کرونا ڈائری: حکومت کی ذمہ داری؟

کرونا وائرس سے دو ہفتوں کی جنگ کا آخری حصہ، جس میں حکومت کے کردار سے متعلق بات بھی ضروری ہے۔

جن کے بارے میں اس سال کے اوائل سے سن رہے تھے، ان سے ملاقات بھی بالآخر ہو ہی گئی۔ جن کے چرچے رکنے میں نہیں آ رہے، جن سے عالمی طاقتیں خوفزدہ ہیں اور جن سے عام مزدور بھی کچھ عرصے تک متاثر ہوا ہے۔ بہت غور کیا کہ آخر کہاں سے آیا یہ کرونا وائرس گھس بیٹھیا اور کیونکر میں اس کا شکار ہوا۔

اس کا جواب آسان نہیں۔ میرے جیسے عام آدمی کے لیے تو ناممکن ہے، لیکن ایک بات جو میں تسلیم کرتا ہوں اور شاید اسی وجہ سے اس کا شکار بھی ہوا، وہ تھا دوسری لہر کے آنے کے باوجود ہاتھ کم دھونا۔ ماسک تو میں باقاعدگی سے پہنتا رہا لیکن ہاتھوں کی صفائی سے غفلت نے غالباً اس بیماری کا شکار کیا۔

ان تقریباً دو ہفتوں میں ایک بات کا شدت سے احساس ہوا اور وہ تھا ریاست کی جانب سے ’آپ کی ماں ہونے کا حق پورا کرنا‘۔

حکومت روزانہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے بار بار عام لوگوں کو یہ احساس دلاتی رہی ہے کہ ’احتیاط کریں، احتیاط کریں‘ اور بس۔ اس کا مطلب اب سمجھ آیا کہ خود جتنی احتیاط کرسکتے ہیں کرلیں حکومت پر تکیہ ہرگز نہ کریں۔ خود ہی قرنطینہ میں چلے جائیں، اگر خدانخواستہ حالت خراب ہو تو خود ہی ہسپتال میں بستر تلاش کریں اور اگر جانبر نہیں ہوتے تو اللہ بچائے خود ہی خاموشی سے قبرستان چلے جائیں۔  

حکومت ہر موبائل کال میں احتیاط کے ریکارڈ شدہ پیغام سنا سنا کر مت مار دیتی ہے لیکن اگر آپ ایک مرتبہ اس کا شکار ہو جائیں تو ایک بار بھی نہیں پوچھتی کہ کیسے ہو بھائی۔ کیا چل رہا ہے؟ کوئی مدد چاہیے (زبانی جمع خرچ ہی سہی) گھر پر کچھ ادویات جیسی اشیا اگر چاہییں ہوں تو ہمیں کہیں ہم مہیا کروا دیتے ہیں۔ لیکن نہیں بھائی ریاست ہی فلاحی نہیں تو فلاح کا کیسے سوچے۔

اس کے مقابلے میں برطانیہ میں ہر کویڈ 19 کے مریض کو حکومت کی جانب سے یہ پیغام موصول ہوتا ہے۔ گھریلو سامان مہیا کرنے کی بھی پیشکش اور طبی رضا کاروں کی مدد الگ۔ ہمارے ٹائیگر رضا کار شاید ابھی ٹماٹر اور چینی کی قیمتیں قابو میں لانے میں مصروف ہیں، ان کا کرونا کی جانب خیال نہیں گیا ہے۔

ہمارے ہاں بس جب آپ ٹیسٹ کروانے جاتے ہیں تو حکومت کے اعدادوشمار کا حصہ بن جاتے ہیں، اس کے سوا کچھ نہیں۔ کتنے لوگوں کی اطلاع ملی کہ ہسپتال میں بستر دستیاب نہیں اور اگر پیسے دے کر لے بھی لیں تو ڈاکٹر غائب ہیں۔ یہ تو اچھا ہو ہمارے مضبوط خاندانی نظام کا کہ آپ کی مدد کو دو چار لوگ ہوتے ہیں ورنہ یقیناً بڑی تعداد میں پاکستان میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اکیلے رہتے ہوں گے۔ ان کی مدد کون کرے گا؟

قرنطینہ میں میری ساتھی مکھی نمبر دو اور چھپکلی آج دونوں دو روز سے غائب ہیں۔ دائیں بائیں جھانکا لیکن کہیں بھی نہیں۔ چھپکلی کی تو کوئی خاص ٹینشن نہیں تھی لیکن نہ جانے کیوں مکھی کا غائب ہونا قبول نہیں تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شاید دل میں بےتکی سی خواہش تھی کہ تینوں کو قید سے رہائی اکٹھی ملے۔ اللہ اللہ کر کے 14 دن مکمل ہوئے تو چھپکلی کی لاش کھڑی سے باہر مکان کے عقب میں ملی۔ مکھی تادم تحریر لاپتہ ہے اور میں نیگٹو آنے کے بعد آزاد ہوں۔

صحت یابی کے بعد میں کہہ سکتا ہوں کہ بیماری سے قبل کی صحت اور اپنے آپ کو ہرممکن فٹ رکھنا ہی کام آیا۔ یقیناً اچھے ڈاکٹروں، جن میں سے چند تو خود اس کا شکار ہوئے، کے مشورے بھی ساتھ ساتھ شامل تھے جو موت کے منہ سے نکال لائے ہیں۔

جاتے جاتے جو چیزیں مفید پائیں ان میں بھاپ یا سٹیم کے استعمال نے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ یہ بھی کیا اعلیٰ ایجاد ہے۔ کہیں تو یہ کبھی ہزاروں ٹن کے ریل انجن کو چلا دیتی ہے اور کہیں یہ بند ناک اور سینے کو کھول دیتی ہے۔ اس کی افادیت کا اندازہ پہلی مرتبہ اس کے دو ہفتوں کے بھرپور استعمال سے ہوا۔ اب لوگ پریشر کوکر سے بھاپ کیسے لیں، اس کے طریقے بھی سوشل میڈیا پر بتا رہے ہیں۔ بھاپ کے ساتھ ساتھ اگر سری پائے کی خوشبو بھی آئے تو کیا ہی بات ہے۔

آخر میں پھر وہی بات کہ اپنا خیال رکھیں، ایس او پیز پر 100 فیصد عمل کریں اور کرونا وائرس کو ہرگز ہلکا مت لیں۔  

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی