امریکہ کا ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں بحال کرنے کا اعلان

امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو نے اعتراف کیا کہ اقوام متحدہ کے کچھ ارکان امریکی اقدام کی مخالفت کرسکتے ہیں۔

مائیکل پومپیو نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ عالمی ادارے آئی اے ای اے کو اپنے ایٹمی پلانٹس کے دورے کی اجازت نہیں دے رہا  (اے ایف پی)

امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو نے اقوام متحدہ کو آگاہ کیا ہے کہ ان کا ملک ایران پر عالمی ادارے کی تمام پابندیاں بحال کر رہا ہے جو ’جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن‘ (جے سی پی او اے) کے تحت 2015 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظور شدہ قرارداد 2231 کے تحت عنقریب ختم ہونے والی ہیں۔

اس قرارداد میں، جسے پومپیو نے ایران کے حق میں یک طرفہ فیصلہ قرار دیا، ایسی شرائط میں بھی شامل ہیں جن کے تحت ایران کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں اقوام متحدہ کی پابندیوں کو فوری طور پر دوبارہ نافذ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو خطوط میں مائیکل پومپیو نے کہا کہ وہ قرارداد کے ’سنیپ بیک‘ عمل شروع کررہے ہیں جو 30 دن کے اندر پابندیوں کو دوبارہ نافذ کردے گا۔

جمعرات کو اقوام متحدہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پومپیو نے کہا کہ ’ہمارا پیغام بہت سادہ ہے۔ امریکہ دہشت گردی کی دنیا کے سب سے بڑے ریاستی حمایتی ملک کو کبھی بھی آزادانہ طور پر جنگی طیارے، ٹینک، میزائل اور دیگر قسم کے روایتی ہتھیاروں کی خرید و فروخت کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اقوام متحدہ کی یہ پابندیاں جاری رکھی جائیں گی۔‘

انہوں نے کہا ان پابندیوں سے ایران کو اپنی بدنام زمانہ جوہری سرگرمیوں کے لیے بھی جوابدہ بنایا جا سکے گا جب کہ تہران پر ایک بار پھر بیلسٹک میزائل کے تجربوں سے روکا جائے گا۔

پومپیو کا کہنا تھا کہ ان پابندیوں سے ایران کو جوہری مواد کی افزودگی جیسی جوہری سرگرمیوں سے باز رکھا جائے گا کیوں کہ ان پابندیوں کا اطلاق جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر بھی لاگو ہوسکتا ہے۔

پومپیو نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ عالمی ادارے آئی اے ای اے کو اپنے ایٹمی پلانٹس کے دورے کی اجازت نہیں دے رہا جس سے اس کی غیر اعلانیہ جوہری سرگرمی میں دوبارہ ملوث ہونے کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔

پومپیو نے اعتراف کیا کہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ سمیت امریکی اتحادی نجی طور پر ایران پر اسلحہ کی پابندی بحال کرنے کی حمایت کرتے ہیں لیکن عوامی طور پر اس ’سنیپ بیک‘ آپشن کی حمایت کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ ’جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں ہمارے سب دوستوں نے مجھے نجی طور پر بتایا کہ وہ ایران پر اسلحے کی پابندی کو ختم نہیں کرنا چاہتے ہیں۔‘

تاہم امریکی وزیر خارجہ نے ان ممالک کی قیادت پر کھلے عام آیت اللہ خامنہ ای کا ساتھ دینے کا انتخاب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کے اقدامات سے عراق، یمن، لبنان، شام بلکہ حقیقت میں ان کے اپنے شہری بھی خطرے سے دوچار ہو گئے ہیں۔

تاہم پومپیو نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی خلیجی ریاستوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کی دہشت گردی کی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جرات اور اتحاد کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

’دو ہفتے قبل بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے سلامتی کونسل کو ایک خط بھیجا تھا جس میں ایران پر ہتھیاروں کی پابندی کو اکتوبر میں ختم ہونے سے پہلے ہی اسے دوبارہ نافذ کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔‘

پومپیو نے اعتراف کیا کہ اقوام متحدہ کے کچھ ارکان امریکی اقدام کی مخالفت کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’1985 کے بعد سے ایران نے صرف یورپ میں دہشت گردی کی کارروائیاں کیں، یورپی مسافر طیاروں کو اغوا کیا، بے گناہ یورپی باشندوں کو بمباری کر کے قتل کیا اور یہودی عبادت گاہوں کو اڑانے کی سازش کی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ایران ایسی قوم نہیں ہے جس پر اسلحہ کی خرید و فروخت کرنے کے لیے اعتماد کیا جا سکے اور اس لیے میں پوری دنیا کو متحد ہونے کی درخواست کرتا ہوں۔ ہمارے پاس یہ کام کرنے کے کی صلاحیت موجود ہے اور ہم اس کوشش کو جاری رکھیں گے۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اسلحہ کی پابندی کو بحال نہ کیا جائے۔‘

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ نے بھی امریکی سلامتی کونسل کو ایک خط بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کی بحالی کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جمعہ کو ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں محمد جواد ظریف نے کہا کہ جب امریکہ ایران اور بڑی عالمی طاقتوں کے مابین ہونے والے جوہری معاہدے سے دست بردار ہوا تو واشنگٹن نے اس معاہدے کے تحت یہ مطالبہ کرنے کا حق کھو دیا تھا۔

 انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے یکطرفہ اقدام سے اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کی ہے۔ گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر اسلحے کی فروخت پر پابندی میں توسیع کے لیے امریکی قرار داد کو بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا