کراچی کے وائس آرٹسٹ جو ترک ڈراموں کی ڈبنگ سے مشہور ہوئے

پاکستان میں پروان چڑھتی ڈبنگ انڈسٹری، اب ترکی کے علاوہ ایرانی، چینی، روسی اور کورین ڈراموں کی ڈبنگ کو فروغ بخش رہی ہے۔

پاکستان میں جیسے ٹی وی اور فلم انڈسٹری نے اپنی جگہ بنائی ہے ویسے ہی ڈبنگ انڈسٹری بھی وقت کے ساتھ ساتھ کئی زبانوں کے ترجمے اردو میں ڈب کر رہی ہے۔

اسی حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو پہنچا ایک ایسے نجی ادارے میں جہاں مختلف زبانوں میں نشر کیے جانے والے ڈرامے فلمیں اور کارٹون شوز کو اردو میں ڈب کیا جا رہا تھا۔

ایک کمرہ تھا جہاں مائیک کے ساتھ وائس ایکٹر ڈبنگ میں مصروف تھے، بظاہر تو یہ کام بہت آسان لگ رہا تھا لیکن ایسا بالکل بھی نہیں تھا۔

کیونکہ ڈبنگ کرنے میں صرف آواز کا ہی کمال نہیں ہوتا بلکہ باقاعدہ ایکٹنگ کی جاتی ہے جیسے ڈب کرنے والا خود کسی ڈرامے میں کردار ادا کر رہا ہو۔

انہی میں سے ایک وائس ایکٹر سمعیہ ملک نے 2012 میں اپنے ڈبنگ کریئرکا آغاز کیا تھا۔

سمعیہ ملک نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ جب انہوں نے ڈبنگ انڈسٹری میں قدم رکھا اس وقت ترکی کے ڈراموں کو متعارف کروایا گیا تھا، اب تک ہزاروں کی تعداد میں ڈبنگ پروجیکٹس پر کام کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ’ اتنے ڈراموں میں کام کیا ہے کہ یاد بھی نہیں۔ جس میں سے مقبول پروجیکٹس مناہل اور خلیل، آسی، ایک حسینہ ایک دیوانہ میں مرکزی کرداروں کو آواز دی ہے جبکہ ترکی پروڈکشن کی فلسطین پر بننے والی فلم میں بھی اپنی آواز کا جادو جگایا۔

’وائس ایکٹنگ کے دوران سر میں درد بھی ہوا، کئی دنوں تک گلہ بیٹھ جاتا تھا‘۔

بقول سمعیہ ملک کے ’ہم وائس اوور آرٹسٹ نہیں بلکہ ہم وائس ایکٹرز ہیں کیونکہ ہمیں باقاعدہ اداکاری کرنی ہوتی ہے۔

’کردار کو دیکھ کر اس کے تاثرات کو سمجھ کر ایک حقیقی آواز دینا، وہ بھی مکمل جذبات کے ساتھ جیسے فلسطین پر مبنی فلم کی ڈبنگ کی تو اس میں کرادر کو روتا ہوا، چیختا ہوا، چلاتا ہوا دکھایا جو بھی اس وقت فلسطین کے حالات ہیں، تو اس پروجیکٹ کے دوران جذباتی انداز میں ڈبنگ کی تو سر درد سے پھٹنے لگا۔ کئی کئی دنوں تک گلہ بند رہا کیونکہ ہم پوری طرح سے کردار کو اپنے اندر سما لیتے ہیں۔‘

وائس ایکٹر سمعیہ ملک نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’دنیا بھر میں ڈبنگ انڈسٹری کو ساتھ لے کر چلا جاتا ہے لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔

’یہی وجہ ہے وائس ایکٹر کو بین الا قوامی سطح پر نہیں پہچانا جاتا، یہاں تک کے کسی بھی ڈرامے میں وائس ایکٹر کو ان کے کام پر کریڈٹ بھی نہیں دیا جاتا جو دکھ کی بات ہے۔‘

صدا کار حماد حسین جنھوں نے نہ صرف ترکی بلکہ کورین ڈراموں اور کارٹون شو میں اپنی آواز میں ڈبنگ کی ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’کسی بھی ڈبنگ آرٹسٹ کے لیے اس کی آواز قیمتی ہوتی ہے اور پھر انداز۔‘

ترک ڈرامے کرولس عثمان میں انہوں نے ولن ’نکولا‘ کو ڈب کیا۔ جس نے بے شمار شہرت حاصل کی جبکہ کورین پروجیکٹ ’لیجنڈ آف دی بلیو سی‘ میں مرکزی اداکار کی وائس ایکٹنگ کی تھی۔

حماد حسین کا کہنا تھا کہ ’چیخنے چلانے کی آواز پیٹ سے جبکہ با رعب آواز گلے سے نکالی جاتی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وائس ایکٹر حماد حسین کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں ڈبنگ کی صنعت میں بے شمار مواد موجود ہے لیکن ابھی بھی پڑوسی ملک کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری انڈسٹری پروان چڑھ رہی ہے لیکن نظر انداز بھی بہت ہوتی ہے۔

’جبکہ دیگر ممالک میں وائس ایکٹر کو باقاعدہ تسلیم کیا جاتا ہے اور انٹرنیشنل سطح پر ڈبنگ کی صنعت کروڑوں میں کام کر رہی ہے اور ہماری ڈبنگ انڈسٹری پاکستان کو اتنا زر مبادلہ دے سکتی ہے جس کا شاید اندازہ بھی نہیں ہے۔‘

’جو ہماری معیشیت کے لیے ترقی کا ضامن بن سکتا ہے جبکہ ہمارا کلچر بھی دوسرے ممالک میں جائے گا۔‘

ڈبنگ انڈسٹری کے ڈائریکٹر ابرار نقوی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’ڈبنگ انڈسٹری آگے تو بڑھ رہی ہے جس میں اب کئی ملکوں کے ڈراموں، جس میں کوریا، روس، چینی اور ایران کے ڈراموں کو اردو میں ڈب کیا جا رہا ہے۔

’پاکستان کے پاس وائس بینک موجود ہے اور ڈبنگ کی صنعت اب رکنے والی نہیں جبکہ ترک ڈراموں کو مقامی زبان میں نشر کرنے سے مقامی چینلز کو ہمیشہ فائدہ ہی ہوا ہے۔‘

ان کے مطابق ’پاکستان میں ترک ڈراموں کی کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ مسلمان ملک ہے، دوسری جانب سیاحت کو بھی فروغ حاصل ہوا ہے۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن