صدر ٹرمپ کو ’اک اور دریا کا سامنا‘

معروف صحافی باب وڈورڈ کے انکشافات کے بعد صدر ٹرمپ شدید مشکل سے دوچار ہو گئے ہیں، ایسی مشکل جو خود ان کی پیدا کردہ ہے۔ ‘

(اے ایف پی)

امریکہ کے معتبر ترین صحافی باب وڈورڈ کی نئی کتاب ’ریج‘ آج منظر عام پر آرہی ہے۔ صدارتی انتخاب سے سات ہفتے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں اس کتاب کا بے چینی سے انتظار کیا جا رہا تھا۔

ایریزونا یونیورسٹی کے پروفیسر پیٹر برجن کا خیال ہے کہ ’آل دا پریزیڈنٹس مین‘ کے بعد یہ وڈورڈ کی سب سے زیادہ اہم کتاب ہے۔ وڈورڈ واشنگٹن پوسٹ کے سابق رپورٹر ہیں۔ 1970 میں انھوں نے صدر واٹر گیٹ سکینڈل کا انکشاف کیا تھا جس کے نتیجے میں صدر رچرڈ نکسن کو دوسری بار منتخب ہونے کے بعد بھی استعفیٰ دینا پڑگیا تھا۔ اس بارے میں وڈورڈ کی کتاب آل دا پریزیڈنٹس مین پر ہالی ووڈ میں فلم بھی بنائی گئی تھی۔

لیکن ڈونلڈ ٹرمپ ذرا مختلف آدمی ہیں۔ استعفیٰ دینا تو دور کی بات ہے، امریکہ میں لوگ اس امکان پر سنجیدہ گفتگو کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ اگر الیکشن ہارے اور انھوں نے نتائج ماننے سے انکار کیا تو انھیں وائٹ ہاؤس سے کیسے نکالا جائے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ 2016 میں بھی الیکشن سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ سے اس بارے میں سوال کیا تھا اور انھوں نے جواب نہیں دیا تھا۔ اس بار بھی ان سے یہ سوال کیا گیا ہے اور وہ جھکائی دے گئے ہیں۔

باب وڈورڈ نصف صدی سال سے ہر صدر کے عہد پر کتابیں لکھتے آئے ہیں۔ ٹرمپ دور کے بارے میں ان کی پہلی کتاب ’فئیر‘ یعنی خوف کو صدر اور ان کے ساتھیوں نے جھوٹ کہہ کر مسترد کر دیا تھا۔ امریکہ میں کسی سیاستدان کا وڈورڈ جیسی نیک نامی والے صحافی کو جھوٹا کہنا بڑے دل گردے والا کام ہے۔

لیکن اب یہ سوال ہے کہ صدر ٹرمپ کسی جھوٹے کو انٹریوز دینے پر کیسے راضی ہوئے؟ نیویارک ٹائمز کے رپورٹر پیٹر بیکر نے لکھا کہ وڈورڈ کی کتاب فئیر چھپی تو صدر ٹرمپ نے منفی تاثر کا ذمے دار اپنے عملے کو قرار دیا۔ ان کا خیال تھا کہ وڈورڈ سے ان کی ملاقاتیں کروائی جاتیں تو کتاب کا تاثر مثبت ہو سکتا تھا۔ بظاہر وڈورڈ نے بھی صدر ٹرمپ تک رسائی کے لیے چارہ ڈالا۔ انھوں نے صدر کے پسندیدہ چینل فوکس نیوز کو انٹرویو دیا اور ایف بی آئی پر صدر کے الزامات کی تائید کی۔

اس کے بعد صدر ٹرمپ نے وڈورڈ کو نئی کتاب کے لیے 18 انٹرویو دیے۔ انھوں نے ایک کے سوا سب ریکارڈ کیے تاکہ بعد میں ان کے ممدوح کے لیے مکرنا ممکن نہ رہے۔ وڈورڈ نے بتایا کہ گفتگو کے دوران انھیں کئی بار احساس ہوا کہ وہ اور ٹرمپ دونوں الگ دنیاؤں میں موجود ہیں۔ انھوں نے آسان سوال بھی کیے تاکہ ٹرمپ سے مرضی کے جواب لے سکیں لیکن سوال گندم اور جواب چنا کی صورت حال پیش آئی۔

وائٹ ہاؤس نے وڈورڈ کو ان 27 ’محبت ناموں‘ تک رسائی دی جو صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ نے ایک دوسرے کو لکھے۔ دونوں کے درمیان تین ملاقاتیں بھی ہوئیں لیکن صدر ٹرمپ کی خواہش کے مطابق شمالی کوریا تاحال جوہری ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہوا۔ کتاب کی پروموشن کے لیے اس کے چند مندرجات میڈیا میں جاری کیے گئے تھے جن سے معلوم ہوا کہ صدر ٹرمپ کو پہلے دن سے کرونا وائرس کی ہلاکت خیزی کا علم تھا لیکن وہ جان بوجھ کر خطرے کو گھٹا کر پیش کرتے رہے۔

کتاب کے مطابق 28 جنوری کو اوول آفس میں ٹاپ سیکرٹ انٹیلی جنس اجلاس میں صدر ٹرمپ کو بتایا گیا کہ کرونا وائرس ان کے عہد صدارت میں قومی سلامتی کا سب سے بڑا خطرہ ثابت ہو گا۔ ایک مشیر نے خبردار کیا کہ یہ 1918 جیسی عالمگیر وبا جیسا خطرہ ہے۔ صرف دس دن بعد سات فروری کو صدر ٹرمپ نے باب وڈورڈ کو انٹرویو میں اس بارے میں آگاہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ وائرس ہوا کے ذریعے پھیلتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی میڈیا اس خبر پر چیخ اٹھا کہ صدر ٹرمپ کو جب سنگینی کا احساس تھا تو انھوں نے جھوٹ کیوں بولا اور اس وبا کو روکنے کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے جس کے باعث دو لاکھ شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ تک گرم ہوا پہنچی تو انھوں نے سارا الزام باب وڈورڈ پر ڈال دیا۔ انھوں نے ٹویٹ کیا کہ وڈورڈ کے پاس میرا انٹرویو کئی ماہ پہلے سے موجود تھا۔ اگر وہ سمجھتے تھے کہ میں غلطی پر ہوں تو انھوں نے کیوں فوری طور پر انھیں عام نہیں کیا تاکہ زندگیاں بچائی جا سکیں۔ کیا یہ ان کی ذمے داری نہیں تھی؟

ٹرمپ کے علاوہ وڈورڈ نے ریکس ٹلرسن، جم میٹس اور ڈین کوٹس کے بھی انٹرویو کیے۔ ان کی گفتگو بہت سوں کے لیے چشم کشا ہو گی۔ نیشنل انٹیلی جنس کے سابق ڈائریکٹر ڈین کوٹس نے کہا، صدر ٹرمپ جھوٹ اور سچ میں تمیز نہیں کر سکتے۔ افواج کے سپریم کمانڈر یعنی صدر کے بارے میں سابق وزیر دفاع میٹس نے کہا کہ وہ ٹرمپ کی پروا نہیں کرتے تھے اور ان سے کوئی رہنمائی نہیں ملی۔ سابق امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر خارجہ امور میں دخیل تھے۔

ایسا نہیں ہے کہ عہدوں سے فارغ ہونے کے بعد یہ لوگ ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ وڈورڈ نے لکھا ہے کہ میٹس اور کوٹس نے انتظامیہ میں رہتے ہوئے صدر ٹرمپ کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا اور میٹس نے کہا کہ صدر ٹرمپ خطرناک اور ناموزوں شخص ہیں۔

باب وڈورڈ نے 1996 کے انتخابات پر اپنی کتاب چوائس میں لکھا تھا کہ جب سب کچھ کہہ سن لیا جائے تو پھر جو شے سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، وہ ہے کردار۔ نئی کتاب کے مرکزی کردار کے بارے میں انھوں نے لکھا کہ صدر ٹرمپ کی کارکردگی کو جامع انداز میں دیکھیں تو ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے: ’وہ صدارت کے لیے موزوں آدمی نہیں۔‘


یہ تحریر مصنف کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ