کچھ لوگ اکثر بیمار کیوں رہتے ہیں؟

آج کل ہر کوئی سردی سے پھیلنے والے فلو، عام زکام اور دیگر جراثیموں کے خلاف اپنی قوت مدافعت بڑھانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

پاکستان میں طویل عرصے سے بارشیں نہ ہونے کو فلو، نزلے اور زکام جیسی بیماریوں کا مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے (اینواتو)

ہوسکتا ہے کہ آپ کافی عرصے سے نزلہ، زکام اور فلو سے لے کر کوویڈ 19 تک مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں اور آپ کھانسی، زکام سے چھٹکارا پانے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔

پاکستان میں تو طویل عرصے سے بارشیں نہ ہونے کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے لیکن امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق ماہرین نے ایسے افراد کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے کئی آسان عادات تجویز کی ہیں، جو سردیوں میں ہر وقت کھانسی کے شربت اور دیگر ادویات استعمال نہیں کرنا چاہتے۔

ایک فارماسسٹ نوین کھوسلا اس بارے میں کہتے ہیں: ’کچھ لوگ بیماری سے صحت یاب ہونے کے فوراً بعد کئی بار دوبارہ بیمار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کا معیارِ زندگی اور دماغی صحت متاثر ہوتی ہے۔‘

وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ’ان بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ اور اہم عنصر جسم کے مدافعتی نظام کی کمزوری ہے۔‘

جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے نوین کھوسلا ان تین اہم عوامل کی طرف اشارہ کرتے ہیں: ’خوراک میں بہتری، زیادہ ورزش اور ذہنی تناؤ کا بہتر انتظام۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نوین بتاتے ہیں: ’وٹامن سی مدافعتی نظام کا ایک علاج ہے، جسے آپ کو فلو کے عروج کے موسم میں باقاعدگی سے لینا چاہیے۔ اس کے علاوہ انتہائی پراسیس شدہ کھانوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔‘

وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ’یہ غذائیں کبھی کبھی کھانا ٹھیک ہے، لیکن آپ کی روزمرہ کی زیادہ تر خوراک سبزیوں، پھلوں، پھلیوں، اناج اور گری دار میوے جیسے قدرتی غذائی اجزا پر مبنی ہونی چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’وٹامن سی سے بھرپور مصنوعات کا استعمال کریں، یعنی سٹرس کے حامل پھل اور پروٹین کے لیے گوشت اور دودھ کی مصنوعات استعمال کریں۔‘

جسمانی ورزش سے بھی مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔ بعض ماہرین گھنٹوں کی ورزش کی بجائے دن میں پانچ منٹ کی جسمانی سرگرمی کو بھی بہت فائدہ مند پاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق روزانہ 20 منٹ کی جسمانی ورزش دن بھر بیٹھے افراد کے طرز زندگی کے منفی اثرات کو ختم کر سکتی ہے۔ اسی طرح روزانہ چھوٹی موٹی ورزشیں بھی مفید ہیں۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ورزش کو بوجھ یا کام کے طور پر نہیں ہونا چاہیے، نوین کہتے ہیں کہ ورزش سے پیدا ہونے والا ’خون کا بہاؤ اور خوشی کے ہارمونز جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کے لیے ضروری ہیں۔‘

وہ نوٹ کرتے ہیں کہ ’ایسی سرگرمی کریں جس سے آپ لطف اندوز ہوں، آپ کو مزا آئے جیسے کہ رقص، تیراکی، آئس سکیٹنگ، جم میں باقاعدگی سے ورزش یا کتے کو چہل قدمی کروانا۔‘

کچھ نہ کرنے سے کچھ نہ کچھ بہتر ہے۔

آج کل ہر کوئی سردی سے پھیلنے والے فلو، عام زکام اور دیگر جراثیموں کے خلاف اپنی قوت مدافعت بڑھانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

ماضی کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ذہنی تناؤ بھی پورے جسم کو متاثر کرتا ہے، جس میں مدافعتی نظام بھی شامل ہے۔

نوین نے کہا: ’یہاں اہم بات یہ ہے کہ اس بات سے آگاہ رہیں کہ آپ کس چیز کی وجہ سے تناؤ محسوس کرتے ہیں اور اس سے نمٹنے کے طریقے تلاش کریں۔

’یہ مراقبہ (میڈیٹیشن) کرنے اور ذہن سازی یا مائنڈ فلنیس کے بارے میں زیادہ سیکھنے، وقفہ لینے، خوشگوار سرگرمیوں میں مشغول ہونے، پیاروں کے ساتھ رہنے اور بہت کچھ کرنے کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘

اور ہاں جنوبی ایشیا کے لوگوں کو ساتھ میں مفید بارشوں کے لیے دعا بھی کرتے رہنا چاہیے۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت