ناسا کے خلابازوں کی سمندری لینڈنگ: خلائی سفر کا مستقبل بدل گیا

سپیس ایکس کے کریو ڈریگن کیپسول میں بین الاقوامی خلائی سٹیشن سے واپسی کا کامیاب سفر کر کے باب بینکن اور ڈوگ ہرلی 45 سال بعد سمندر میں لینڈ کرنے والے پہلے امریکی خلاباز بن گئے ہیں۔

یہ انسان کے لیے ایک بڑا قدم تھا لیکن تمام انسانیت کے لیے ایک بہت بڑی چھلانگ۔

سپیس ایکس کریو ڈریگن کی باحفاظت واپسی یقینی طور پر چاند پر اترنے جتنی بڑی نہیں لیکن یہ خلائی سفر میں مزید کامیابیوں کی جانب سے ایک بڑا قدم ہے۔

یہ کیپسول زمین سے دہ مہینے قبل روانہ کیا گیا تھا۔ اس میں دو خلا باز سوار تھے جنہوں نے بین الااقوامی خلائی سٹیشن کا دورہ کرنا تھا لیکن ان کے ذمہ ایک بہت اہم ترین ٹیسٹ بھی تھا۔ جس میں کیپسول کا حتمی جائزہ لیا جانا تھا تاکہ جس مشن کے لیے اسے تیار کیا گیا ہے اس کے لیے اس کی تیاری کو جانچا جا سکے اور ناسا کے باقی مشنز کے لیے اس کی منظوری کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ صرف اس کیسول کا ٹیسٹ ہی نہیں بلکہ ناسا کے کمرشل کریو پروگرام کی پہنچ کا بھی امتحان تھا جو کہ اس وقت نجی کمپنیوں کی جانب دیکھ رہی ہے۔ ان نجی کمپنیوں میں دیگر کے علاوہ ایلون مسک کی سپیس ایکس بھی شامل ہے۔ یہ ناسا کی جانب سے خلائی سفر میں اپنی کامیاب ماضی کو بحال کرنے کی کوششیں ہیں۔ 

مجموعی طور پر یہ مشن ایک تاریخی کامیابی ہے۔ یہ 2011 میں امریکی سپیس شٹل پروگرام کے بند ہونے کے بعد پہلا موقع تھا کہ خلا بازوں کو امریکی زمین سے روانہ کیا گیا تھا جبکہ یہ اپولو پروگرام کے بعد 45 سال میں پہلی بار سمندر میں اتارا گیا ہے مشن ہے۔

ناسا پرامید ہے کہ وہ اپنی خلائی پروازوں کی صلاحیت کو تاریخی بلندیوں تک لے جائے گا۔ وہ پر امید ہے کہ وہ اب باقاعدگی اور مستحکم انداز میں خلا بازوں کو اپنے ملک سے روانہ کر سکے گا جیسے کہ سپیس شٹل کے ساتھ کیا جاتا تھا اور مزید نظام شمسی تلاش کر سکے گا جیسے اپولو مشن کے دوران کیا جاتا رہا ہے۔

ناسا اور سپیس ایکس کے درمیان اشتراک کے تحت نجی کمپنی راکٹ اور کیپسول تیار کرتی ہے جبکہ ناسا مشن کے لیے ہدایات، فنڈز اور خلاباز فراہم کرتا ہے۔ ناسا کو امید ہے کہ یہ بات اسے اجازت دے گی کہ جب نقصان کا خطرہ نجی شعبہ اٹھا رہا ہے تو ناسا امریکی تیار کردہ خلائی طیاروں میں اپنی تنصیبات سے مشن بھیج کر فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔

ناسا کی جانب سے پہلے ہی اس مشن کی تعریف کی جا رہی ہے کہ یہ کامیاب رہا ہے۔

سپیس ایکس کے سمندر میں اترنے کے بعد ناسا کے منتظم جم بریڈن سٹین نے ایک جاری کردہ بیان میں کہا: 'بوب اور ڈوگ (خلابازوں) کو گھر واپسی پر خوش آمدید، ناسا اور سپیس ایکس کی ٹیموں کو مبارک باد اس شاندار کام پر جس نے یہ ٹیسٹ ممکن بنایا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم مل جل کر وہ حاصل کر سکتے ہیں جو ایک وقت میں ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ چاند اور مریخ کے لیے روانہ کیے جانے والے مشنز میں بھی ہمارے ساتھیوں کا کردار بہت اہم اور پہلے سے زیادہ ہو گا۔'

یقینی طور پر اتنی بڑی کامیابی ایک لمحے میں نہیں ملتی۔ اس مشن کو راکٹ کی روانگی کے ساتھ ہی کامیاب قرار دے دیا گیا تھا۔ جبکہ یہ اہم ترین ٹیسٹ جس پر بہت سی چیزوں کا انحصار تھا اس اضافی جانچ پڑتال کا حصہ تھا جو 2015 سے جاری ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل ناسا کا کمرشل پروگرام کئی سال سے چل رہا ہے جس میں ایسی ہی کامیابی کی امید کی جا رہی تھی۔ یہ دس سال پہلے شروع کیا گیا تھا اور اس میں دوسری کمپنیز بھی شامل ہیں جن میں بوئینگ بھی ہے جو اپنے کریو کے لیے بھی ٹیسٹ کی تیاری کر رہی ہے۔

اس ٹیسٹ پروگرام کی فلسفیانہ بنیاد اس سے زیادہ پرانی ہیں۔ ان کا آغاز ناکامی سے ہوا تھا۔ جب ناسا اور امریکہ نے سپیس شٹل کو خلائی سفر کا مستقبل قرار دیا تھا اور جب یہ پروگرام کسی متبادل کے بغیر ختم کرنا پڑا تھا۔ جس کے بعد ناسا کو اپنے خلاباز بین الااقوامی خلائی سٹیشن تک بھیجنے کے لیے روسی خلائی طیاروں کے ٹکٹ خریدنے پڑے تھے۔

ایسا نہیں ہے کہ یہ نیا پروگرام بھی ایسی ہی کسی مایوسی پر ختم نہیں ہو سکتا۔ سپیس شٹل بھی ناکامی سے پہلے مستقبل ہی دکھائی دیتی تھی۔ اگر خلائی سفر کی بات ہو تو سرکاری سپیس ایجنسیز کو نجی ایجنسیز کے مقابلے میں زیادہ کامیابی ملی ہے۔

لیکن ان کے زیادہ کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔ سپیس ایکس اور ناسا دونوں کے مطابق یہ کامیابی انسانوں کے چاند پر جانے، وہاں پر رہنے اور وہاں سے مریخ جانے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

سمندر میں اترنا اس بڑے راستے میں نظام شمسی کی مزید تحقیق کے دیکھے گئے خواب کا ایک چھوٹا حصہ ہو سکتا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس