ٹرمپ کی وجہ سے غزہ میں قتل و غارت روکنا ممکن ہوا: شہباز شریف

مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں دنیا کے کئی رہنما شرکت کریں گے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف پیر کو مصر پہنچے ہیں جہاں وہ شرم الشیخ امن کانفرنس میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شریک ہوں گے، انہوں نے مصر پہنچنے پر کہا کہ صدر ٹرمپ کی خصوصی توجہ اور جستجو کی بدولت ہی غزہ میں جاری  قتل و غارت کو روکنا ممکن ہوا۔ 

مصر پہنچنے کے بعد ایکس پر جاری بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا: ’آج صبح شرم الشیخ پہنچا ہوں تاکہ تاریخی غزہ امن منصوبے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کر سکوں جو مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی سمت ایک نہایت اہم قدم ہے۔‘

انہوں نے مزید لکھا: ’اپنے شریک میزبانوں، صدر السیسی اور صدر ٹرمپ کا شکر گزار ہوں۔ صدر ٹرمپ کی شاندار قیادت اور غیر متزلزل عزم کے بغیر ہم یہ لمحہ کبھی نہ دیکھ پاتے۔ امن کے حصول کے لیے ان کی یکسو جدوجہد ہی نے اس بلاوجہ خونریزی اور تباہی کا خاتمہ ممکن بنایا۔‘

شہباز شریف کا مزید کہنا تھا: ’آج کی یہ تقریب نسل کشی کے ایک سیاہ باب کے اختتام کی علامت ہے، ایک ایسا باب جسے عالمی برادری کو یقینی بنانا ہوگا کہ دنیا میں کہیں دوبارہ نہ دہرایا جائے۔ بہادر اور ثابت قدم فلسطینی عوام ایک آزاد فلسطین میں جینے کے حقدار ہیں، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔‘

وزیراعظم ہاؤس سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا کہ شہباز شریف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی خصوصی دعوت پر شرم الشیخ کا دورہ کر رہے ہیں۔

23 ستمبر 2025 کو پاکستان کے وزیر اعظم نے سات عرب و اسلامی ممالک مصر، اردن، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور ترکی کے رہنماؤں کے ساتھ امریکی صدر سے اعلیٰ سطحی ملاقات میں شرکت کی تھی، جس کا مقصد غزہ میں پائیدار امن کے امکانات تلاش کرنا تھا۔
 
ان عرب و اسلامی ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیے میں صدر ٹرمپ کی امن کے حصول کے لیے کی جانے والی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ مل کر جامع اور پائیدار فائر بندی کے حصول اور غزہ میں سنگین انسانی بحران کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

شرم الشیخ امن کانفرنس ان سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے جو گذشتہ ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے موقعے پر شروع ہوئیں۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’وزیراعظم شرم الشیخ میں منعقدہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ محمد اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ وزیر اعظم کے ہمراہ وفد میں شریک ہیں.

بیان میں کہا گیا کہ ’وزیراعظم پاکستان، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی,  ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان اور دیگر عالمی رہنماؤں کی موجودگی میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں خصوصی شرکت کریں گے۔‘

شرم الشیخ میں ہونے والا امن سربراہی اجلاس، صدر ڈونلڈ ٹرمپ، وزیراعظم شہباز شریف اور عرب اسلامی رہنماؤں کی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے موقع پر غزہ میں جنگ بندی  کے لیے خصوصی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

مشترکہ اعلامیے کے ذریعے وزیرِ اعظم سمیت ان ممالک کے سربراہان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں جنگ بندی، پائیدار امن اور خطے کی ترقی کے حوالے سے منصوبے کا خیرمقدم کیا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ’وزیرِ اعظم کی شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس میں شرکت پاکستان کے فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور انہیں ہر قسم کی سیاسی و سفارتی مدد کی فراہمی کی عکاسی کرتا ہے۔

’پاکستان یہ توقع کرتا ہے کہ اس امن سربراہی اجلاس اور اس میں دستخط شدہ معاہدے کے بعد غزہ میں جاری مظالم کا سلسلہ رکے گا، غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا ہوگا، فلسطینیوں کی اپنے گھروں کو واپسی ہوگی، انکی حفاظت یقینی بنائی جائے گی، قیدیوں کی رہائی ہوگی اور امن کے ساتھ ساتھ غزہ کی تعمیر نو ممکن ہو سکے گی۔‘

وزیراعظم ہاؤس سے جاری میں کہا گیا کہ پاکستان پر امید ہے کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف مشرق وسطی میں دیر پا امن کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگا بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور فلسطینیوں کی امنگوں کی ترجمانی کرتی ہوئی ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے گا ’جس کی سرحدیں 1967 سے قبل کے مطابق ہونگیں اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہوگا۔‘

اتوار کو مصری وزارت خارجہ نے کہا ’غزہ کی پٹی میں جنگ ختم کرنے سے متعلق ایک دستاویز’  اس ’تاریخی‘ اجلاس کے دوران دستخط کے لیے تیار ہے۔
 
وزارت کے بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ کانفرنس ’امن و سلامتی کے ایک نئے باب کے آغاز اور غزہ میں فلسطینی عوام کی مشکلات کم کرنے‘ کے لیے منعقد کی جا رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنی شرکت کی تصدیق کی ہے جبکہ برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر، اطالوی وزیرِاعظم جورجیا میلونی اور سپین کے پیڈرو سانچیز بھی شریک ہوں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں اور ترک صدر رجب طیب اردوغان بھی اپنے دفاتر کے مطابق شرم الشیخ روانہ ہوں گے۔

یورپی کونسل کے ترجمان کے مطابق کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اجلاس میں یورپی یونین کی نمائندگی کریں گے۔ 
 
اردن کے شاہ عبداللہ دوم کی شرکت کی بھی سرکاری میڈیا کے مطابق توقع ہے۔
 
فلسطینی تنظیم حماس نے واضح کیا ہے کہ وہ اس کانفرنس شامل نہیں ہو گی۔
 
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا حماس نے ’پہلے ہونے والے غزہ مذاکرات میں بنیادی طور پر قطری اور مصری ثالثوں کے ذریعے کردار ادا کیا تھا۔‘
 
اسی طرح اسرائیل بھی کل اس سمٹ میں غیر حاضر رہے گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کی ترجمان شوش بدرسیان نے اتوار کو  اے ایف پی کو بتایا کہ ’کوئی بھی اسرائیلی اہلکار اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔‘
whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا