وطن واپس لوٹنے والے افغانوں کی تعداد میں اضافہ: حکام

افغان طالبان کی حکومت کی وزارت برائے پناہ گزین نے بتایا ہے کہ ایران اور پاکستان سے روزانہ 10 ہزار افغانوں کی واپسی ہو رہی ہے۔

افغان شہری اپنے اہل خانہ کے ساتھ چھ اکتوبر 2023 کو ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں ایک گاڑی کے قریب کھڑے افغانستان واپسی کے لیے تیار ہیں (عبدالمجید/ اے ایف پی)

حکام کا کہنا ہے کہ سرد موسم کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان اور ایران سے افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا عمل تیز ہوگیا ہے۔

افغان طالبان کی حکومت کی وزارت برائے پناہ گزین نے بتایا ہے کہ ایران اور پاکستان سے روزانہ 10 ہزار افغانوں کی واپسی ہو رہی ہے۔

پاکستان اور ایران دونوں نے کہا ہے کہ وہ غیر دستاویزی افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کر رہے ہیں لیکن پاکستان سے موصول ہونے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ دستاویزات کے حامل افغان بھی وہاں محفوظ نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ سمیت کئی اداروں نے افغانستان کے پڑوسی ممالک سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان پناہ گزینوں کو زبردستی ملک بدر نہ کریں۔

حکومت پاکستان کی طرف سے غیرقانونی پناہ گزینوں کے حوالے سے دی جانے والی ڈیڈ لائن یکم نومبر کو ختم ہو رہی ہے۔

چمن کے راستے افغانستان جانے والے پناہ گزینوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ریڈیو پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق اب تک پاکستان سے 59 ہزار 561 افغان پناہ گزین اپنے وطن جاچکے ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق ملک میں مقیم 17 لاکھ غیر ملکیوں میں وہ افراد شامل ہیں، جنہیں دستاویزات کی کمی یا ویزوں سے زائد عرصے تک قیام کرنے کی وجہ سے اپنے آبائی ممالک کو واپس جانے کے لیے کہا گیا ہے۔ حکومت نے حکم کی تعمیل میں ناکام افراد کو ’مرحلہ وار اور منظم طریقے سے‘ گرفتار کرنے اور ملک بدر کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ گذشتہ جمعے تک تقریباً 52 ہزار مرد، خواتین اور بچے افغانستان واپس جا چکے ہیں۔ پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق صرف جمعرات کو تین ہزار سے زیادہ افغان اپنے ملک واپس گئے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ تعداد معمول کے مطابق آمدورفت کی ہے یا نہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو نے ڈپٹی کمشنر چمن سے رابطہ کرکے یہ جاننا چاہا کہ اب تک کتنے پناہ گزین چمن کے راستے اپنے وطن جاچکے ہیں؟ جس پر انہوں نے بتایا کہ اب تک کی معلومات کے مطابق 13 ہزار افغان پناہ گزین رضاکارانہ طور پر اپنے ملک جا چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نگران وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے پیر کو جاری کیے گئے اپنے ایک بیان کہا کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں غیرقانونی غیرملکیوں کو دی گئی ڈیڈ لائن کے مطابق تمام انتظامیہ غیرملکیوں کو نکالنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

جان اچکزئی نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان پوری لگن اور جانفشانی سے یہ فریضہ انجام دے رہی ہے۔ ’ہم نے ایسے انتظامات کیے ہیں، جن کے ذریعے صوبے بھر سے چن چن کر ایسے لوگوں کو نکالا جائے گا جن کا تعلق پاکستان سے نہیں ہے۔ بلوچستان میں کوئٹہ، پشین اور قلعہ عبداللہ میں تین پوائنٹس بنائے گئے ہیں، تمام نئے داخل ہونے والے غیرقانونی غیرملکیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور پہلے سے موجود غیرقانونی افراد کو نکلنے کے لیے پورے ملک میں ڈیٹا بیس تیار کیا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایسے تمام افراد کے خلاف فارن ایکٹ کے تحت مقدمات بھی چلائے جاسکتے ہیں یا انہیں واپسی پر آمادہ کرنے کے لیے روایتی کوششیں بھی کی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں رہنے والے غیرقانونی غیرملکی رہائشیوں کی سرگرمیوں پر ریاست کو گہری تشویش ہے۔ ان کے مطابق ان میں سے بعض افراد قتل اور ڈکیتی جیسے سنگین جرائم میں بھی ملوث رہے ہیں اور بعض افراد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔

نگران صوبائی وزیر اطلاعات بلوچستان نے بتایا کہ اس سلسلے میں فہرستیں تیار کی جا رہی ہیں۔ ان تمام غیرقانونی غیرملکیوں کا ڈیٹا تیار کر لیا گیا ہے اور خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں، غیر ملکیوں کے کیسوں کو جلد نمٹانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔

 

جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ پاکستان بارڈر مینجمنٹ حکام اور اسلامی امارات افغانستان کے بارڈر آفیشلز کے درمیان ایک فلیگ شپ میٹنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں بارڈر مینجمنٹ کے معاملات زیر غور آئے۔

اجلاس میں پاکستان کی طرف سے نمائندگی ڈپٹی کمشنر چمن راجہ اطہر عباس نے کی جبکہ ان کے ہمراہ ایف سی سکاؤٹ کمانڈر چمن عمر جبار بھی موجود تھے۔

جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ اجلاس میں غیر قانونی افغان مہاجرین کے انخلا کے حوالے سے سہولیات کی فراہمی پر بات چیت کی گئی۔

’بارڈر پر آمدورفت کے حوالے سے اور بالخصوص مریضوں کو درپیش مشکلات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ون ڈاکیومنٹ رجیم اور لوکل کمیونیٹیز کو درپیش مسائل کے موثر حل کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان اچھے ماحول میں مشاورت کو جاری رکھنے پر اتفاقِ کیا گیا۔

ڈی سی چمن نے لوکل کمیونیٹیز کو درپیش مسائلِ کے موثر حل کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دھانی کروائی۔

دوسری جانب افغان نائب وزیر برائے امور مہاجرین مولوی عبدالرحمٰن راشد کی صدارت میں اقوام متحدہ کے کمشنر برائے پناہ گزین اور وزارت کے متعدد مرکزی سربراہان نے سہ فریقی اجلاس کے حوالے سے ابتدائی اجلاس میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

وزارت امور پناہ گزین کے پریس دفتر نے باختر ایجنسی کو ارسال ایک خبر میں کہا کہ اجلاس میں نائب وزیر نے پاکستان سے پناہ گزینوں کی جبری بے دخلی کا تذکرہ کرتے ہوئے اس سردی میں واپس آنے والوں کی مشکلات کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ وجہ یہ ہے کہ پاکستانی فریق نے اپنے ملک میں سہ فریقی (افغانستان، پاکستان اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین کے درمیان) اجلاس پر اتفاق نہیں کیا، اس لیے افغان وزارت نے فیصلہ کیا کہ یہ اجلاس کابل میں بلایا جائے گا اور اس مسئلے پر وزارت خارجہ اور اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کے ذریعے بات چیت کی جائے گی۔

 نائب وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے کابل میں ہونے والے مجوزہ اجلاس کے حوالے سے ابھی تک اتفاق رائے یا عدم اتفاق رائے سامنے نہیں آیا ہے اور ہم ان کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔

 اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین کے سربراہ لیونارڈ زولو نے وزارت امور پناہ گزین کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ جلد از جلد اس معاملے پر اپنی رضامندی یا عدم اتفاق واضح کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمشنری سہ فریقی اجلاس کے تیسرے فریق کے طور پر، رابطہ کاری اور اجلاس کے انعقاد میں تعاون کے لیے تیار ہیں اور ہم اس شعبے میں مزید ہم آہنگی چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ مجوزہ تجاویز کمیشن کے عہدیداروں کے ساتھ شیئر کریں گے۔

افغانستان کا کہنا ہے کہ اس نے صوبہ ننگرہار کے ضلع لعل پورہ میں پاکستان سے واپس آنے والے افغان پناہ گزینوں کے لیے ایک عارضی کیمپ کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ وزارت کا مزید کہنا ہے کہ اس کیمپ میں 500 خاندانوں کے رہنے کی گنجائش ہوگی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا