صرف ضیا دور میں سیاسی کارکنان کا کورٹ مارشل ہوا: ماہرین قانون

فوجی عدالتوں کے اعلان کے بعد ایک بحث یہ بھی چل رہی ہے کہ کیا سیاسی کارکن کو بھی دہشت گردوں کی طرح ان عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیے؟

کور کمانڈر ہاؤس لاہور جسے نو مئی 2023 کو مشتعل مظاہرین نے احتجاج کے دوران نقصان پہنچایا تھا (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان میں نو مئی کو تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف فوجی تنصیبات پر حملوں کے مقدمات کا سامنا ہے۔ بیشتر زیر حراست بھی ہیں اور 45 افراد کو اب تک کارروائی کے لیے فوج کے حوالے کیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب آرمی ایکٹ کے تحت سویلین کے فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کے خلاف قانون دان اعتزاز احسن کی درخواست پر سپریم کورٹ میں مقدمہ زیر سماعت ہے۔

قانون دانوں کی جانب سے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمات کی سماعت سے متعلق مختلف پہلوؤں پر بحث جاری ہے۔

بعض تجزیہ کار یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ کیا ماضی میں عام شہریوں پر دہشت گردی کے الزام کے تحت مقدمات چلائے گئے تھے لیکن نو مئی کے واقعات کی وجہ سیاسی اختلاف تھا نہ کہ دہشت گردی۔

سینیئر قانون دان حامد خان کے بقول: ’جن افراد نے فوجی علاقوں میں جلاؤ گیھراؤ کیا ان کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے لیکن اس کے لیے سول عدالتیں موجود ہیں۔‘

فوجداری مقدمات کے سینیئر قانون دان برہان معظم کے مطابق: ’اگر فوجی تنصیبات پر حملوں کو دہشت گردی کے حملے قرار دیا جاتا ہے اور اس حوالے سے فوجی ایکٹ کے تحت ملوث ملزمان پر مقدمہ چلانا ہے تو پہلے کی طرح قانون میں پارلیمان سے ترمیم کروانا لازم ہے۔‘

لاہور ہائی کورٹ کے سابق جسٹس ظفر اللہ خان کے مطابق: ’یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے جو سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ لہذا عدالت دیکھے گی کہ کیا حملہ کرنے والوں کا مقصد دہشت گردی تھا، اس میں صرف سویلین ملوث ہیں اور کیا کسی سیاسی جماعت کے اگر کارکن ہیں تو ان کا مقصد احتجاج تھا جس کے دوران اشتعال پھیلا یا یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت حملہ تھا؟‘

سابق صدر ہائی کورٹ بار لاہور مقصود بٹر نے کہا کہ ’ہمارا مطالبہ ہے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی آئین کے تحت تشریح کی جائے جو آئین کہتا ہے اس پر عمل کیا جائے۔‘

سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن حامد خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کسی بھی جرم میں ملوث افراد کو قانون کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ ملکی تاریخ میں جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے دوران سیاسی کارکنوں کا کورٹ مارشل ہوا تھا۔ اس وقت آئین بھی معطل تھا اور بنیادی انسانی حقوق بھی سلب تھے۔ اس کے بعد یا پہلے کسی سیاسی کارکن یا رہنما کا کورٹ مارشل نہیں ہوا نہ ہی ایسی کوئی مثال موجود ہے۔

’ملک میں جیسا بھی جرم ہو اس کے لیے آئین میں ہر طرح کی سزا و جزا موجود ہے۔ عدالتیں موجود ہیں حتی کہ دہشت گردی میں ملوث ملزمان کے لیے الگ سے انسداد دہشت گردی کی عدالتیں بنی ہوئی ہیں۔ لہذا جس کسی پر بھی دہشت گردی کا مقدمہ ہو وہ بھی انسداد دہشت گردی عدالتوں میں چلایا جاسکتا ہے۔‘

لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج ظفر اللہ خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کا معاملہ سپریم کورٹ دیکھ رہی ہے۔ عدالت اس معاملے میں یہ بھی دیکھے گی کہ اس میں کون لوگ ملوث ہیں، ان کے کیا عزائم تھے، یہ صرف احتجاج کے دوران اشتعال میں ہوا یا کوئی سازش رچائی گئی تھی؟‘

جسٹس ریٹائرڈ ظفر اللہ خان کے بقول ’یہ اپنی نوعیت کا الگ کیس ہے جس میں عدالت عظمی تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر کوئی فیصلہ دے گی۔ اس فیصلہ میں طے ہوگا کہ قانونی طور پر کیا ہوسکتا ہے کیا نہیں ہوسکتا کیوں کہ یہ فیصلہ آئندہ کے لیے بھی مثال ہوگا۔ اگر ان واقعات کو دہشت گردی کے جرائم میں شامل کیا جاتا ہے تو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اگر یہ کسی تنظیم کے کارکن ہیں وہ تنظیم کالعدم ہے یا اس کا مقصد دہشت گردی ہے۔‘

حکومتی اہلکار اور تحریک انصاف کے بعض مخالفین کا موقف ہے کہ اگر نو مئی کے حملوں میں ملوث افراد عام سیاسی کارکن بھی ہوں، ان کا جرم یعنی فوجی تنصیبات پر حملہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے لہذا فوجی عدالتوں میں ان پر مقدمات چلائے جاسکتے ہیں۔

شفاف انصاف کا قانونی حق

فوجداری مقدمات کے سینئر قانون دان برہان معظم نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آئین پاکستان کا آرٹیکل 10 اے ہر شہری کو شفاف انصاف (فیئر ٹرائل) کا حق دیتا ہے۔ نو مئی کے واقعات میں جو بھی ملوث ملزمان ہیں وہ پاکستانی شہری ہیں اور سویلین ہیں۔ لہذا پہلے تو شفاف انصاف کا حق انہیں آئین دیتا ہے، جس میں غیرجانبدار جج اور وکیل کا میسر ہونا لازمی ہے۔ اگر ان کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں کیا جاتا ہے تو نہ انہیں وکیل دستیاب ہوگا نہ ہی غیر جانبدار جج کیوں کہ وہاں فوجی افسر ہی فیصلہ کرتے ہیں۔ جس ادارے کی طرف سے الزام عائد کیا گیا ہے اسی کے افسران سزائیں سنائیں گے؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برہان معظم کے بقول: ’اگر ان ملزمان کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں میں کارروائی ناگزیر ہے تو پھر پہلے کی طرح پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کرائی جائے۔ جس طرح کچھ عرصہ پہلے دہشت گردوں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کے لیے دو سال مدت مقرر کر کے پارلیمنٹ نے قانون میں ترمیم کی تھی۔ اس ترمیم کے تحت سویلین دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی ہوئی تھی جو اب ختم ہوچکی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’دوسرا یہ کہ فوجی تنصیبات کی تشریح ہونا بھی لازمی ہے جس طرح پولیس جیو فینسگ یا جیو گرامیٹک سے لوگوں کی موجودگی کی بنیاد پر حراست میں لے رہی ہے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جائے وقوعہ پر موجود شخص جرم میں بھی شریک تھا۔ کنٹونمنٹ میں سویلین بھی رہتے ہیں وہ نوگوایریاز نہیں ہیں۔‘

ان کا سوال تھا کہ ’اگر کہیں کوئی نمائشی جہاز یا کوئی یاد گار بنی ہے تو کیا وہ فوجی تنصیبات کی تشریح میں آتے ہیں یا نہیں اس کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔‘

پاکستان میں جہاں حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتیں نو مئی کے واقعات میں ملوث سیاسی کارکنوں کے فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کے حق میں ہیں وہیں چند سیاسی جماعتیں اس کی مخالفت بھی کر رہی ہیں۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ انتقام کی سیاست کی مخالفت کی ہے اور وہ سیاسی کارکنوں کے فوجی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کے خلاف ہے۔

جماعت اسلامی کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف بھی اس کی مخالفت کر رہی ہے جس کے کارکنان کے بارے میں حکومت کا موقف ہے کہ وہ رہنماؤں کے کہنے پر جلاؤ گھیراؤ میں ملوث ہوئے تاہم پی ٹی آئی نے ایسے تمام افراد سے اعلان لا تعلقی کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان