انڈیا: مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام

ایوان میں وزیر اعظم مودی نے اپوزیشن ارکان پر تنقید کی اور کہا کہ ’جو لوگ جمہوریت پر بھروسہ نہیں کرتے وہ ہمیشہ بیان بازی کے لیے تیار رہتے ہیں لیکن ان میں (جواب) سننے کا حوصلہ نہیں ہے۔‘

10 اگست 2023 کو انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی ایک ٹیلی ویژن سکرین پر دکھائی دے رہے ہیں جس میں وہ نئی دہلی میں ایوان زیریں (لوک سبھا) سے خطاب کر رہے ہیں (سند سند سکرین گریب)/

جمعرات کے روز انڈین لوک سبھا میں تین روزہ بحث کے اختتام پر وزیر اعظم نریندر مودی کی دھواں دھار تقریر کے بعد تحریک عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہو گئی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹیلی ویژن پر تصاویر میں دکھایا گیا کہ کانگریس پارٹی کے رہنما راہل گاندھی سمیت حزب اختلاف کے ارکان پارلیمنٹ کے ایوان سے واک آؤٹ  کے کچھ ہی دیر بعد ایوان زیریں کے سپیکر کی ہدایت پر ارکان نے تحریک عدم اعتماد پر زبانی ووٹ دیا جس کے بعد تحریک ناکام ہو گئی۔

اے ایف پی کے مطابق وزیراعظم نے اپنی تقریر کے پہلے 60 منٹ تک منی پور ریاست میں ہونے والے تشدد کا ذکر نہیں کیا جس کی وجہ سے حزبِ اختلاف کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔

 وزیر اعظم مودی نے تقریر میں اپوزیشن ارکان کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ’جو لوگ جمہوریت پر بھروسہ نہیں کرتے وہ ہمیشہ بیان بازی کے لیے تیار رہتے ہیں لیکن ان میں (جواب) سننے کا حوصلہ نہیں ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ وہ لوگ ’برا کہتے اور بھاگ جاتے ہیں۔ کچرا پھینکتے اور بھاگ جاتے ہیں۔ جھوٹ پھیلاتے اور بھاگ جاتے ہیں۔

’یہ ان کا کھیل ہے اور ملک کو ان سے اس سے زیادہ توقع بھی نہیں ہے۔‘

مودی کے بقول: ’میں کانگریس پارٹی کے مسئلے کو سمجھ سکتا ہوں۔ وہ ایک ہی ناکام پروڈکٹ کو بار بار متعارف کرواتے رہے ہیں، لیکن یہ پروڈکٹ ہر بار ناکام ہو جاتی ہے۔‘

اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کے مطابق اپوزیشن کی این ڈی اے کی حکومت کے تحریک عدم اعتماد کے جواب میں مودی نے لوک سبھا سے خطاب کیا۔

قبل ازیں وزیر اعظم آفس نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’آج شام تقریباً چار بجے وزیر اعظم نریندر مودی تحریک عدم پر بحث میں حصہ لیں گے۔‘ 

اپوزیشن نے 26 جولائی کو لوک سبھا سپیکر اوم برلا کے پاس مودی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروائی تھی۔ یہ دوسرا موقع ہے جب مودی حکومت کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے منگل کو اس تحریک پر بحث کا آغاز کیا جو بعد میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تندوتیز بحث میں تبدیل ہو گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈین اخبار ’دی ہندو‘ کے مطابق تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر پرل ہاد جوشی کی حمایت سے اپوزیشن لیڈر ادھیر رنجن چوہدری کی معطلی کے ساتھ ایوان کی کارروائی ختم ہوگئی۔

دن کے دوران پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جس کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے کارروائی ملتوی کردی گئی۔

اپوزیشن کے شدید احتجاج کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کردی گئی جب کہ چیئرمین جگدیپ دھنکر نے منی پور میں تشدد پر بحث کے لیے اپوزیشن اور حکمراں جماعت کے درمیان گرما گرمی کے بعد راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی کردی۔

لوک سبھا میں عدم اعتماد کی تحریک پر بحث دوپہر 12 بجے دوبارہ شروع ہوئی۔

بحث کا آغاز کرنے والی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن اور کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری سمیت دونوں طرف سے کئی مقررین کے درمیان تندوتیز جملوں کا تبادلہ ہوا۔

قبل ازیں حال میں بحال ہونے والے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بدھ کو ایوان میں حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے منی پور میں انڈیا کو قتل کر دیا۔‘

ان کی تقریر کے جواب میں مرکزی وزیر سمرتی ایرانی کا کہنا تھا کہ ’آپ انڈیا نہیں ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا