صدر ٹرمپ کا دھاندلی کا دعویٰ جھٹلانے والے عہدیدار برخاست

اپنے اس دعوے کی تازہ ترین کوشش میں کہ وہ الیکشن دھاندلی سے متاثر ہوئے اور جو بائیڈن جائز فاتح نہیں ہیں، صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ سائبر سکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ کرس کریبز کو عہدے سے ہٹا رہے ہیں۔

صدر کی ٹویٹ پر ٹوئٹر نے فوری طور پر نشاندہی کی کہ ’الیکشن دھاندلی کے یہ دعوے متنازع ہیں۔‘(اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سائبر سکیورٹی کے اس اعلیٰ عہدیدار کو اپنے عہدے سے ہٹا دیا ہے جنہوں نے ان کے اس دعوے کی تردید کی تھی کہ 2020 کے انتخابات دھاندلی زدہ تھے۔

تمام تر شواہد کے برعکس اور اپنے اس دعوے کی تازہ ترین کوشش میں کہ وہ الیکشن دھاندلی سے متاثر ہوئے اور جو بائیڈن جائز فاتح نہیں ہیں، صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ سائبر سکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ کرس کریبز کو برخاست کر رہے ہیں۔

صدر نے اس فیصلے کا تعلق کرس کریبز کے حالیہ بیان سے جوڑا ہے جس میں کریبز نے کہا تھا کہ الیکشن کے عمل میں کسی قسم کی بے ضابطگی کے شواہد نہیں ملے، باوجود اس کے صدر ٹرمپ نے اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے جو بائیڈن کی فتح کو عدالتوں میں چلینج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

صدر نے لکھا: ’الیکشن 2020 کے بارے میں کرس کریبز کے حالیہ بیانات بہت غلط تھے۔ ان میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں اور فراڈ کیا گیا جن میں مردہ افراد کی ووٹنگ بھی شامل ہے جبکہ الیکشن کی نگرانی کرنے والوں کو بھی پولنگ کے مقامات تک رسائی نہیں دی گئی۔ مشینوں میں بھی مسائل تھے اور انہوں نے ٹرمپ کے ووٹس کو بائیڈن کے ووٹس میں بدل دیا، تاخیری ووٹنگ بھی ہوتی رہی اور بہت کچھ ہوا۔‘

’اس لیے فوری طور پر کرس کریبز کو سائبر سکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹایا جاتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صدر کی ٹویٹ پر ٹوئٹر نے فوری طور پر نشاندہی کی کہ ’الیکشن دھاندلی کے یہ دعوے متنازع ہیں۔‘

کرس کریبز جن کی ایجنسی ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کا حصہ ہے، کچھ عرصے سے اس خدشے کا شکار تھے کہ انہیں فارغ کیا جا سکتا ہے خاص طور پر گذشتہ ہفتے سے جب انہوں نے باقی عہدیداروں کے ساتھ 2020 کے صدارتی اتنخابات کو شفاف قرار دیا تھا۔

ایجنسی کی جانب سے گذشتہ ہفتے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ کسی الیکشن سسٹم نے ووٹ ضائع کیے، کھوئے یا تبدیل کیے ہیں یا ان کو کسی طرح بدلا گیا ہو۔‘

اس بیان پر الیکشن سکیورٹی گروپس کے دستخط تھے جن میں نیشنل اسوسی ایشن آف الیکشن ڈائریکٹرز بھی شامل تھی۔

 

بیان میں کہا گیا: ’تمام ریاستیں جہاں الیکشن نتائج آ چکے ہیں کے پاس 2020 کے صدارتی انتخاب کے ہر ووٹ کا ریکارڈ موجود ہے جو ضرورت پڑنے پر دوبارہ گنتی میں مددگار ہو گا۔ یہ سکیورٹی کے لیے ایک اور فائدہ ہے۔ یہ طریقہ کار غلطیوں کی نشاندہی اور ان کو صحیح کرنے کی اجازت دیتا ہے۔‘

ایک جانب جب صدر ٹرمپ نے کرس کریبز پر کھلے عام تنقید کی ہے دوسری جانب ’نیو یارک ٹائمز‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ ڈی ایچ ایس میں کریبز کے باس چاڈ وولف نے مائیکروسافٹ کے سابقہ ایگزیکٹو کے کام کی تعریف کی ہے۔

43 سالہ کرس کریبز ٹوئٹر پر انتخابات اور ان ماہرین کا دفاع کر رہے تھے جو الیکشن کی نگرانی کرنے کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔

منگل کی صبح انہوں نے ٹویٹ کی: ’ان الزامات پر کہ الیکشن نتائج کو بدلا گیا، 59 الیکشن سکیورٹی ماہرین میں سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہر اس معاملے جس سے ہم آگاہ ہیں، ان کے بارے میں ایسے دعوے بے بنیاد اور تکنیکی طور پر بھی غلط ہیں۔‘ ٹوئٹ میں انہوں نے پروٹیکٹ 2020 کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔

’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں کرس کریبز کئی افراد سے کہہ چکے تھے کہ انہیں اس بات کی فکر نہیں اگر صدر ٹرمپ انہیں نوکری سے نکال دیتے ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ