ایشیا کی پہلی ’چیف ہیٹ آفیسر‘

بشریٰ آفرین کے مطابق شدید موسم گرما نے ڈھاکہ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا ہے لیکن اب وہ اس بحران سے نمٹنے اور انسانی جانیں بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ڈھاکہ میرا گھر ہے لیکن ناقابل برداشت گرمی کی وجہ سے یہ وہ شہر نہیں رہا جسے میں جانتی ہوں: بشریٰ آفرین (بشریٰ آفرین/ لنکڈ ان)

بشریٰ آفرین بچپن میں سنتی تھیں کہ لوگ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے یا کام کے لیے اپنے آبائی شہر ڈھاکہ کو چھوڑ دیتے ہیں۔

اب خطرناک، دم گھٹنے والی گرمی صاحب استطاعت لوگوں کو بنگلہ دیش کا دارالحکومت چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہے۔

بشریٰ نے گذشتہ ہفتے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا، ‘ڈھاکہ میرا گھر ہے لیکن ناقابل برداشت گرمی کی وجہ سے یہ وہ شہر نہیں جسے میں جانتی ہوں۔ ناقابل رہائش- یہ وہ لفظ ہے جو اب عام طور پر ڈھاکہ کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔‘

ایشیا میں بنگلہ دیش کا شمار سب سے زیادہ درجہ حرات والے مملک میں ہوتا ہے۔ باقاعدگی کے ساتھ ماہانہ اوسط 30 سیلسیس ہے اور زیادہ نمی کے باعث محسوس اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔

ڈھاکہ میں گذشتہ ماہ ہیٹ ویو کے دوران درجہ 40.6 سیلسیس تک پہنچ گیا، جو چھ دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔

فوسل فیولز جلنے سے عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافے کے باعث یہاں گرمی مزید بڑھتی رہے گی۔

ورلڈ بینک کی 2021 کی ایک رپورٹ کے مطابق، ’بنگلہ دیش تقریباً مستقل گرمی کی لہر والی صورت حال کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘

یہ ایک ایسا بحران ہے جس کا بشریٰ کو بدھ کو ڈھاکہ کی پہلی ’چیف ہیٹ آفیسر‘ بنے کے بعد سامنا ہے۔

وہ دنیا بھر کے شہروں میں تمام خواتین کے دستے میں شمولیت اختیار کرنے والی ایشیا کی پہلی ’سی ایچ او‘ بھی ہیں۔

بشریٰ نے کہا، ’میں تمام کمیونٹیز کے ساتھ زیادہ کام کرنا چاہتی ہوں بالخصوص ان کے ساتھ جنہیں زیادہ خطرہ ہے۔‘

سی ایچ او میامی، فری ٹاؤن، ایتھینز، سینٹیاگو، مونٹیری، اور میلبرن میں موجود ہیں۔ لاس اینجلس میں بھی ایک سی ایس او ہے۔

یہ منصب ایک بین الاقوامی تھنک ٹینک ایڈرین آرش روک فیلر فاؤنڈیشن ریزیلانس سینٹر نے تخلیق کیے ہیں، جس کا مقصد 2030 تک ایک ارب لوگوں گرمی برداشت کرنے کے قابل بنانا ہے۔

گرمی ایک خاموش قاتل ہے جو آب و ہوا کی کسی بھی دوسری آفت سے زیادہ اموات کا سبب بنتی ہے، بالخصوص بزرگوں، بچوں، غریبوں اور صحت کے مسائل میں مبتلا افراد کے لیے۔

ارشٹ راک پائلٹ سکیم کا حصہ بننے کے لیے شہروں کو اس لیے منتخب کیا جاتا ہے وہاں ناصرف شدید گرمی پڑتی ہے بالکہ ان کے میئرز اور مقامی حکومتیں جدید حل بھی اپناتی ہیں۔

ای ایچ اوز ہر انفرادی جگہ کے مطابق اپنے منصوبے تیار کرتے ہیں- چاہے وہ امریکہ کے جنوب مشرق میں فارم ورکرز ہوں یا سیرا لیون میں مارکیٹ کے تاجر، یا یونان میں پنشنرز۔

ان خواتین کے ’خفیہ‘ واٹس ایپ میسج گروپ کا ذکر کرتے ہوئے بشریٰ نے کہا کہ وہ اپنے ساتھی سی ایچ اوز سے سیکھنے کی خواہش مند ہیں۔

انہوں نے کہا، ’میں انہیں جاننے اور ان کے ساتھ کام کرنے کی منتظر ہوں، ان کے پاس اتنا تجربہ ہے کہ مجھے یقین ہے مجھے زیادہ مؤثر طریقے سے کام کرنے میں مدد ملے گی۔‘

آرشٹ-راک کی ڈائریکٹر اور سی ایچ او پروگرام کی ماسٹر مائنڈ، کیتھی باؤمن میکلوڈ نے دی انڈیپنڈنٹ کو بتایا کہ ان کرداروں کے لیے خواتین کو جان بوجھ کر منتخب کیا گیا تھا کیونکہ خواتین غیر متناسب طور پر متاثر ہوتی ہیں۔

2050  تک خطرناک حد تک گرم دنوں کی تعداد کا تخمینہ دوگنا ہو جائے گا، اور خواتین اور لڑکیوں سب سے زیادہ متاثر ہوں گی۔

انتہائی گرمی ناصرف خواتین کی صحت کو متاثر کرتی ہے، بلکہ وہ پیس ورک، گھریلو کام، بچوں اور بوڑھوں کی دیکھ بھال جیسی دنیا بھر کی غیر رسمی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔

باؤ مین میکلوڈ نے کہا، ’خواتین کو کام کی قیادت سونپنا سمجھ میں آتا ہے، یہ ایک اچھی سرمایہ کاری ہے۔‘

غریب ممالک کے بہت سے بڑے شہروں کو اوورلیپنگ آب و ہوا اور ماحولیاتی خطرات کا سامنا ہے اور دو کروڑ20 لاکھ سے زیادہ آبادی والا شہر ڈھاکہ بھی ان میں شمار ہوتا ہے۔

تیزی سے بڑھتا ہوا یہ شہر گنجان آباد ہے، جس کا درجہ حرارت دیہی علاقوں سے 10 سیلسیس زیادہ ہو سکتا ہے۔

سماجی بہبود، حکومت اور مائیکرو فنانس میں پبلک اور نجی سیکٹر کا پس منظر رکھنے والی بشریٰ کا کہنا ہے، ’لوگوں کو واقعی موت کا خطرہ ہے، مجھے نہیں معلوم اسے اور کیسے بیان کیا جائے۔ آپ اپنے جسم سے ساری گرمی نکالنے کے لیے اتنا پسینہ نہیں نکال سکتے۔‘

حالیہ گرمی کی لہر سے ڈھاکہ میں زیادہ آتشزدگیوں کے باعث پہلے سے سنگین فضائی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ’ایک ایسا ماحول بن گیا جس میں گھر سے باہر قدم نکالنا بھی خطرناک ہے۔‘

ڈھاکہ میں روزانہ دو ہزار سے زیادہ لوگ آ رہے ہیں جن کے پاس غیر رسمی بستیوں میں رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

بشریٰ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ ایسی دیہی کسان اور ماہی گیر ہیں جو دیگر موسمیاتی آفات کی وجہ سے اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

بنگلہ دیش کا دو تہائی حصہ سطح سمندر سے 15 فٹ سے بھی کم بلندی پر ہے اور بڑھتے ہوئے سمندر اور گرمی کے باعث آنے والے طوفانوں نے لاکھوں ایکڑ اراضی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

بشریٰ ایک ’ہارم چین‘ کی بات کرتی ہیں جہاں لوگوں کو بڑی حد تک مناسب صفائی یا پینے کے پانی تک رسائی حاصل نہیں۔ انتہائی درجہ حرارت میں زندہ رہنے کے لیے، انہیں تھوڑی سی حفاظت کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا، ’یہ ہاؤسنگ کوارٹر مکمل طور پر دھات سے بنے ہوئے ہیں، گرمی میں سب سے بری چیز۔ اس (حالیہ) ہیٹ ویو کے دوران، جو میرے سننے میں آتا رہا وہ یہ تھا کہ رات کو کوئی نہیں سو سکتا تھا، گھر تندوروں کی طرح محسوس ہوتے تھے۔‘

صرف امیر ہی ائرکنڈیشنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں اور بہت سے غیرروایتی گھروں والے علاقوں میں، سکون کی خاطر نہانے کے لیے رات کو بھی ٹھنڈا پانی نہیں ہوتا، یہاں تک کہ پائپ لائنوں سے آنے والا پانی بھی گرم ہوتا ہے۔

بشریٰ نے کہا، ’یہ صحت عامہ کا بحران ہے۔ لوگوں کو اپنے بنیادی انسانی حق تک رسائی حاصل نہیں کہ وہ خود کو ٹھنڈا رکھ سکیں۔‘

باؤ مین میکلوڈ نے کہا، }طویل مدتی بنیادی ڈھانچے کی تبدیلیوں میں وقت لگتا ہے، سی ایچ اوز کی پہلی ترجیح عوام میں آگاہی پھیلانا ہے۔ ‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میامی میں دنیا کی پہلی سی ایچ او جین گلبرٹ نے مئی/اکتوبر کو گرمی کے سرکاری موسم کے طور پر نامزد کرنے کے لیے شہر کے ساتھ مل کر کام کیا۔

جین گلبرٹ نے گذشتہ سال فاسٹ کمپنی کو بتایا کہ فلوریڈا کے اندر، ریڈیو کو کچھ کمیونٹیز میں خاص طور پر مقبول پایا گیا تھا اس لیے ہیٹی اور فارم ورکرز کے ریڈیو چینلز پر کثیر لسانی عوامی اعلانات نشر کیے گئے۔

شہر کے ان حصوں میں جہاں گرمی سے متعلق سب سے زیادہ بیماریاں ہیں وہاں بل بورڈز اور بس سٹاپس پر پوسٹروں کے ذریعے گرمی میں باہر نکلنے کے متعلق خبردار کیا گیا۔

سینٹیاگو میں، سی ایچ او کرسٹینا ہیڈوبرو 20 لاکھ ڈالر کے شہری درخت لگانے کے پروگرام کی نگرانی کر رہی ہے۔

فری ٹاؤن کی سی ایچ او ایوگینا کارگبو کو مارکیٹ کے تاجروں سے پتہ چلا کہ ان کی سب سے بڑی ضرورت سٹالوں کو ڈھانپنا ہے۔

یہ نسبتاً آسان، جلد حل ہے جو ناصرف انہیں بچاتا ہے بلکہ ان چیزوں کو بھی بچاتا ہے جن سے وہ روزی کماتے ہیں۔

تیزی سے قریب آتے موسم گرما کے ساتھ بشریٰ کی توجہ بھی اسی طرح ڈھاکہ میں عوامی آگاہی پر مرکوز ہے اور وہ مقامی گروپوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں کہ ان تک کیسے جلد رسائی حاصل کی جائے جنہیں سب سے زیادہ خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا، ’میں ہیٹ پر کام کرنے کے لیے بہت شکر گزار ہوں، یہ بہترین وقت ہے۔ ہر کوئی خطرے میں ہے۔ میں ناصرف اپنی بیٹی کے لیے بلکہ دوسرے تمام بچوں کے لیے ایک ٹھنڈا، مساوی مستقبل چاہتی ہوں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین