قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اتوار کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کی کامیابی پر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی جماعت کے جیتنے والے امیداروں کو مبارک باد پیش کی جبکہ الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر بلال چوہدری اور سہیل آفریدی کے خلاف کارروائی کی ہے۔
ایوان وزیر اعظم سے جاری بیان میں ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابیوں پر شہباز شریف نے ان نتائج کو نواز شریف کی قیادت اور کارکنوں کی محنت کا عکاس قرار دیا ہے۔
وزیر اعظم کے بیان کے مطابق کامیاب امیداروں میں این اے 185، ڈیرہ غازی خان سے سردار محمود قادر لغاری، پی پی 203، ساہیوال سے چوہدری حنیف جٹ، پی پی 87، میانوالی سے علی حیدر نور نیازی جبکہ پی پی 116، فیصل آباد سے احمد شہریار، پی پی 115 سے محمد طاہر پرویز، این اے 104 سے دانیال احمد اور پی پی 98 سے آزاد علی تبسم شامل ہیں۔ اسی طرح این اے 18، ہری پور سے ن لیگ ہی کے بابر نواز خان بھی کامیاب قرار پائے۔
قومی اسمبلی کے لیے این اے 18ہری پور، این اے 96، این اے 104فیصل آباد، این اے 129لاہور، این اے 143ساہیوال اور این اے 185ڈی جی خان میں پولنگ ہوئی جبکہ صوبائی اسمبلی کی جن نشستوں پرووٹ ڈالے گئے ان میں پی پی 73سرگودھا، پی پی 87میانوالی، پی پی 98، پی پی 115 اور پی پی 116فیصل آباد، پی پی 203ساہیوال اور پی پی 269مظفرگڑھ شامل ہیں۔
وزیر اعظم نے اپنی جماعت کی کامیابی پر کہا کہ یہ نتائج پنجاب اور خیبر پختونخوا کے عوام کے اعتماد کی گواہی دیتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے میں وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ’شبانہ روز محنت‘ نے عوام کو حکومت کی کارکردگی کا یقین دلایا۔
وزیر اعظم کے مطابق ان حلقوں میں فتح سے واضح ہوتا ہے کہ ووٹرز نے مسلم لیگ (ن) کی ’عوامی خدمت‘ کی پالیسیوں پر اعتماد برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب امیدوار اپنے حلقوں کی نمائندگی ذمہ داری کے ساتھ کرتے ہوئے عوامی سہولتوں کے لیے بھرپور کوششیں کریں گے۔
ن لیگ نے بھی اپنے آفیشل ایکش آکاؤنٹ پر کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ پوسٹ میں لکھا گیا کہ ‘الحمد اللہ شیر نے میدان مار لیا۔‘
الحمدللہ شیر نے میدان مار لیا
شکریہ عوام
شکریہ پنجاب
شکریہ پاکستان#VoteSirfSherKa pic.twitter.com/YlYUdd4RyW
— PMLN (@pmln_org) November 23, 2025
الیکشن کمیشن کی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی
الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر طلال چوہدری کے بھائی بلال چوہدری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک دیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملے پر منگل (25 نومبر) کو 12 بجے ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا کہ طلال چوہدری کے بھائی بلال چوہدری کو نااہل نہیں کیا جا رہا، صرف کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔
چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے پیر کے روز اس معاملے پر سماعت کی۔ دوران سماعت کمیشن حکام نے موقف اختیار کیا کہ طلال چوہدری حلقے میں الیکشن سے قبل دورہ کر کے واضح طور پر ضابطہ اخلاق کے مرتکب ہوئے ہیں کیونکہ وزیر مملکت کسی انتخابی مہم میں حصہ لینے کے مجاز نہیں۔ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ ’وزیر مملکت نے خلاف ورزی کی اور پیش ہونا بھی گوارا نہیں کیا۔‘
دوسری جانب این اے 18 میں بیان بازی پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو بھی الیکشن کمیشن نے نوٹس جاری کرتے ہوئے منگل کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
اس کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر حذیفہ رحمٰن کو بھی ڈیرہ غازی خان کے حلقے میں ضابطہ خلاف ورزی پر 50 ہزار جرمانہ ہوا، تاہم انہوں نے آج الیکشن میں ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر غیر مشروط معافی مانگ لی۔
قومی اسمبلی کی چھ جبکہ پنجاب کی سات صوبائی صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات 23 نومبر کو ہوئے۔ یہ نشستیں نو مئی کے تحت انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے سزا پانے والے اراکین اسمبلی کے نااہل ہونے کے بعد خالی ہوئی تھیں۔ ن لیگ قومی اسمبلی کی چھ جبکہ پنجاب صوبائی اسمبلی کی چھ نشستوں پر برتری حاصل کی جبکہ پیپلز پارٹی نے این اے 269 میں سبقت حاصل کی۔
تیرہ ضمنی نشستوں پر فارم 47 کے مطابق غیر حتمی غیر سرکاری نتائج جاری ہو چکے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے فارم 49 کے حتمی و سرکاری نتائج جاری ہونا ابھی باقی ہیں جس کے بعد قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
گذشتہ روز پولنگ سخت سکیورٹی اور غیر معمولی انتظامات کے ساتھ ہوئی۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق پولنگ کے دوران مجموعی طور پر امن و امان رہا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں عوام کا بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنا حوصلہ افزا رجحان ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے لاہور اور ہری پور کے سوا تمام حلقوں میں انتخابات کا باضابطہ طور پر بائیکاٹ کیا تھا جبکہ مسلم لیگ (ن) نے مظفرگڑھ کے علاوہ تمام نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے دو قومی اسمبلی اور ایک پنجاب اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑا۔
حزب اختلاف کی کئی جماعتوں نے دھاندلی کے الزامات بھی عائد کئے۔ جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے ایک ٹویٹ میں حلقہ این اے 129 میں دھاندلی کا الزام عائد کیا۔
پنجاب کی کل 12 نشستوں پر مجموعی طور پر 105 امیدوار آمنے سامنے آئے، جن میں سے 82 آزاد امیدوار تھے۔
زیادہ تر سیٹوں پر حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن (پی ایم ایل ن) اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں میں مقابلہ تھا۔
پاکستان میں عموما ضمنی انتخابات میں حکمراں جماعت کا پلڑا بھاری رہتا ہے جس کی وجہ ماہرین کا ووٹروں کا برسرِ اقتدار کی حمایت ہوتی ہے۔