بارشوں سے گدھوں کا 'تاریخی' میلہ بھی متاثر

سندھ کے ضلع بدین میں ہر سال منعقد ہونے والے اس میلے کو ایشیا میں گدھوں کی بڑی منڈیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

مون سون کی حالیہ بارشوں کے باعث سندھ میں منعقد ہونے والا گدھوں کا قدیم سالانہ میلہ بھی متاثر ہوا ہے۔

یہ میلہ ضلع بدین کے علاقے ٹنڈو غلام علی میں منعقد کیا جاتا ہے، جس میں سندھ کے ساتھ ساتھ ملک بھر سے تاجر شرکت کرتے ہیں۔ اس منڈی کو ایشیا میں گدھوں کی بڑی منڈیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

نجف علی کا شمار بھی ایسے تاجروں میں ہوتا ہے جو پچھلے کئی سالوں سے اس  میلے میں شرکت کرتے آرہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'یہ میلہ سو سال سے زیادہ پرانا ہے۔'

تاہم ایک روایت ہے کہ یہ میلہ تقریباً دو سو سال پہلے تالپوروں کے دور میں شروع ہوا۔ اس زمانے میں عاشورہ کے موقع پر دور دراز کے علاقوں سے لوگ تعزیے دیکھنے آتے تھے جو بہت مشہور تھے۔ چونکہ اس زمانے میں لوگوں کی آمدورفت کا ایک ذریعہ گدھے بھی تھے، اس لیے واپسی پر علاقے میں گدھوں کی منڈی لگنا شروع ہوئی جو آج تک قائم ہے۔

اس لیے یہ میلہ ہر سال ماہ محرم کی دس اور گیارہ تاریخ کو منعقد کیا جاتا ہے۔

نجف علی نے بتایا کہ اس سال مون سون کی بارشوں کی وجہ سے یہ میلہ متاثر ہوا ہے۔ 'بارش کی وجہ سے گدھوں کے بیوپاری یا تو جلدی واپس چلے گئے یا کم آئے۔ اس وجہ سے گدھوں کے سودے کم ہوئے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ گدھوں کی اعلیٰ نسلوں میں ایرانی، ٹکر سندھی، لاسی اور پنجاب کی قسمیں شامل ہیں، تاہم سندھ کی لاسی نسل سب سے زیادہ مہنگی ہے جس کی قیمت ستر ہزار روپے سے دو لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔

نجف علی کا کہنا ہے کہ لاسی گدھے چلنے کے لحاظ سے اچھے اور زیادہ وزن والے ہوتے ہیں اس لیے مہنگے ہوتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جدید دور میں گدھوں کا استعمال کم ہوتا جا رہا ہے کیوں کہ وزن اٹھانے کے لیے رکشہ آگئے ہیں۔

نجف نے مزید بتایا کہ 'کسی گدھے کی خوبصورتی کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ اس کے کان چھوٹے ہوتے ہیں اور جسم بھاری ہوتا ہے اور آگے پیچھے سے یکساں ہوتا ہے۔' انہوں نے بتایا کہ منڈی میں لائے جانے والے گدھوں کو کھانے کے لیے باجرہ اور جوار دیا جاتا ہے جبکہ گھی بھی کھلایا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا