داعش خراسان کمزور، مگر میدان سے باہر نہیں

2019 میں امریکہ، افغان نیشنل آرمی اور طالبان فورسز کی جانب سے مربوط زمینی اور فضائی حملے کے بعد داعش خراسان کو کئی علاقائی دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا۔

فائل فوٹو: نامعلوم تاریخ کی اس تصویر میں شدت پسند تنظیم داعش سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو اسلحے کے ہمراہ دیکھا جا سکتا(اے ایف پی)

داعش خراسان کے افغانستان اور پاکستان میں ایک خطرناک گروپ کے طور پر موجودگی کے حوالے سے دو متضاد رائے ہیں۔

2015 میں اپنی ابتدا کے بعد داعش خراسان نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ اس کی موجودگی برقرار رہی اور ہائی پروفائل اور بڑے پیمانے پر حملوں کو انجام دیتے ہوئے اپنی موجودگی ظاہر کرتی رہی۔

 پروپیگنڈے کی نفاست اور برانڈ بنانے، بھرتی اور مواصلات کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال میں دیگر علاقائی عسکریت پسند گروپوں میں داعش سب سے آگے ہے۔

بہرحال ماہرین اور تجزیہ کاروں کے ایک مکتبہ فکر کی رائے ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں داعش خراسان کا خطرہ ایک حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

یہ گروپ اتنا مضبوط نہیں ہے جتنا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دوسرے گروپ ہیں لیکن داعش کی بہتریں انداز میں نمائش کی صلاحیت اسے خطرناک دکھاتی ہے۔

 2019 میں امریکہ، افغان نیشنل آرمی اور طالبان فورسز کی جانب سے مربوط زمینی اور فضائی حملے کے بعد داعش خراسان کو کئی علاقائی دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم داعش خراسان نے افغانستان کے شہری علاقوں میں اپنے تنظیمی ڈھانچے کو کئی سیل فارمیشنز میں منتقل کر کے علاقائی کنٹرول سے بڑے پیمانے پر حملوں کی طرف اپنی توجہ کو مبذول کیا۔

اگست 2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد سے داعش خراسان نے بڑے پیمانے پر حملے کی حکمت عملی کو جاری رکھا لیکن اس کے ساتھ ہی اپنی توجہ طالبان کی حکومت کو نقصان پہنچانے پر مرکوز کر دی جس میں پہلا کام افغانستان میں امن اور امن بحال کرنے کی ان کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

جبکہ دوسرا ان کی نظریاتی بنیادوں کو پروپیگنڈے کے ساتھ نشانہ بنانا تھا۔

18 ماہ تک جدوجہد کرنے کے بعد طالبان نے داعش خراسان کے خطرے کے حوالے سے اپنے سکیورٹی ردعمل کو بہتر بنایا اور اس کے کئی رہنماؤں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ پورے افغانستان میں اس کے شہری نیٹ ورکس کو اکھاڑ پھینکا۔

نتیجتاً افغانستان میں داعش کے حملوں کی نہ صرف تعداد اور شدت میں کمی آئی بلکہ گروپ کی اپنی سوشل میڈیا آپریشنز کی رفتار بھی کم ہو گئی۔

ایک اور عنصر، جس نے داعش خراسان کی کمزوری میں بھی حصہ ڈالا، وہ ہے طالبان کا ترک حکام کے ساتھ اس کی مالی فنڈنگ بند کرنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق داعش خراسان کی مالیات کا زیادہ تر حصہ ترکی سے آتا تھا۔ عراق اور شام میں علاقائی کنٹرول کھونے کے بعد داعش نے اپنی مالیات اور بقیہ اثاثے ترکی منتقل کر دیے تھے۔

بہر حال ترکی سے مالیاتی بہاؤ میں رکاوٹ نے افغانستان میں داعش خراسان کے نیٹ ورک میں خلل ڈالا ہے۔

 یہ گروپ نہ صرف اپنے کام کرنے والوں کو تنخواہیں ادا کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہا ہے بلکہ وہ انھیں خوراک کی فراہمی میں بھی ناکام رہا ہے۔

 اس نے داعش خراسان کو مجبور کیا کہ وہ مالیاتی خلا کو پر کرنے کے لیے افغانستان میں اپنے اثاثوں کے محفوظ مکانات کو ختم کرے۔

اس وقت یہ گروپ کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل مالیاتی ایپس کے ذریعے فنڈز حاصل کرنے کے لیے یورپ میں اپنے سپورٹ نیٹ ورکس پر انحصار کر رہا ہے جو کہ کم مقدار میں ہیں۔

یہ گروپ بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور نرم اہداف کو نشانہ بنانا اس کی کمزوری اور مایوسی کی علامت ہے۔

دوسرے مکتبہ فکر نے خبردار کیا ہے کہ ماضی کی مثالوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ داعش خراسان کو ختم کرنا مشکل ہے۔

 داعش خراسان نے ہمیشہ لشکر جھنگوی (LeJ) اور جند اللہ جیسے ہم خیال گروپوں کے ساتھ اپنے تعاون پر مبنی تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے، نظریاتی اور سیاسی فالٹ لائنوں کا استحصال کرتے ہوئے اور غیر روایتی بھرتی، تعلیم یافتہ اور متوسط اور اعلیٰ طبقے پر انحصار کرتے ہوئے زبردست تخلیقی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

اس مکتبہ فکر کے مطابق داعش خراسان نے افغانستان سے اپنے کارندوں کو پاکستان منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

داعش خراسان نے خیبر پختونخواہ کے قبائلی ضلع باجوڑ اور بلوچستان کے مستونگ ضلع میں اپنی مضبوط موجودگی ظاہر کی ہے۔

 اسی طرح داعش نے بلوچستان میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

 داعش خراسان نے سیاسی جماعتوں پر اپنے حملوں کو اپنی نام نہاد ’جمہوریت کے خلاف مہم‘ کا حصہ قرار دیا ہے۔

اس میں ذکر کیا گیا ہے کہ داعش خراسان جمہوریت کو غیر اسلامی اور مسلم ممالک میں اس میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کو ’مرتد‘ سمجھتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

داعش خراسان کے حملوں اور ذمہ داری کے دعوؤں کو دیکھیں تو یہ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ اس گروپ نے پاکستان میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات پر اپنی نظریں جما رکھی ہیں۔

جہاں اس کا مقصد انتخابی ریلیوں اور اجتماعات کو نشانہ بنانا ہے تاکہ اس کے جمہوریت مخالف پروپیگنڈے کو ہوا دی جائے۔

مزید برآں داعش خراسان پاکستان کے آپس میں جڑے ہوئے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی بحرانوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور وہ اپنے فائدے کے لیے ان فالٹ لائنوں کا فائدہ اٹھانے میں ماہر ہے۔

یہ گروپ اب بھی اسلام آباد اور لاہور جیسے پاکستان کے اہم شہروں سے انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے پروپیگنڈے کے لیے حساس اور کمزور لوگوں کو بھرتی کر رہا ہے۔

حال ہی میں لاہور سے داعش سے تعلق رکھنے والی پانچ خواتین کو گرفتار کیا گیا۔

 اسی طرح اسلام آباد میں ایک پڑھے لکھے اور امیر گھرانے سے تعلق رکھنے والے نوجوان کو داعش خراسان کا پروپیگنڈہ چلانے پر گرفتار کیا گیا۔

وہ مارگلہ کے پہاڑیوں سے اسلام آباد کی ایک ویڈیو کی شوٹنگ میں بھی ملوث تھا جسے داعش خراسان کے پروپیگنڈہ ونگ العظیم فاؤنڈیشن نے ’ہم آرہے ہیں‘ کے عنوان سے چلایا تھا۔

ویڈیو نے اس حوالے سے اہم سراغ فراہم کیے جس کے سبب اس نوجوان کی گرفتاری ہوئی۔

یہ مثالیں صرف اس غیر معمولی اور غیر متوقع انداز کی نشاندہی کرتے ہیں۔

بلاشبہ، داعش خراسان اس وقت کمزور ہے اور اپنے کارندوں کا بڑا حصہ افغانستان سے پاکستان منتقل کر کے اور ملک میں اپنے حملوں کو تیز کرکے بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔

 تاہم کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہو گا اور اس گروپ کو عملی اور نظریاتی طور پر ختم کرنے کے لیے مسلسل چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار سنگاپور میں ایس راجارتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز میں ریسرچ فیلو ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ