سیلاب کے ایک سال بعد بھی لاکھوں پاکستانی بچے امداد کے منتظر

یونیسف نے ایک بیان میں کہا کہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں ’15لاکھ سے زائد بچوں کو زندگی بچانے والی خوراک کی ضرورت ہے۔‘

4 ستمبر 2022 کو صوبہ پنجاب کے ضلع راجن پور میں مون سون کی شدید بارشوں کے بعد سیلاب سے متاثرہ بے گھر افراد سیلاب زدہ علاقے میں ریلوے ٹریک کے ساتھ پناہ لیے ہوئے ہیں۔ (عارف علی/اے ایف پی)

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ’یونیسیف‘ نے جمعے کو ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ گذشتہ سال پاکستان کی تاریخ کے بدترین سیلاب کی تباہ کاریوں اور ہنگامی حالت کے اعلان کے ایک سال بعد بھی لاکھوں بچے انسانی امداد اور ضروری خدمات تک رسائی  کے منتظر ہیں۔

یونیسیف نے ایک بیان میں کہا کہ رواں سال  مون سون بارشوں کی وجہ سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پہلے سے ہی مشکل حالات  مزید بدتر ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں اب تک  87  بچے موت کا شکار ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے اندازوں کے مطابق ’اب بھی 80 لاکھ افراد جن میں سے نصف بچے ہیں، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صاف پانی تک رسائی سے محروم ہیں۔‘

یونیسیف کی طرف سے کہا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں ’15 لاکھ سے زائد بچوں کو زندگی بچانے والی خوراک کی ضرورت ہے، جب کہ یونیسیف کی اپیل میں زندگیاں بچانے  کی کوششوں  کے لیے مانگی گئی  173.5 ملین (17.35کروڑ) امریکی ڈالر کی امداد کا محض 57 فیصد فراہم ہوسکا  ہے۔‘

پاکستان میں یونیسیف کے سربراہ عبداللہ فاضل نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے خطرات کے شکار  بچوں نے ایک سال خوف کے سایے تلے گزارا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی  سے ہونے والی  تباہیوں  کا خدشہ بڑھتا جارہا ہے۔ بحالی  کی کوششیں جاری ہیں، لیکن بہت سے لوگوں تک اب بھی  کوئی مدد نہیں پہنچ سکی ہے اور پاکستان کے بچوں کو فراموش کیے جانے کا خطرہ ہے۔

گزشتہ سال آنے والے سیلاب سے  ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب آگیا تھا جس سے تین کروڑ تیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ،جن میں سے نصف بچے تھے۔

اقوام متحدہ کی تنظیم کے مطابق ’سیلاب سے اہم انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا مکمل تباہ  ہوگیا۔ ان میں 30 ہزار سکول، دو ہزار صحت کے مراکز اور 4300 پانی کی فراہمی کی سہولیات شامل ہیں۔‘

اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں گذشتہ سال کے سیلاب کے آنے سے پہلے ہی ملک میں ایک تہائی بچے سیلاب اسکولوں سے باہر تھے۔

گزشتہ 12 ماہ کے دوران یونیسیف نے 21 لاکھ  بچوں میں  شدید غذائی قلت  کی جانچ کی، ’جو ایک ایسی حالت ہے  جس میں بچے اپنے قد کے لحاظ سے بہت پتلے  ہوتے ہیں ،  اور ان میں سے  172 ہزار بچوں کا ان کی  زندگیاں بچانے  کے لیے علاج کیا جا رہا ہے۔‘

یونیسیف کے پاکستان میں سربراہ عبداللہ فاضل کا بیان میں کہنا تھا کہ ’ہم پاکستان کے بچوں کو نہیں بھول سکتے۔ سیلاب کا پانی اُتر  گیا ہے، لیکن اس موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے دوچار  علاقے میں ان کی پریشانیاں ابھی   برقرار ہیں۔‘

حالیہ سیلاب 

پاکستان میں رواں سال بارشوں نے بھی ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کو زیادہ متاثر کیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق حالیہ بارشوں کا یہ سلسلہ 27 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ تمام بڑے دریاؤں کے بالائی علاقوں میں بھی بارشیں متوقع ہیں۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صوبہ پنجاب کے دریائے ستلج میں رواں ہفتے سیلاب کے باعث بہت سے علاقے زیر آب گئے اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے صوبائی ادارے کے مطابق لگ بھگ ایک لاکھ افراد کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔ پاکستان میں حکام کہہ چکے ہین کا کہ حالیہ مون سون بارشوں کے باعث انڈیا نے دریائے ستلج میں اضافی پانی چھوڑا جو کہ سیلاب کا سبب بنا۔

تاہم انڈیا کی طرف سے اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

پنجاب ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے سربراہ عمران قریشی نے رواں ہفتے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ حالیہ سیلاب نے صوبے میں تقریباً ایک لاکھ ایکڑ سے زیادہ رقبے کو متاثر کیا ہے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ ستلج میں سیلاب سے 583 گاؤں متاثر ہوئے، عمران قریشی نے مزید بتایا تھا کہ 16 ہزار سے زیادہ مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات تک منتقل کیا گیا ہے۔  

پی ڈی ایم اے کے مطابق ملک کے دونوں بڑے پانی کے ذخائر منگلا اور تربیلا ڈیم 100 فیصد بھر چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان