سعودی کلب کا پاکستانی خاتون فٹ بالر ماریہ خان سے معاہدہ

سعودی عرب کے فٹ بال کلب ایسٹرن فلیمز نے پاکستانی خاتون فٹ بالر ماریہ خان سے معاہدہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی عرب کے فٹ بال کلب ایسٹرن فلیمز نے پاکستانی خاتون فٹ بالر ماریہ خان سے معاہدہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کلب کے ایکس اکاؤنٹ (سابقہ ٹوئٹر) پر کی جانے والی پوسٹ میں کہا گیا کہ ’کلب نے پہلی غیر ملکی خاتون فٹ بالر سے معاہدہ کر لیا ہے جس کا مقصد ویمن پریمیئر لیگ کے رواں سیزن کے دوران اپنی فٹ بال ٹیم کی رینکنگ کو بہتر بنانا ہے۔‘

ماریہ خان پاکستان فٹ بال ٹیم کی کپتان ہیں۔ رواں سال فروری میں ماریہ خان نے سعودی عرب میں کھیلے جانے والے ایک میچ کے دوران فری کک پر گول سکور کیا تھا جس کے چرچے سوشل میڈیا پر زبان زد عام تھے۔

کلب کی ویب سائٹ کے مطابق ایسٹرن فلیمز فٹ بال کلب سعودی عرب کا پہلا خواتین فٹ بال کلب ہے جس کی بنیاد 2006 میں رکھی گئی تھی۔

سنہ 2020 اور 2021 میں یہ کلب سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں ہونے والے مقابلوں کا فاتح رہا ہے۔

کلب کی ویب سائٹ کے مطابق اس کلب میں معیاری کوچز اور سٹاف شامل ہے جو ایک مضبوط ٹیم بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

کلب میں معاشی مشکلات کا سامنا کرتے اور جسمانی طور پر معذور افراد کو بھی رسائی دی گئی ہے جبکہ اس کے علاوہ یہ کلب کئی بین الااقوامی اور غیر ملکی کلبز کے ساتھ بھی کھیلوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے اشتراک کرتا ہے۔

سعودی عرب کی حکومت نے ملک اور خطے میں فٹ بال کے فروغ کے لیے دنیا بھر کے بڑے کھلاڑیوں کو اپنے کلبز میں شمولیت کے منصوبے پر کام شروع کر رکھا ہے۔

اس حوالے سے پرتگال کے عالمی شہری یافتہ کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو پہلے ہی سعودی کلب النصر کا حصہ بن چکے ہیں جبکہ حال ہی میں فرانس کے کھلاڑی کیلیئن ایمباپے کو الہلال کلب کا حصہ بنانے کے لیے 25 کروڑ 90 لاکھ  ڈالر کی پیش کش کی جو ایک عالمی ریکارڈ ہے۔

کیلیئن ایمباپے اس وقت فرانسیسی کلب پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) میں شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے علاوہ سویڈن کے کریم بینزیما بھی سعودی عرب کے کلب الاتحاد کے ساتھ معاہدہ کر چکے ہیں۔

کھیل میں سرمایہ کاری

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سپورٹس کلبوں میں سرمایہ کاری اور نج کاری منصوبے کا آغاز کیا جو کھیلوں کے منظرنامے کو ترقی دینے کے لیے وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے یہ اعلان منصوبے کی تعمیل کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد کیا ہے۔ سعودی حکومت کھیلوں کی صنعت میں نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے اور اس کو کھیلوں کے شعبے کی ترقی میں حصہ ڈالنے کے قابل بنانا چاہتی ہے۔

ایس پی اے کے مطابق منصوبے کی موجودہ حیثیت کے دوجزو ہیں۔ پہلے حصے میں کھیلوں کے کلبوں میں بڑی کمپنیوں اور ترقیاتی ایجنسیوں کی سرمایہ کاری کی منظوری شامل ہے تاکہ انہیں کلبوں کی ملکیت منتقل کی جاسکے۔ دوسرے حصے میں 2023 کی آخری سہ ماہی سے شروع ہونے والے متعدد سپورٹس کلبوں کی نج کاری شامل ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال