افغانستان میں لڑکی پیدا ہونا باعث شرم

اگرچہ خود عالمی برادری اور افغان حکومت کی کاوشوں نے صنفی مساوات پر توجہ دی ہے لیکن بدقسمتی سے ان کوششوں کے نفاذ کار خود بھی اس مساوات پر کم ہی یقین رکھتے ہیں۔

(اے ایف پی)

جب ہمارے خاندان میں پہلی بیٹی تین بیٹوں کے بعد پیدا ہوئی تو میرے والد بہت خوش تھے۔

لیکن جب پانچویں لڑکی پیدا ہوگئی تو خوشی اتنی زیادہ نہیں تھی۔ چھٹی بیٹی کی پیدائش کے ساتھ ہی میرے باپ میری ماں کو بغیر کسی خوشی کے گھر لے آئے ، انہیں چھوڑا اور کام پر چلے گئے۔

یہ میرے والد کا رد عمل تھا ، جو اپنے آپ کو دانشور سمجھتے تھے اور بیٹے یا بیٹی کی زیادہ پرواہ نہیں کرتے تھے۔

عام خاندانوں میں یہ رد عمل اس سے بھی زیادہ شدید ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے ایک رشتہ دار نے اپنی بیوی کو ہسپتال میں اس وقت اکیلا چھوڑ دیا جب اس کی بیٹی پیدا ہوئی اور اسے بہت پریشانیوں کے ساتھ ٹیکسی کے ذریعے گھر آنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

افغان معاشرے میں بیٹی کی پیدائش ہمیشہ شرم اور شرمندگی کے مترادف ہے۔

یقینا، ، یہ تنزلی کا کلچر نہ صرف افغانستان میں بلکہ تیسری دنیا کے بیشتر ممالک میں بھی خاص طور پر ان ممالک میں پایا جاتا ہے جو معاشی طور پر کمزور ہیں۔ کیونکہ ان ممالک میں روزگار کا کام مردوں کے لیے مختص ہے اور بیٹے پیدا کرنے کا مطلب بہت بڑی افرادی قوت ہونا ہے۔

اقوام متحدہ نے 11 اکتوبر کو بیٹیوں کا دن نامزد کیا ہے۔ یہ دن صنفی مساوات کو فروغ دینے اور لڑکیوں کے حقوق پر توجہ دینے کے لیے منانا شروع کیا گیا تھا تاہم نہ تو اس دن کی تشکیل اور نہ ہی سول سوسائٹی کی کاوشیں لڑکے اور لڑکیوں کے مابین تفریق کے کلچر کو ختم کرنے میں کامیاب ہیں۔

بلکہ صنفی امتیاز کے لحاظ سے ، افغانستان مکمل طور پر لڑکی مخالف ملک ہے۔

گذشتہ انیس سالوں کے دوران افغان معاشرے میں صنفی مساوات کو ایک اہم اصول کے طور پر وضع کرنے کی بہت کوششیں کی گئیں۔  شہروں میں  اس امتیازی سلوک کی شدت کچھ حد تک کم ہو بھی گئی ہے لیکن بڑے شہروں سے باہر ، صورتحال اب بھی انتہائی تشویشناک ہے۔

افغانستان میں لڑکیوں کو صرف پیدائش کے وقت ناخوش چہروں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس جغرافیے میں ان کی پوری زندگی انہی مصائب سے عبارت ہے۔

کم عمری کی شادی افغانستان میں لڑکیوں کے لیے ایک اور  بڑا خطرہ ہے۔ دوسری طرف افغانستان کے دیہی علاقوں میں شادی کے بغیر ہی لڑکیوں کا بوڑھا ہونا بھی ایک عام بات ہے ۔ مذہب کی شکل دے کر لڑکیوں کی خریدوفروخت تیسرا اہم مسئلہ ہے۔

لیکن جیسے جیسے لڑکیوں کی عمر بڑھتی ہے معاشرتی رواج کے مطابق ان کی قیمتیں کم ہوتی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر خاندان کم عمری میں ہی اپنی بیٹیاں بیاہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

'بد دادن' یا 'خون بس' ایک اور لعنت ہے جو لڑکیوں کے لیے مہلک ثابت ہوتی ہے۔ افغانستان میں معاشرتی روایت کے مطابق وہ خاندان جو دشمنی میں مبتلا ہوں، اور یہ دشمنی ایک دوسرے کا خون بہانے کی قیمت پر ہی ختم ہوتی ہو، وہ اپنی بیٹی اس خاندان میں بیاہ دیتے ہیں  جسے بہائے گئے خون کا بدلہ مانا جاتا ہے۔ جو لڑکی اس رسم کا شکار ہو اس کی اپنے شوہر کے اہل خانہ میں ذرا بھی عزت نہیں ہوتی اور وہ اپنی موت تک بدترین اذیتیں برداشت کرتی ہے۔

نیز سکول جانا اور تعلیم حاصل کرنا بھی لڑکیوں کے لیے ممنوع ہے۔ یہاں تک کہ دیہی علاقوں کے لوگوں میں ایک پڑھی لکھی لڑکی ایک ناخواندہ لڑکی سے کم قیمت کی حامل ہے کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کی آنکھیں اور کان کھلے ہوئے ہیں اور وہ قابل اعتماد نہیں ہے۔

ان تمام وجوہات کی بنا پر افغانستان میں خواتین کے حقوق کی بات زبان زد عام ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ افغانستان لڑکیوں کے پیدا ہونے کےلیے  بہتر جگہ نہیں ہے۔

اگرچہ خود عالمی برادری اور افغان حکومت کی کاوشوں نے صنفی مساوات پر توجہ دی ہے لیکن بدقسمتی سے ان کوششوں کے نفاذ کار خود بھی اس مساوات پر کم ہی یقین رکھتے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں صنفی مساوات قائم کرنے کی 19 سالہ کوششیں رائیگاں گئی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین