قرنطینہ میں کرونا مراکز کی نگرانی کرنے والے اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر

بلوچستان میں 500 سرکاری اہلکار کرونا وائرس کا شکار ہوئے۔ ان میں اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ثاقب کاکڑ بھی تھے جنہوں نے بیمار ہونے کے باوجود اپنا کام جاری رکھا۔

کرونا (کورونا) وائرس نے دنیا کو جس تجربے سے گزارا وہ ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے اہم سبق کی حیثیت رکھتا ہے۔

جہاں اس وائرس نے انسانی زندگی پر سنگین اثرات چھوڑے وہیں مختلف نقصان دہ سماجی رویوں نے اکثریت کو موت کے گھاٹ بھی اتارا۔ پاکستان جہاں اس وائرس سے متعلق لاتعداد رویے دیکھنے کو ملے وہیں صوبہ بلوچستان کی انتظامیہ نے نہ صرف اس وبا سے جنگ لڑی بلکہ مختلف سماجی و معاشرتی رویوں کے مابین اپنی جانیں داؤ پر لگا کر اس کی تباہ کاریوں کو محدود کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

بلوچستان کی صوبائی حکومت کو ابتدائی طور پر قرنطینہ کیمپوں سے متعلق بدانتظامی پر مرکزی اور سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب کرونا وائرس تفتان کے راستے پاکستان کی حدود میں داخل ہوا۔

تاہم پہلے سے ہی ایک کم ترقی یافتہ صوبے میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ معاشرتی اور معاشی لحاظ سے تباہ کن ثابت ہوتا اگر صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ صورت حال پر قابو پانے اور پیرامیڈیکس کے ساتھ موثر رابطوں میں عالمی ادارہ صحت کے رہنما اصولوں کے مطابق کام کرنے میں اہم کردار ادا نہ کرتی۔

ایک نامعلوم دشمن کی شکل میں نئے کرونا وائرس سے نمٹنے کی مشکلات کے باوجود کوئٹہ کی ضلعی انتظامیہ نے عوام کی سہولت کے لیے مختلف آگاہی مہموں، قرنطینہ مراکز اور صحت کے پروگراموں کو چلانے کے لیے دن رات کام کیا۔

جبکہ صوبے کے دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ہم آہنگ رہے، نتیجتاً اب تک 500 سے زیادہ سرکاری اہلکار کرونا وائرس سے متاثر اور آٹھ ہلاک ہو چکے ہیں۔

جنگ میں پیش پیش

اس حوالے سے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صحافی نذیر درانی کا کہنا ہے: ’کرونا کی وبا کو کور کرنے میں ہمارے ڈاکٹروں، نرسوں، پولیس، فوج، ایف سی کے جوان اور ہمارے پی ڈی ایم اے کے لوگوں نے بہت ساتھ دیا۔ یقیناً یہ سارے لوگ خود بھی اس سے متاثر ہوئے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’وائرس کو مات دینے کی تگ و دو میں ہمارے ڈی سی اور اے سی صاحبان بھی اس کا شکار ہوئے۔‘

اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ثاقب کاکڑ ایک ایسا ہی نام ہیں جو اس وبائی مرض کے خلاف جنگ میں سب سے آگے ہیں۔ وہ بلوچستان میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے پہلے اعلیٰ سرکاری عہدے دار ہیں جنہیں اپریل میں یہ مرض ہوا مگر بیماری کے باعث قرنطینہ اختیار کرنے کے باوجود بھی ثاقب اپنا فرض ادا کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ثاقب بتاتے ہیں: ’میں چونکہ قرنطینہ مراکز اور ہسپتالوں کو دیکھ رہا تھا لہٰذا مجھے کرونا وائرس لگنے کا خدشہ زیادہ تھا جو کہ بعد میں ہوا بھی۔ میں کرونا پوزیٹو ہوا اور میری وجہ سے میرے تقریباً 17 سے 18 گھر والے بھی پوزیٹو ہوئے۔‘

اپنے کام کے بارے میں انہوں نے بتایا: ’جب میرا ٹیسٹ مثبت آیا تو اس دوران بھی میں گھر سے علیحدگی میں رہتے ہوئے جتنے بھی قرنطینہ مراکز اور صحت کے پروگرامز چل رہے تھے انہیں فون کے ذریعے چلا رہا تھا۔‘

تفتان کی سرحدی صورت حال کے علاوہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور اموات میں اضافے کی اہم وجوہات میں بلوچستان کا ثقافتی بنیادوں پر پروان چڑھا میل جول رکھنے والا معاشرہ اور کم شرح خواندگی بھی شامل ہیں۔

لوگوں نے ایک دوسرے کا گرم جوشی سے استقبال نہ کرنا اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کو اپنی ثقافت کے خلاف سمجھتے ہوئے ایس او پیز کی خلاف ورزی کو اپنی ثقافت کا اہم جز جانا اور اس خطرناک وائرس کو اپنے گھروں تک لے گئے۔

اس پہلو پر صحافی نذیر درانی نے مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا: ’ابتدائی دنوں میں کرونا وبا کو ہم مرض نہیں بلکہ عیب سمجھتے تھے۔ اگر کوئی ماسک لگا کر کسی کے پاس چلا جاتا تو وہ سمجھتا تھا کہ آپ نے کوئی بہت بڑا جرم کرلیا ہے اور ہاتھ ملانے پر زبردستی اصرار کرتے تھے کہ اس سے کچھ نہیں ہوتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس رویے کی وجہ سے ہم نے بہت سے اپنوں کو کھو دیا۔‘

اس طرح کے رویوں کے تحت صوبے میں سکولوں اور یونیورسٹیوں کے دوبارہ کھلنے کے پیش نظر بڑھتے ہوئے کیسز کرونا وبا کی ایک نئی لہر کے خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تاہم سابقہ لہروں کے مقابلے میں اس کا تناسب اب تک بہت کم ہے اور اس بیماری کو شکست دینا اب بھی ممکن ہے۔

ثاقب کاکڑ کے مطابق اس نئی لہر کو روکنا اس طرح عمل میں لایا جا سکتا ہے کہ ’ہم عالمی ادارہ صحت یا محکمہ صحت کی ہدایات اور ایس او پیز پر عمل درآمد کریں تاکہ اس وبا سے ہماری جان چھوٹ جائے۔ اسی میں ہماری بھلائی ہے، اسی میں ہمارے معاشرے کی بھلائی ہے، اسی میں ہمارے کوئٹہ، بلوچستان اور پورے پاکستان کی بھلائی ہے کہ ہم محدود رہیں اور محفوظ رہیں۔‘


کرونا کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کرنے والے کرداروں پر مبنی یہ کہانی ’پرعزم پاکستان‘ مہم کا حصہ ہے۔ اس کی اشاعت اور پروڈکشن انڈپینڈنٹ اردو اور پاکستان پیس کولیکٹو کی مشترکہ کاوش ہے۔ ایسے باہمت اور پرعزم کرداروں اور ان کی محنت کو سامنے لانے میں ان طلبہ و طالبات نے کلیدی کردار ادا کیا جو پاکستان پیس کولیکٹو کے ڈاکومینٹری فلم کے تربیتی پروگرام کا حصہ تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان