچھی طرح سے باخبر اور ہمدردانہ تفہیم کا مالک ہو سکتا ہے۔‌

لہٰذا میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ میں صدمے سے اس وقت کرسی سے گر گئی جب سابق صدر اپنے خلاف ریپ کے دعووں کا جواب دیتے ہوئے، جن کا وہ اس وقت عدالت میں سامنا کر رہے ہیں، چار مختصر جملوں میں جنسی زیادتی کے بارے میں متعدد نقصان دہ خرافات کو پھیلانے میں کامیاب رہے۔

یاد رہے کہ ٹرمپ فی الحال مصنفہ ای جین کیرل کی طرف سے دائر سول مقدمے میں مدعا علیہ ہیں۔ کیرل نے الزام لگایا ہے کہ ٹرمپ نے 1996 میں مین ہیٹن کے ایک ڈپارٹمنٹ سٹور کے فٹنگ روم میں انہیں ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔ ٹرمپ نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

کیرل نے گذشتہ سال نیویارک کے ایڈلٹ سروائیورز ایکٹ کے تحت ہتک عزت اور تشدد کا نشانہ بنانے کا مقدمہ دائر کیا۔ یہ قانون جنسی زیادتی کے متاثرین، جب ان سے زیادتی کی گئی ان کی عمر 18 سال سے زیادہ تھی، کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ زیادتی کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمہ دائر کر سکیں قطع نظر اس کے کہ زیادتی کب ہوئی۔

یہ مقدمہ 2019 میں ٹرمپ کے خلاف ہتک عزت کے ایک اور مقدمے سے الگ ہے جو کیرل نے دائر کیا جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ ٹرمپ نے اپنے بیانات میں ان کے دعووں کی تردید کر کے انہیں بدنام کیا۔

سال 2022 کا مقدمہ اب زیر سماعت ہے۔ منگل (25 اپریل) کو کارروائی شروع ہوئی۔ ٹرمپ نے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ’ٹروتھ سوشل‘ پر جا کر اپنے مخصوص بیانات میں ایک بیان دیا۔ انہوں نے یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر اور فیس بک پر اپنے خلاف پابندی لگنے کے بعد تیار کروایا۔

چھ جنوری 2021 کو امریکی کانگریس کی عمارت کیپیٹل ہل پر دھاوا بولنے کے بعد ٹرمپ پر ان سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

میں ٹرمپ کے تبصروں کو مکمل طور پر شیئر نہیں کروں گی کیوں کہ زندگی مختصر ہے۔ اس کی بجائے میں صرف چار جملے شیئر کرنے جا رہی ہوں جو میری نظر سے گذرے۔

ٹرمپ کے کیرل کے حوالے سے لکھا کہ ’انہوں نے شور نہیں مچایا۔ کوئی گواہ نہیں ہے؟ کسی نے یہ منظر نہیں دیکھا؟ انہوں نے پولیس کے پاس شکایت درج نہیں کروائی؟‘

ظاہر ہے کہ ٹرمپ نیک نیتی سے یہ سوالات نہیں پوچھ رہے۔ وہ ان کا استعمال کیرل کی ساکھ مجروح کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ جو خالی جگہ آپ کو بھرنا ہے وہ یہ ہے کہ ’اگر کسی کا ریپ کیا جاتا ہے تو وہ چیختا ہے۔ اگر کسی کا ریپ ہوتا ہے تو گواہ ہوتے ہیں۔ کسی کا ریپ ہوتا ہے تو کوئی دیکھتا ہے۔ اگر کسی کا ریپ ہوتا ہے تو وہ پولیس کے پاس شکایت کرواتا ہے۔‘

یہ چار باتیں جنسی حملے اور ریپ کے بارے میں عام غلط فہمیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ باتیں پورے جھوٹ کا ایک حصہ ہیں جو حملے کے متاثرین کے لیے نظام انصاف پر بھروسہ کرنا اور ایسا کر کے خود کو محفوظ سمجھنے کو غیر ضروری طور پر مشکل بنا رہی ہیں۔

ریپ، ابیوز اینڈ انسسٹ نیشنل نیٹ ورک (آر اے آئی این این) کے مطابق ہر جنسی زیادتی کے مرتکب ہر ایک ہزار افراد میں سے 28 کو جرم کا مرتکب ٹھہرایا جائے گا اور 25 کو قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لہٰذا صرف اس لیے کہ ٹرمپ کے تبصرے افسوسناک طور پر متوقع ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمیں انہیں چیلنج کیے بغیر جانے دینا چاہیے۔ ذیل میں ریپ کے بارے میں پر سابق صدر کے تبصروں کی تیزی سے جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

’خاتون نے شور نہیں مچایا؟‘

ظاہر ہے ریپ یا جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے تمام متاثرین جب ایسا ہو رہا ہوتا ہے تو چیختے چلاتے نہیں یا مزاحمت نہیں کرتے۔ کچھ ایسا کر ہی نہیں سکتے۔ حیران کن طور پر کچھ لوگ پرتشدد جرم کا نشانہ بنتے ہوئے اِن میں سے کوئی بھی کام کرنے سے بہت ڈرتے ہیں۔

کلینیکل ماہر نفیسات اور ہارورڈ میڈیکل سکول میں نفیسات کا مضمون پڑھانے والے جیمز ڈبلیو ہوپر نے 2015 میں اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ’ریپ کے بہت سے متاثرین مزاحمت کیوں نہیں کرتے یا چیختے کیوں نہیں‘ کے عنوان سے لکھا کہ ’جنسی حملوں کے دوران دماغ پر خوف غالب آ جاتا ہے۔ دماغ کا ایک حصہ شدید متاثر ہو سکتا ہے اور جو کچھ باقی بچتا ہے وہ غیر ارادی ردعمل اور عادات ہو سکتی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہوپر نے ان مختلف کیفیات کے بارے میں لکھا جب ہم خوفزدہ ہو جاتے ہیں، خاص طور پر شکاری کے حملے کی صورت میں ’دماغ جو ردعمل ظاہر کرتا ہے‘ ان میں سے ایک رد عمل کو ’جم جانا‘ کہا جاتا ہے۔ ایک اور ردعمل جس کے بارے میں ہوپر نے لکھا ہے اسے ’بے حس و حرکت‘ ہو جانا کہا جاتا ہے۔ ایک ردعمل ’مفلوج‘ ہو جانا ہے۔

یہ دو ردعمل اس بات کی مثالیں ہیں کہ جب ہم خطرے میں ہوتے ہیں تو ’ہمارا دماغ اور جسم کس طرح ہماری حفاظت کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔‘

’کوئی گواہ نہیں، کسی نے نہیں دیکھا؟‘

جنسی حملے کی نوعیت کی وجہ سے ان حملوں کا کوئی براہ راست عینی شاہد نہ ہونا بالکل غیر معمولی بات نہیں ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عدالت میں پیش کرنے کے لیے کوئی گواہ نہ ہو۔ عام طور پر مدعی کی ٹیم ان لوگوں کی تلاش کرنا ہوتا ہے جن کے بارے میں متاثرہ فرد نے مبینہ حملہ ہونے کے بعد بتایا ہو گا۔

بدھ (26 اپریل) کو گواہی دینے والی کیرل نے کہا کہ انہوں نے مبینہ حملے کے بارے میں دو دوستوں کو بتایا۔ وہ دوست کیرل مارٹن اور لیزا برنبیچ ہیں۔ دونوں نے قبل ازیں اس بات کی تصدیق کی کہ کیرل نے انہیں 1990 کی دہائی میں بتایا تھا کہ ٹرمپ کی جانب سے ان پر جنسی حملہ کیا گیا۔

’انہوں نے پولیس کے پاس شکایت درج نہیں کروائی؟‘

ریپ اور جنسی زیادتی کے زیادہ تر متاثرین پولیس کو اپنے اوپر ہونے والے حملوں کی اطلاع نہیں دیتے۔

آر اے آئی این این کے مطابق ہر ایک ہزار جنسی حملوں میں سے 310 ایسی رپورٹس کا موضوع ہیں۔ 2005 سے 2010 تک رپورٹ ہونے والے پرتشدد جرائم پر نظر ڈالتے ہوئے آر اے آئی این این نے کہا کہ متاثرین نے رپورٹ درج نہ کروانے کی مندرجہ ذیل وجوہات بتائیں۔

بیس فیصد نے انتقامی کارروائی کا خدشہ ظاہر کیا، 13 فیصد کا ماننا تھا کہ پولیس مدد کے لیے کچھ نہیں کرے گی جبکہ 13 فیصد اس کو ذاتی معاملہ سمجھتے ہیں، آٹھ فیصد نے حملے کی اطلاع پولیس کے بجائے دوسرے اہلکار کو دی، آٹھ فیصد کا ماننا ہے کہ حملے کی اطلاع دینا اہم نہیں، سات فیصد مجرم کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے اور دو فیصد کا ماننا ہے کہ پولیس مدد نہیں کر سکتی، مزید 30 فیصد نے کوئی اور وجہ بتائی یا کوئی وجہ ہی بیان نہیں کی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین