افغان طالبان کا پاکستانی سفیر کو طلب کرنا معمول کی بات: اسحاق ڈار

پاکستان کے وزیر خارجہ نے کابل کی جانب ننگرہار اور خوست میں فضائی حملے کے الزام کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے جمعے کو افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی سفیر کو احتجاجی مراسلہ دیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ’معمول‘ کی بات قرار دیا ہے۔

طالبان حکومت نے جمعرات کو الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان نے فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے دو افغان صوبوں ننگرہار اور خوست میں حملے کیے جس کی وجہ سے تین افراد جان سے گئے۔

افغان وزارت خارجہ نے ایکس پر لکھا تھا کہ ’پاکستان فوج نے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور ڈیورنڈ لائن کے قریب شہریوں پر بمباری کی، جو افغانستان کی علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔‘

بیان کے مطابق ’پاکستانی فریق کو یہ واضح کر دیا گیا کہ افغانستان کی خودمختاری کا تحفظ اسلامی امارت کے لیے سرخ لکیر ہے اور اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے لازمی طور پر نتائج ہوں گے۔‘

اسحاق ڈار نے آج دفتر خارجہ میں ایک طویل پریس کانفرنس کے دوران اس الزام کی تصدیق یا تردید تو نہیں کی، تاہم انہوں نے مراسلہ دیے جانے کو معمول کی بات قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں اور نہ یہ فکر کی بات ہے۔‘

انہوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ افغانستان نے پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی سے متعلق کسی بھی بات کی نفی نہیں کی اور طالبان حکام نے کہا ہے کہ ’ہم نے حکومت میں کئی تبدیلیاں کی ہیں اور ان عہدے داران کو تبدیل کیا ہے جو ٹی ٹی پی کے حامی سمجھے جاتے تھے۔‘

اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان اور برطانیہ کے مابین قومی ایئرلائن پی آئی اے کی پروازیں ستمبر کے اوائل میں بحال ہونے جا رہی ہیں۔

پی آئی اے کا 2020 میں طیارہ حادثے میں 97 اموات اور نتیجتاً حکومت کی جانب سے ملک میں جاری پائلٹ لائسنسز کی جانچ شروع ہونے کے بعد برطانیہ نے پاکستان سے آنے والی پروازوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔

بعد ازاں رواں سال جولائی میں برطانیہ نے یہ پابندی اٹھانے کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل یورپی یونین کی جانب سے پابندی ہٹنے کے بعد پی آئی اے کی پہلی پرواز رواں برس 10 جنوری کو اسلام آباد سے پیرس کے لیے روانہ ہوئی تھی۔

یہ چار سالہ پابندی کے خاتمے کے بعد یورپی یونین کی پہلی پرواز تھی۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کے گریٹر اسرائیل کے بیان کو ایک مرتبہ پھر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل میں پاکستان نے سات نکاتی ایجنڈا پیش کیا، جس میں گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو سختی سے مسترد کیا گیا۔‘

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان جلد آرمینیا کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے جا رہا ہے۔

پاکستان اور آرمینیا کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں۔

اس ماہ کے اوائل میں وزیر اعظم شہباز شریف نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن معاہدہ کرانے میں کردار ادا کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن کوششوں کو سراہا تھا۔

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان