حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تمام جماعتوں سے رابطے ہوں گے: شیری رحمان

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے پیر کی شب سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں اور حلقوں سے رابطے کریں گے جس کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائے گی۔

پیپلز پارٹی نے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس پیر کی شام اسلام آباد میں طلب کیا تھا (پاکستان پیپلز پارٹی/ فیس بک)

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے پیر کی شب کہا ہے کہ تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے جائیں گے۔

شیری رحمان نے پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ اسلام آباد میں پیر کی شب ایک مختصر پریس کانفرنس کی۔

پریس کانفرنس میں شیری رحمان نے بتایا کہ ’تمام سیاسی جماعتوں اور حلقوں سے رابطے کریں گے جس کے لیے ایک کمیٹی بنا دی جائے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ختم نہیں ہوا ہے اور اسے منگل کی دوپہر دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

شیری رحمان نے مزید بتایا کہ ’کوئی حتمی فیصلے نہیں ہوئے ہیں کیونکہ اجلاس ابھی جاری ہے۔‘

پاکستان میں آٹھ فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے بڑی سیاسی جماعتیں مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اختتام ہفتہ مسلم لیگ (ن) کے وفد نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے لاہور میں ملاقات کی تھی جس میں سیاسی تعاون پر اتفاق کیا گیا۔

تاہم سیاسی تعاون اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے حکومت سازی کی تجویز پر غور کے لیے پیپلز پارٹی نے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس پیر کی شام اسلام آباد میں طلب کیا تھا جس کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ اب تک کے رابطوں سے متعلق کوئی بیان سامنے آ سکے گا۔

انتخابات میں قومی اسمبلی کی سب سے زیادہ نشستیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو ملیں جبکہ اس کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پھر پیپلزپارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نے گذشتہ جمعے کو ایک تقریر میں کہا کہ قومی اسمبلی میں ان کی جماعت کو سب سے زیادہ نشستوں پر کامیابی ملی لیکن وہ اپنے طور پر حکومت سازی نہیں کر سکتے، اس لیے انہوں نے اپنے بھائی شہباز شریف کو دیگر پارٹیوں سے رابطوں کا ٹاسک سونپا۔

لاہور میں اتوار کو شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کے وفد نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی تھی۔

اس ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق: ’پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی میں سیاس تعاون پر اصولی اتفاق رائے کیا گیا۔‘

اعلامیے کے  مطابق ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال اور مستقبل میں سیاسی تعاون پر تفصیلی بات چیت کی گئی اور ’قائدین کا ملک کو سیاسی استحکام سے ہم کنار کرنے کے لیے سیاسی تعاون کرنے پر اتفاق کیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لاہور میں دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والی مشاورت میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ وہ سیاسی عدم استحکام سے ملک کو بچائیں گی ’عوام کی اکثریت نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے، ہم عوام کو مایوس نہیں کریں گے۔‘

عام انتخابات کے بعد اب اگلے مرحلہ وزیراعظم کے انتخاب ہے۔ آئین کے آرٹیکل 91 کی شق دو میں درج ہے کہ انتخابات کے دن کے 21ویں روز تک قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس بلانا ضروری ہے  لیکن صدر پاکستان اس سے قبل بھی اجلاس طلب کر سکتے ہیں۔

آٹھ فروری انتخابات کے بعد 21 روز 29 فروری کو پورے ہوں گے اس لیے ممکنہ طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری بروز جمعرات یا اس سے قبل بلایا جا سکتا ہے۔

کیوں کہ کسی سیاسی جماعت کو مرکز میں واضح اکثریت نہیں ملی اس لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت کا سلسلہ جاری ہے تاکہ حکومت سازی کے کسی طریقہ کار پر اتفاق کیا جا سکے۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست