’خیرات نہیں چاہیے‘: امیر جماعت اسلامی کراچی نے سیٹ چھوڑ دی

امیر جماعت اسلامی کراچی نعیم الرحمٰن نے جو سندھ اسمبلی کی نشست 129 پر کامیاب ہوئے تھے اپنی نشست چھوڑنے کا اعلان کیا ہے اور کراچی کے تمام نتائج کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے انتخابات 2024 میں مبینہ دھاندلی کے الزامات پر سندھ اسمبلی کی جیتی ہوئی سیٹ چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔

کراچی میں پیر کو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ آٹھ فروری 2024 کو بہت سارے پولنگ سٹیشنز پر مقررہ وقت پر پولنگ شروع نہیں ہوئی، وقت گزرتا گیا ہم پولنگ شروع نہ ہونے کی شکایات کرتے رہے، عوام کو حق رائے دہی سے محروم کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کارروائی کرنے والوں نے پہلے کیمرے ہٹائے اور پھر ڈبے بھرنے شروع کیے، فارم 45 نہیں دیے جا رہے تھے، بڑی تعداد میں پولنگ ایجنٹس کو فارم فراہم ہی نہیں کیے گئے تھے، فارم 47 میں بدترین دھاندلی کی گئی، آر او کے آفسز کو چاروں اطراف سے سیل کیا گیا تاکہ کوئی پرندہ بھی پر نہ مار سکے، ہم حقائق کو مسلسل عوام کے سامنے لاتے رہیں گے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ ’جس نشست پر ہم جیتے وہ نہیں دی گئی جس پر نہیں جیتے وہاں احتجاج کے بعد ووٹ بڑھا دیے گئے، ہمیں خیرات کی سیٹ نہیں چاہیے، میں اپنی سیٹ چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں، میں اتنا ظرف رکھتا ہوں، میں وہ سیٹ نہیں لوں گا۔‘

کراچی کے امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ ’ہمیں لوگوں نے ووٹ ڈالے ہیں، شہر کراچی میرے ساتھ ہے اور میں اس کو اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتا ہوں لیکن لوگوں نے اگر کسی کو ووٹ دیا ہے تو ہم اس کا احترام کرتے ہیں، میری یہ سیٹ الیکشن کمیشن کے منہ پر طمانچہ ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نعیم الرحمٰن کا کہا تھا کہ ’جب مجھے اندازہ ہوا کہ ووٹوں کا فرق ہے تو میں نے ٹیم کو کہا کہ ایک ایک فارم مجھے چاہیے، رات تین بجے تک جب چیک کیا تو پتہ چلا کہ ووٹ تو ہمارے الیکشن کمیشن نے کم ظاہر کیے ہیں، لیکن میں چوں کہ کامیاب نہیں ہوا تو میں یہ سیٹ واپس کرتا ہوں اور آزاد  امیدوار جس کے ووٹ 31 ہزار سے کم کر کے 11 کر دیے گئے، وہ جیتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ایم کیو ایم نے میرے مقابلے میں چھ ہزار دس ووٹ لیے لیکن اس کو 20 ہزار ظاہر کیا گیا، مجھے خیرات میں یہ سیٹ دے رہے ہیں آپ۔‘

امیر جماعت اسلامی کراچی نے مطالبہ کیا کہ کراچی کے تمام نتائج کو کالعدم قرار دے کر فارم 45 کے تحت درست نتائج جاری کیے جائیں۔

اس سے قبل سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر آٹھ فروری 2024 کو جاری کیے جانے والے اپنے بیان میں چیف الیکشن کمشنرسکندر سلطان راجا نے انتخابات کے پر امن انعقاد پر اپنی ٹیم، سیاسی جماعتوں اور سکیورٹی اداروں کو مبارکباد پیش کی تھی۔

انہوں نے اسی بیان میں اس بات کو تسلیم کیا گیا تھا چند پولنگ سٹیشنز پر شکایات موصول ہوئی تھیں لیکن ان کے مطابق انہیں فوری طور پر حل کر لیا گیا تھا۔

 

انتخابات کے بعد غیر حتمی نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہوتے ہی مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے الیکشن کمیشن پر نتائج تبدیل کرنے کے الزامات عائد کیے جانے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا جو تاحال جاری ہے۔

مختلف جماعتوں کے سیاسی رہنماؤں نے اپنی شکست تسلیم کی اور ویڈیو بیانات بھی جاری کیے ہیں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست