پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف پیر کو مصر پہنچے ہیں جہاں وہ شرم الشیخ امن کانفرنس میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شریک ہوں گے، انہوں نے مصر پہنچنے پر کہا کہ صدر ٹرمپ کی خصوصی توجہ اور جستجو کی بدولت ہی غزہ میں جاری قتل و غارت کو روکنا ممکن ہوا۔
مصر پہنچنے کے بعد ایکس پر جاری بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا: ’آج صبح شرم الشیخ پہنچا ہوں تاکہ تاریخی غزہ امن منصوبے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کر سکوں جو مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی سمت ایک نہایت اہم قدم ہے۔‘
انہوں نے مزید لکھا: ’اپنے شریک میزبانوں، صدر السیسی اور صدر ٹرمپ کا شکر گزار ہوں۔ صدر ٹرمپ کی شاندار قیادت اور غیر متزلزل عزم کے بغیر ہم یہ لمحہ کبھی نہ دیکھ پاتے۔ امن کے حصول کے لیے ان کی یکسو جدوجہد ہی نے اس بلاوجہ خونریزی اور تباہی کا خاتمہ ممکن بنایا۔‘
شہباز شریف کا مزید کہنا تھا: ’آج کی یہ تقریب نسل کشی کے ایک سیاہ باب کے اختتام کی علامت ہے، ایک ایسا باب جسے عالمی برادری کو یقینی بنانا ہوگا کہ دنیا میں کہیں دوبارہ نہ دہرایا جائے۔ بہادر اور ثابت قدم فلسطینی عوام ایک آزاد فلسطین میں جینے کے حقدار ہیں، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔‘
Alhamdolillah, arrived in Sharm El-Sheikh this morning to attend the signing ceremony of the landmark Gaza peace plan — a crucial step towards lasting peace in the Middle East.
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) October 13, 2025
Grateful to our co-hosts, President El Sisi and President Trump. We would not have seen this moment… pic.twitter.com/JAlipZuvP1
وزیراعظم ہاؤس سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا کہ شہباز شریف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی خصوصی دعوت پر شرم الشیخ کا دورہ کر رہے ہیں۔
شرم الشیخ امن کانفرنس ان سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے جو گذشتہ ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے موقعے پر شروع ہوئیں۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’وزیراعظم شرم الشیخ میں منعقدہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ محمد اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ وزیر اعظم کے ہمراہ وفد میں شریک ہیں.
بیان میں کہا گیا کہ ’وزیراعظم پاکستان، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی, ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان اور دیگر عالمی رہنماؤں کی موجودگی میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں خصوصی شرکت کریں گے۔‘
شرم الشیخ میں ہونے والا امن سربراہی اجلاس، صدر ڈونلڈ ٹرمپ، وزیراعظم شہباز شریف اور عرب اسلامی رہنماؤں کی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے موقع پر غزہ میں جنگ بندی کے لیے خصوصی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے ذریعے وزیرِ اعظم سمیت ان ممالک کے سربراہان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں جنگ بندی، پائیدار امن اور خطے کی ترقی کے حوالے سے منصوبے کا خیرمقدم کیا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ’وزیرِ اعظم کی شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس میں شرکت پاکستان کے فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور انہیں ہر قسم کی سیاسی و سفارتی مدد کی فراہمی کی عکاسی کرتا ہے۔
’پاکستان یہ توقع کرتا ہے کہ اس امن سربراہی اجلاس اور اس میں دستخط شدہ معاہدے کے بعد غزہ میں جاری مظالم کا سلسلہ رکے گا، غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا ہوگا، فلسطینیوں کی اپنے گھروں کو واپسی ہوگی، انکی حفاظت یقینی بنائی جائے گی، قیدیوں کی رہائی ہوگی اور امن کے ساتھ ساتھ غزہ کی تعمیر نو ممکن ہو سکے گی۔‘
وزیراعظم ہاؤس سے جاری میں کہا گیا کہ پاکستان پر امید ہے کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف مشرق وسطی میں دیر پا امن کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگا بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور فلسطینیوں کی امنگوں کی ترجمانی کرتی ہوئی ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے گا ’جس کی سرحدیں 1967 سے قبل کے مطابق ہونگیں اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہوگا۔‘
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنی شرکت کی تصدیق کی ہے جبکہ برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر، اطالوی وزیرِاعظم جورجیا میلونی اور سپین کے پیڈرو سانچیز بھی شریک ہوں گے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں اور ترک صدر رجب طیب اردوغان بھی اپنے دفاتر کے مطابق شرم الشیخ روانہ ہوں گے۔