بیروت دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے متجاوز، درجنوں تاحال لاپتہ

اقوام متحدہ کے مطابق اس دھماکے کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے تین لاکھ افراد میں ایک لاکھ بچے بھی شامل ہیں جو سڑکوں پر رہنے پر مجبور ہیں۔

(اے ایف پی)

لبنان کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز تک بیروت میں دھماکے سے ہلاکتوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے زیادہ ہو گئی جب کہ حادثے کے چار دن روز بعد بھی درجنوں افراد لاپتہ ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزارت نے ایک بیان میں کہا: ’ ہفتے کی صبح تک ہلاک شدگان کی تعداد 154 ہو گئی ان میں 25 لاشوں کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔ اس کے علاوہ اب بھی 60 سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں۔‘

وزیر صحت نے کہا کہ پانچ ہزار زخمیوں میں سے کم از کم 120 کی حالت انتہائی تشویشناک ہے جس کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب عرب لیگ کے سربراہ بھی ہفتے کو تباہ حال بیروت پہنچے ہیں جن کا کہنا ہے کہ تنظیم کے ممالک اس مشکل گھڑی میں لبنان کی ہرممکن مدد کریں گے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ بیروت میں ہونے والے تباہ کن دھماکے کے بعد لبنان کے لیے بین الاقوامی ڈونر کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

ٹرمپ نے اپنے لبنانی اور ڈونر کانفرنس کی میزبانی کرنے والے فرانسیسی صدر سے ٹیلی فون پر بات کرنے کے بعداپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’ہر کوئی لبنان کی مدد کرنے کو تیار ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا: ’ہم اتوار کے روز صدر میکرون، لبنان کے رہنماؤں اور دنیا کے مختلف دیگر حصوں کے رہنماؤں کے ساتھ ایک کانفرنس کال کریں گے۔‘

بعد میں وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے لبنانی صدر مشیل عون سے فون پر لبنان کے عوام کے ساتھ گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور ہنگامی امداد کی فراہمی میں امریکہ کی حمایت جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔

لبنان کے ہسپتال جو پہلے ہی بڑھتے ہوئے کرونا کیسز اور شدید معاشی بحران سے دوچار ہیں، دھماکے سے زخمی ہونے والے ہزاروں افراد کے علاج سے قاصر ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے لبنان میں صحت کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی فوری امداد کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے کہا کہ بے گھر ہونے والے تین لاکھ افراد میں ایک لاکھ بچے بھی شامل ہیں جو سڑکوں پر رہنے پر مجبور ہیں۔

جمعہ کے روز پاکستان، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے امدادی پروازیں لبنان پہنچی تھیں جس کے بعد فرانس، کویت، قطر اور روس کے دیگر ممالک سے بھی امدادی سامان کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امدادی سامان سے لدے تین امریکی طیارے لبنان جا رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا