کیا بی این پی کے بعد جنوبی پنجاب صوبہ محاذ حکومت کے لیے مشکل پیدا کرے گا؟

بظاہر اپوزیشن یا دیگر اتحادی جماعتیں حکومت کا تخت الٹانے میں سنجیدہ نہیں لگتی لیکن اگر طے شدہ مطالبات پورے نہ ہوئے تو جنوبی پنجاب صوبہ محاذ حکومت کے لیے مشکل کھڑی کر سکتا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سیکرٹریٹ کے قیام کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی لیکن پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین میں سیکرٹریٹ کا مقام ملتان، لودھراں یا بہاول پور بنانے پر اختلافات کے بعد معاملہ موخر ہو گیا (اے یف پی)

پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت جن اتحادی جماعتوں کی بدولت اقتدار میں آئی ان میں سے بلوچستان نیشل پارٹی (بی این بی) نے رواں ہفتے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے۔ ان کی چار نشستوں سے گویا حکومت کو بڑا دھچکا نہیں لگا لیکن اگر دیگر اتحادیوں نے بھی نارضی کا اظہار کیا تو حکومت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

بظاہر اپوزیشن یا دیگر اتحادی جماعتیں حکومت کا تختہ الٹنے میں سنجیدہ نہیں لگتیں پھر بھی اگر اتحادیوں کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بھی حکومت کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔

علیحدہ صوبہ بنانے کے لیے سرگرم علاقائی تنظیم سرائیکی پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے رہنماؤں نے جنوبی پنجاب کے لوگوں کا مینڈیٹ عہدے لے کر فروخت کر دیا اور اب کوئی مطالبے پورے ہونے کی امید نہیں۔

تاہم پنجاب حکومت کے مطابق اس خطے کے لوگوں کو سیکرٹریٹ بنا کر سہولت دینے کا کام جاری ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی کو نئے سیکرٹریٹ میں تعینات کیا جائے گا تاکہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو مسائل حل کرانے لاہور نہ آنا پڑے۔

دوسری جانب گذشتہ سال جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے لیے مختص تین ارب خرچ نہ ہوئے اور رواں سال بجٹ میں ڈیڑھ ارب کی کٹوتی کر دی گئی ہے۔

جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ اور سیکرٹریٹ کا قیام

انتخابات سے قبل حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے متحدہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ سے تحریری معاہدہ کیا تھا جس کے تحت جنوبی پنجاب کے اضلاع پر مشتمل علیحدہ صوبہ پہلے ایک سو روز میں بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم ایک اور اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے رہنما طارق بشیر چیمہ نے بہاول پور صوبے کو بحال کرنے کا مطالبہ کردیا جس کے بعد حکومت نے عارضی طور پر اس خطے میں علیحدہ سیکرٹریٹ کی بنیاد رکھنے کی حکمت عملی بنائی۔

اس خطے سے علیحدہ صوبہ بنانے کے منشور پر قائم جنوبی پنجاب صوبہ محاذ میں شامل وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سیکرٹریٹ کے قیام کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی لیکن پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین میں سیکرٹریٹ کا مقام ملتان، لودھراں یا بہاول پور بنانے پر اختلافات سامنے آئے اور معاملہ موخر ہو گیا۔

چند ماہ پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی پولیس کی تعیناتی کا اعلان کیا تاہم ابھی تک عملی طور پر یہ ممکن نہ ہوسکا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حکومت جنوبی پنجاب محاذ کے مطالبے پر علیحدہ صوبہ بنانے کے بارے میں سنجیدہ ہے لیکن فی الحال مقامی سیاسی اختلافات کے باعث یہ ممکن نہیں لہٰذا وہاں علیحدہ سیکرٹریٹ قائم کرنے پر کام جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال سیکرٹریٹ کے لیے رکھے گئے تین ارب روپے میں سے زیادہ پیسے خرچ نہیں ہوسکے اور اس سال بھی کرونا وبا کی وجہ سے سیکرٹریٹ کے بجٹ سے ڈیڑھ ارب روپے کی کٹوتی کرنا پڑی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دو ماہ تک جنوبی پنجاب میں سیکرٹریٹ قائم ہوجائے گا تاکہ وہاں کے لوگوں کو بنیادی مسائل سے نجات مل سکے۔ ان سے پوچھا گیا کہ علیحدہ صوبے کا قیام کب تک ہوگا تو انہوں نے کہا کہ سیکرٹریٹ قائم کرنے سے صوبے کی زیادہ ضرورت نہیں رہے گی۔

سرائیکی پارٹی کے رہنما ظہور دھریجہ نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے سربراہوں نے ہمیشہ کی طرح اس خطے کا مینڈیٹ بیچ دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خسرو بختیار، بلخ شیر مزاری اور نصراللہ دریشک نے علیحدہ صوبے کے نام پر نشستیں لے کر حکومت سے عہدے لیے اور اب خاموش ہوگئے ہیں۔

'صوبے کی بجائے سیکرٹریٹ تسلیم نہیں کرتے۔ یہ ایک لالی پاپ ہے جس سے دھوکا دیا جارہا ہے۔ وزیر اعلیٰ اس خطے سے ہیں۔ وہ بتائیں یہاں کا بجٹ پورا استعمال کیوں نہ ہوا اور کوئی بڑا منصوبہ شروع کیوں نہیں کیا جاسکا؟'

ظہور دھریجہ کا کہنا تھا کہ حکومت اس صوبے کے قیام میں اکثریت نہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے تو پھر بتایا جائے کہ اگر ایوانوں میں اکثریت نہیں تو فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے اور آرمی چیف کی مدت ملازمت کے قانون میں ترمیم کے لیے اکثریت کیسے حاصل ہوئی؟

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنوبی پنجاب صوبہ نہ بنانے پر جنوبی پنجاب محاذ کے اراکین اسمبلی بھی بی این پی کی طرح حکومت سےعلیحدگی کا اعلان کریں ورنہ اس خطے کے لوگ ان کا گھیراؤ کریں گے۔

کیا حکومت کو عددی اکثریت میں مشکلات پیش آسکتی ہیں؟

بی این پی کی علیحدگی کے بعد حکومت کے پاس قومی اسمبلی میں چار نشستیں کم ہوگئی ہیں اور حکمران اتحاد کی تعداد 180 رہ گئی ہے۔ پارلیمنٹ ریکارڈ میں موجودہ پارٹی پوزیشن کے مطابق تحریک انصاف کے پاس 156 نشتیں، ایم کیو ایم کے پاس سات، ق لیگ کی پانچ اور جی ڈی اے کی تین نشتتیں ہیں۔ اسی طرح بلوچستان عوامی پارٹی کے پانچ ارکان، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی کے ایک ایک جبکہ دو آزاد اراکین بھی حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔

اگر اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمنٹ میں پوزیشن دیکھیں تو متحدہ اپوزیشن کے پاس ممبران کی کل تعداد 157 ہے، جس میں ن لیگ کے 84 اور پیپلز پارٹی کے 55 ارکان ہیں جبکہ ایم ایم اے کے 15، اے این پی کے ایک اور دو آزاد ارکان بھی اپوزیشن اتحاد کا حصہ ہیں۔

حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہونے والے بی این پی کے چار ارکان آزاد بینچز پر براجمان ہیں اور انہوں نے تاحال اپوزیشن اتحاد کا حصہ بننے کا اعلان نہیں کیا۔ بی این پی اپوزیشن اتحاد میں شامل ہوئی تو حزب اختلاف کی نشستیں 161 ہو جائیں گی تب بھی حکمران جماعت کے 19 ارکان زیادہ ہیں۔

جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے 29 ممبران قومی اسمبلی میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کا حصہ ہیں جو اس شرط پر شامل ہوئے تھے کہ حکومت پہلے سو روز میں جنوبی ہنجاب صوبہ بنائے گی۔

سابق وزیر صوبائی وزیرسمیع اللہ خان کے مطابق جنوبی پنجاب کے لوگوں کے مسائل حل کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور موجودہ حالات میں وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے علیحدہ سیکرٹریٹ بنانے کی حکمت عملی بنالی ہے۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی پولیس کی تعیناتی کی جارہی ہے۔

انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جلد ہی اس خطے کے دیگر مسائل بھی حل ہوں گے۔ ان کے مطابق پہلی بار جنوبی پنجاب کا بجٹ بڑھایا گیا اور وہاں ترقیاتی منصوبے بھی زیادہ رکھے گئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست