پاکستان میں ججوں کو کب کب موت کی دھمکیاں ملیں؟

بدقسمتی سے جسٹس فائز عیسیٰ پہلے جج نہیں ہیں، ان سے پہلے بھی اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو سنگین دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔

(روئٹرز)

گذشتہ ہفتے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے اسلام آباد کے ایک تھانے میں درخواست جمع کروائی تھی کہ ان کے شوہر کو قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس بھی لیا تھا۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستان میں کسی اعلیٰ جج کو موت کی دھمکی دی گئی ہو بلکہ بدقسمتی سے ہمارے ملک کی تاریخ میں ایسے کئی واقعات محفوظ ہیں۔

ڈاکٹر جسٹس جاوید اقبال اپنی کتاب ’اپنا گریباں چاک‘ میں لکھتے ہیں کہ ایک بار جنرل ضیاء الحق نے انھیں ایک کانفرنس میں تقریر کے لیے بلایا۔

پہلے تو جسٹس صاحب نے معذرت کی کہ سپریم کورٹ میں بیٹھے ایک جج کی حثییت سے اس کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار نہیں کر سکتا۔

آگے چل کر لکھتے ہیں: ’بہرحال جنرل کے مجبور کرنے پر میں نے تقریر کی اور اپنی تقریر میں کہا کہ وطن عزیز کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے قائد اعظم کے نظریات سے انحراف کیا ہے۔ جس کی سزا ہم بھگت رہے ہیں۔ اس مسئلہ کا حل یہی ہے کہ بانی پاکستان کے نظریات کی طرف ازسرِ نو رجوع کیا جائے۔

’اپنی تقریر کے دوران جنرل ضیاء الحق کی اسلامائزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور خصوصاً حدود آرڈیننس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ اس کے تحت ثبوت کے مشکل معیار کی بنا پر کسی مجرم کو سزا دے سکنا ممکن نہیں لہٰذا یہ قانون نمائشی ہے۔ ہمارے ضابطوں پر محض سرخی پاوڈر لگانے کے مترادف ہے۔ اور ایسے قانون کو نافذ کر کے احکام الٰہی کا مذاق اُڑایا گیا ہے۔

’تقریر کے اختتام پر علمائے کرام نے شوروغل کیا کہ گذشتہ چودہ سو سالوں میں کسی کو یہ کہنے کی جرات نہیں ہوئی کہ احکام الہی کو کالعدم قرار دیا جائے۔ میں نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کب کہا کہ احکام الٰہی کو کالعدم قرار دیا جائے جب علمائے کرام کے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو وہ جذباتیت کا اظہار کر کے آپ کے پاؤں کے نیچے سے دری کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جسٹس جاوید لکھتے ہیں کہ ’چند دنوں کے بعد میرے نام گمنام خطوط آنا شروع ہو گئے کہ تم نے اللہ کے قوانین کو کالعدم قرار دیا ہے، لہٰذا اس کی عدالت میں تمھیں موت کی سزا مل چکی ہے۔ پس تم فلاں دن کا سورج چڑھتے نہ دیکھ سکو گے وغیرہ۔ متعلقہ احکام کو اس بابت اگاہ کیا تو انھوں نے میری سکیورٹی بڑھا دی۔‘ 

پرویز علی شاہ وہ جج تھے جنہوں نے پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو موت کی سزا سنائی تھی، جس کی وجہ سے ملک کے بعض مذہبی حلقے ان کے خلاف ہو گئے، حتیٰ کہ وکیلوں تک نے ان کے دفتر پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی۔ 

پرویز علی شاہ کو قتل کی دھمکیاں ملنے لگیں اور انہیں اپنی اور اپنے خاندان کو سلامتی کو اس قدر خطرہ لاحق ہوا کہ وہ ملک چھوڑ کر چلے جانے پر مجبور ہو گئے۔ 

بات صرف دھمکیوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ ایسے واقعات موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ پرویز علی شاہ کا خوف بجا تھا۔

 1997 میں  لاہور ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج آصف اقبال بھٹی پر حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ سامنے آئی تھی کہ جج صاحب نے دو ایسے افراد کو بری کر دیا تھا جن پر توہینِ مذہب کا الزام تھا اور یہ بات کچھ انتہا پسندوں کو پسند نہیں آئی۔ 

جسٹس ایس اے رحمٰن 70 کی دہائی میں پاکستانی عدلیہ کے چیف جسٹس رہے۔ الطاف حُسین قریشی اپنی کتاب ’ملاقاتیں کیا کیا‘ میں لکھتے ہیں کہ جسٹس ایس اے رحمٰن کو اگرتلہ سازش کی سماعت کے لیے سربراہ بنایا گیا۔

جسٹس ایس اے رحمٰن نے ٹھوس دلائل دیے کہ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے ضروری ہے کہ جج صاحبان ڈھاکہ ہائی کورٹ سے لیے جائیں۔ مگر اس وقت کے وزیر قانون ایس ایم ظفر نے دلیل دی کہ اگر آپ اس ٹریبونل کے سربراہ ہوں گے تو اس کے وقار میں اضافہ ہو گا۔ جسٹس صاحب نے اس دلیل سے اتفاق کرتے ہوئے ٹریبونل کی سربراہی قبول کر لی۔

جسٹس ایس اے رحمٰن مقدمے کی سماعت کے لیے ڈھاکہ جاتے اور کئی روز قیام کرتے ہیں۔ اکتوبر 1968 میں ایوب خان نے اپنی دس سالہ ترقی کا جشن منایا جس پر عوام کے اندر شدید ردعمل پیدا ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے راولپنڈی سمیت پورے ملک میں ہنگامے شروع ہو گئے۔ 17 فروری 1969 کو اگرتلہ سازش کے مرکزی ملزم سارجنٹ ظہور الحق کو گولی مار دی گئی۔ یہ خبر ڈھاکے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور مشتعل ہجوم نے جلاؤ گھیراؤ کا خوں آشام کھیل شروع کر دیا۔

بلوائیوں نے وفاقی وزیراطلاعات خواجہ شہاب الدین کا گھر جلا ڈالا اور جلوس ایوب خان کے خلاف نعرے لگاتا ہوا اس ریسٹ ہاؤس تک پہنچا جہاں جسٹس ایس اے رحمٰن ٹھہرے ہوئے تھے۔ جلوس نے ریسٹ ہاؤس پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ جسٹس ایس اے رحمٰن کو قمیص، پاجامے اور چپل میں جان بچانے کے لیے ملازمین کے کوارٹر پناہ لینی پڑی۔ جسٹس ایس اے رحمٰن کے خیر خواہوں نے انھیں کہا کہ آپ ٹریبونل کی سربراہی چھوڑ دیں، وہ اپنی منصب ذمہ داری کے پابند تھے انھوں نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔

جسٹس حمود الرحمٰن سقوطِ ڈھاکہ کی تحقیقات کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں 1958 سے عدلیہ کے غروب کی داستان شروع ہوتی ہے۔ عدلیہ دراصل آئین کی مخلوقات میں سے ہے، اگر آئین ہی معطل کر دیا جائے تو پھر عدلیہ کی بالادستی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ 1958 میں آئین کی فاتحہ پڑھی گئی اس کے بعد یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا اور عدلیہ کی بالادستی کا خواب چکنا چور ہوتا گیا۔

انتظامیہ کا عدلیہ پر تسلط بدستور قائم ہے۔ انتظامیہ چاہتی ہے کہ عدلیہ ان کی منشا کے مطابق فیصلے دے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ججوں کی اکثریت اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کرتی ہے، ان کا جواب ڈاکٹر جسٹس جاوید اقبال اپنی کتاب ’اپنا گریباں چاک میں‘ یوں دیا: ’جسٹس کرم الٰہی مجھے کبھی کبھار ’ٹرکس آف دی ٹریڈ‘ یعنی ججی کے کاروبار میں جو کھیل کھیلے جاتے ہیں سے سبق دیا کرتے تھے۔ میرے پوچھنے پر فرمایا، دستور سے متعلق فیصلے جج کے ضمیر کے مطابق نہیں ہوتے بلکہ وقتی مصلحت کے تحت کیے جاتے ہیں۔ایسے کیسوں میں میں تو ہمیشہ دو فیصلے تیار کر کے رکھتا ہوں، ایک حکومت کے حق میں اور دوسرا خلاف، جو وقتی مصلحت ہو اس کے مطابق مثبت یا منفی فیصلہ سنا دیتا ہوں۔‘ 

--------------------------

نوٹ: یہ تحریر مصنف کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ