کیا واقعی زہرہ کی فضاؤں میں زندگی کے آثار مل گئے؟

مریخ پر زندگی کی ممکنہ موجودگی کے بارے میں صحافی نے جب معروف امریکی سائنسدان کارل سیگن سے دریافت کیا تو ان کا جواب بہت نپا تلا تھا: 'غیرمعمولی دعووں کو غیرمعمولی ثبوتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔'

(پکسابے)

’سیارہ زہرہ (وینس) پر زندگی سے تعلق رکھنے والی گیس دریافت کرلی گئی!‘ گذشتہ دنوں کم و بیش دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ (میڈیا) میں یہ خبر گرم رہی، جو دراصل ’فاسفین‘ (phosphine) کہلانے والی ایک گیس کے بارے میں تھی۔

اس گیس کا کوئی رنگ نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی بُو ہوتی ہے لیکن یہ آتش گیر، زنگ لگانے والی اور انتہائی زہریلی گیس ہے جس کی معمولی مقدار بھی صرف چند منٹوں میں انسانی جان لے سکتی ہے۔ زمینی ماحول میں اس کی بہت کم مقدار پائی جاتی ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کوئی جاندار مر جاتا ہے تو اس کے گلنے سڑنے سے فاسفین کی کچھ مقدار پیدا ہوتی ہے، اور یہی وہ بات ہے جس نے زہرہ پر فاسفین کی دریافت کو، اس سیارے پر زندگی کے ممکنہ وجود سے جوڑتے ہوئے، تہلکہ خیز بنا دیا۔

یہ خبر دراصل تحقیقی جریدے 'نیچر ایسٹرونومی' کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والے ایک مقالے پر مبنی ہے جو امریکی اور برطانوی ماہرینِ فلکیات نے مشترکہ طور پر تحریر کیا ہے، جس میں مختلف زمینی اور خلائی دوربینوں سے سیارہ زہرہ کے تفصیلی مشاہدات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

اس تحقیقی مقالے (ریسرچ پیپر) میں بہت محتاط انداز سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اگر ’سیارہ زہرہ کی بالائی فضاؤں میں فاسفین گیس کی وضاحت کسی ایسے کیمیائی عمل سے نہیں ہوتی کہ جس سے ہم واقف ہوں، تو پھر یہ (فاسفین گیس) کسی ایسے عمل سے پیدا ہوئی ہو گی جو ہمارے لیے اب تک نامعلوم ہے۔‘ آگے چل کر وہ اسےسیارہ زہرہ پر زندگی کی ایک ’ممکنہ علامت‘ بھی کہتے ہیں لیکن یہاں بھی احتیاط سے کام لیتے ہیں کہ کوئی غیرمعمولی دعویٰ سرزد نہ ہو جائے۔

ماہرین کی یہ تحقیق اور میڈیا میں ہونے والا شور شرابہ میری یادوں کو بے اختیار 1996 میں لے گیا، کہ جب میڈیا میں 'مریخ پر زندگی دریافت ہو گئی' کا ہنگامہ برپا ہوا تھا۔ کیا نیویارک ٹائمز اور کیا واشنگٹن پوسٹ، کیا ٹائم میگزین اور کیا نیوز ویک، غرض دنیا کے ہر بڑے اخبار اور جریدے نے اس بارے میں نمایاں خبریں اور مضامین شائع کیے تھے۔ اس طرح یہ 1996 کی مشہور ترین سائنسی خبر بھی قرار پائی۔

اخبارات و رسائل میں جو کچھ بھی لکھا گیا، اس سے قطع نظر، واقعہ کچھ یوں تھا کہ امریکی خلائی ادارے ناسا کے ماہرین نے ایک مریخی پتھر میں زندگی کی ممکنہ خردبینی/ سالماتی باقیات‘ دریافت کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اے ایل ایچ 84001 (ALH84001) کہلانے والا یہ مریخی پتھر 1984 میں منجمد براعظم انٹارکٹیکا کے ایک مقام ایلن ہلز سے دریافت ہوا تھا۔ ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری (جے پی ایل) کے درجن بھر سائنسدانوں پر مشتمل ٹیم نے تقریباً دو سال تک اس پر مسلسل تحقیق کرنے کے بعد اس میں سے کچھ ایسے نامیاتی مرکبات (آرگینک کمپاؤنڈز) دریافت کرلیے جو 'پی اے ایچ' کہلاتے ہیں اور عام طور پر خردبینی جانداروں (مائیکروبز) سے فضلے کے طور پر خارج ہوتے ہیں۔

اگرچہ اے ایل ایچ 84001 میں ان مرکبات کی مقدار بہت ہی معمولی تھی لیکن بہرحال موجود تھی۔ اسی موجودگی کو بنیاد بناتے ہوئے ناسا کے سائنسدانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا: 'شاید، آج سے کروڑوں سال پہلے، مریخ پر زندگی اپنی بہت ہی معمولی حالت میں موجود رہی ہو۔' یہی بات انہوں نے پوری احتیاط سے ایک تحقیقی مقالے میں بھی لکھ دی جو 16 اگست 1996 کے روز تحقیقی جریدے سائنس میں شائع ہوا۔

اسی روز ناسا کے سربراہ ڈینیئل گولڈِن صاحب نے بھی صحافیوں سے کچھاکھچ بھری ہوئی ایک پریس کانفرنس میں، اسی احتیاط کے ساتھ، اس دریافت کا اعلان کر دیا۔ بس! پھر کیا تھا، میڈیا کو ایک گرما گرم خبر مل گئی جسے خوب نمک مرچ لگا کر پیش کیا گیا… بعض امریکی اور برطانوی اخبارات نے (جو اُن دنوں بالترتیب امریکن سینٹر لائبریری اور برٹش کونسل لائبریری میں باقاعدگی سے آیا کرتے تھے) 'مریخ پر زندگی دریافت ہوگئی' تک لکھنے سے گریز نہیں کیا۔

میں اُن دنوں کراچی سے شائع ہونے والے ماہنامہ 'سائنس ڈائجسٹ' کا نائب مدیر تھا۔ ایک متجسس انسان اور سائنسی صحافی کی حیثیت سے میرے لیے بھی یہ موضوع انتہائی دلچسپی کا حامل تھا؛ اور اپنے اسی شوق کی خاطر میں نے اس دریافت سے متعلق وہ سب کچھ جمع کیا جو پاکستان میں دستیاب ہوسکتا تھا۔ (تب پاکستان میں انٹرنیٹ کا آغاز تو ہوچکا تھا لیکن یہ اتنا مہنگا تھا کہ صرف ایلیٹ کلاس ہی اس سے مستفید ہوسکتی تھی۔)

غالباً وہ ٹائم میگزین کا کوئی شمارہ تھا جس میں مریخ پر زندگی کی ممکنہ موجودگی کے بارے میں کئی مضامین پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی تھی۔ صحافی نے جب معروف امریکی سائنسداں، کارل سیگن (Carl Sagan) سے اس بارے میں رائے مانگی تو اُن کا جواب بہت نپا تلا تھا:

'غیرمعمولی دعووں کو غیرمعمولی ثبوتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔'

)Extraordinary claims need extraordinary proofs.)

یہ جملہ یادداشت میں کچھ ایسے بیٹھ گیا کہ ہر نئے دعوے کے اعلان پر ذہن میں تازہ ہوجاتا ہے۔ کارل سیگن تو دسمبر 1996 میں اس دنیا سے رخصت ہوئے لیکن اس جملے کی صداقت اگلے ہی سال تخت نشین ہوگئی، جب اسکرپس انسٹی ٹیوٹ، کیلیفورنیا کے سائنسدانوں کا تحقیقی مقالہ شائع ہوا۔ اس میں انہوں نے بتایا کہ 'پی اے ایچ' مرکبات ایسے حالات اور عوامل کے تحت بھی بن سکتے ہیں جن کا زندگی سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ مطلب یہ کہ 1996 کی ہنگامہ خیز دریافت سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مریخ پر ماضی میں کبھی کوئی زندگی موجود بھی رہی ہوگی… اور یوں مریخ پر زندگی کا شور مچانے والے صحافیوں کے ارمان ٹھنڈے پڑ گئے۔

آج جب 'سیارہ زہرہ پر زندگی کے آثار مل گئے' جیسی خبریں پڑھیں تو 1996 کا مذکورہ بالا واقعہ یاد کیے بغیر نہیں رہ پایا۔

مان لیا کہ کارل سیگن اور ہیرلڈ مورووِٹز نے 1967 میں سیارہ زہرہ کے بادلوں میں زندگی کی ممکنہ موجودگی کے بارے میں ایک مفروضہ پیش کیا تھا۔ لیکن انہوں نے اپنے اس خیال کو (اختتام میں ایک سوالیہ نشان کے ساتھ)  مفروضہ ہی قرار دیا تھا، ایسا کوئی دعویٰ ہرگز نہیں کیا تھا۔ بعد ازاں جب ہمیں سیارہ زہرہ کے شدید گرم اور تیزابی ماحول کے بارے میں معلوم ہوگیا، تو انہوں نے بھی اپنے اس مفروضے پر بات نہیں کی۔

بے شک سائنس نے بہت ترقی کرلی ہے لیکن اس کائنات سے اس نظامِ فطرت سے وابستہ حیرت سامانیوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے؛ بلکہ اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ سائنس سے سچی محبت رکھنے والا، اور سائنس کو سنجیدگی سے سمجھنے والا ہر شخص اس بات سے متفق ہو گا کہ جیسے جیسے انسان کا علم وسعت پذیر ہورہا ہے، ویسے ویسے لاعلمی کا احساس بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

زندگی اور اس سے وابستہ کیمیا (آرگینک کیمسٹری) کے بارے میں ہم اب تک ہم جو کچھ بھی جانتے ہیں، اسے مدِنظر رکھیں تو یہی لگتا ہے کہ شاید سیارہ زہرہ پر کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی گوشے میں زندگی پنپ رہی ہوگی۔۔۔ چاہے وہ معمولی جرثوموں (بیکٹیریا) جیسی ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن جو کچھ ہم آج تک جان پائے ہیں، کیا وہ حرفِ آخر ہے؟ کیا ہمارا علم مکمل ہے؟

آج ہمارا اتفاقِ رائے ہے کہ صرف کاربن ہی وہ عنصر ہے جو زندگی کو بنیاد فراہم کرسکتا ہے، کسی اور عنصر میں یہ صلاحیت آج تک نہیں دیکھی گئی۔ ہاں! مفروضے ضرور موجود ہیں۔ اس بارے میں بھی وسیع تر اتفاقِ رائے ہے کہ اگر کسی سیارے پر ایسا ماحول ہو کہ جہاں مائع حالت میں پانی موجود رہ سکے، تو وہاں کاربن پر مشتمل 'مخصوص سالمات' (یعنی آرگینک مالیکیولز) کے طفیل زندگی کا ظہور ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب اگر سیارہ زہرہ کی بات کریں تو وہاں کی سطح پر ہوا کا دباؤ، زمینی سطح کے مقابلے میں 92 گنا زیادہ ہے جبکہ اس جہنمی سیارے کی سطح 467 ڈگری سینٹی گریڈ جتنی گرم ہے۔ زہرہ کی دبیز فضا میں ایک زہریلی گیس 'سلفر ڈائی آکسائیڈ' کے بادلوں کا راج ہے اور وہاں تیزابی بارش برستی رہتی ہے۔

زہرہ کی فضاؤں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی مقدار سب سے زیادہ، یعنی 96.5 فیصد ہے جس کے ساتھ آبی بخارات (water vapors) بھی بہت معمولی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ زہرہ کی سطح سے قریب ہواؤں کی رفتار بہت کم، یعنی صرف 10 کلومیٹر فی گھنٹہ کے لگ بھگ ہوتی ہے، لیکن بلند ہونے پر یہ رفتار بڑھتے بڑھتے تقریباً 360 کلومیٹر فی گھنٹہ جیسی حیرت انگیز رفتار تک جا پہنچتی ہے۔

ان تمام باتوں سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ سیارہ زہرہ پر زندگی کا وجود میں آنا تو درکنار، زندگی کی بنیاد بننے والے سالمات (مالیکیولز) کا برقرار رہنا بھی ناممکن ہے۔

لیکن جناب! یہ سب کچھ تو وہ ہے جس کا انحصار 'ہم جانتے ہیں' پر ہے، اور جو کچھ ہم نہیں جانتے، وہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔۔۔ اور کیا پتہ کہ اس سے بھی بڑھ کر حیرت انگیز ہو۔ کیا خوب یاد آیا! حالیہ، یعنی اکیسویں صدی کی ابتدا پر ایک جریدے کیلیے سر جان میڈوکس کے خصوصی مضمون کا عنوان کچھ یوں تھا:

'غیر متوقع سائنس کی آمد متوقع ہے۔'

(Unexpected Science to come)

یہ عنوان یاد آنے کی وجہ یہ ہے کہ اس ایک دریافت نے سیارہ زہرہ میں ہماری دلچسپی اچانک بڑھا دی ہے، ہمیں کچھ نئے اور اچھوتے سوالوں کے رُوبرو کر دیا ہے:

•    کیا زہرہ پر فاسفین گیس، وہاں موجود زندگی کی وجہ سے ہے؟

•    اگر ہاں، تو زندگی کی وہ صورت کیسی ہو گی؟

•    اگر نہیں، تو کیا وہاں کوئی ایسا مختلف کیمیائی عمل جاری ہے جس سے ہم اب تک واقف ہی نہیں؟

•    کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ دریافت ہمارے مشاہداتی آلات (انسٹرومنٹس) میں کسی خرابی کا نتیجہ ہو؟

کچھ بھی ہوسکتا ہے۔۔۔ کچھ بھی۔ جب تک اس معاملے پر کوئی 'حتمی فیصلہ' نہیں آ جاتا، تب تک ہمارے پاس تو سوائے صبر و انتظار کے اور کوئی چارہ نہیں۔

تو پھر۔۔۔ انتظار فرمائیے!

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ