او غریبو، رکے نہ اپنا کارواں، بڑھے چلو بڑھے چلو

ایک بات یاد رکھیں۔ وہ جس بابے کی تصویر آپ نے بنائی ہے، تین پشت سے اس کا غریب ہونا ضروری ہے۔ جیسے یہ لوگ جو نمائش میں آئے تھے، ان کے چہروں پہ وہ فراغت تھی جو کم از کم تین نسلوں کی امارت کے بعد چھلکتی ہے۔

(سوشل میڈیا)

دنیا میں کوئی مشہور ہونے والی تصویر سوچ لیجیے، اس میں غربت، مصیبت، بھوک، موت، خوف، دہشت یا کچھ بھی ایسا نظر آئے گا جس میں جہان کی پریشانیاں بسی ہوں۔
ہم لوگ عمر بھر خوشیوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ بات بات پہ ہنسنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ معمولی چیزوں کو بھی سیلیبریٹ کرنا ہماری عادت ہے اور فیس بک کے بعد تو سامنے پڑا ہوا پیزا بھی فیلنگ ایکسائیٹڈ ود فورٹی ٹو ادرز کہلاتا ہے۔ جب  زندگی ایسی حسین ہے، رونقیں ہمارے دروازوں پہ کھڑی ہیں تو غم و غربت پھر کیوں بکتا ہے؟
پورٹریٹ کی مثال لیں۔ کوئی بیانوے سالہ بابا جس کے چہرے پہ ان گنت جھریاں ہوں، لکیریں اتنی زیادہ ہوں کہ ایک دوسرے کو کاٹتی ہوں، عینک کا فریم ٹوٹا ہو، ایک طرف سے کمانی کے بجائے دھاگا بندھا ہو، سر پہ میلی سی پگڑی یا صافہ ہو، ناک پہ بہت سارے کیل (بلیک ہیڈز) ہوں، آنکھوں میں ایک عمر کی پریشانیاں بسی ہوں اور وہیں کونوں پہ تفکرات سے پڑنے والے جالے ہوں، داڑھی ہو تو بڑی سی بے ترتیب ہو اور نہ ہو تو کم از کم چار دن کی شیو اُگی ہو اور دانت نکل جانے کے بعد گال پچکے ہوں، پورٹریٹ ہٹ ہے باس! بکے گی، چھتیں پھاڑ دے گی!
نمائشوں میں لوگ اسے قریب سے دیکھیں گے، شینل کی خوشبوؤں میں نہائے ہوئے جسم تصویر کے پاس آئیں گے، غور سے اس کی ایک ایک لکیر دیکھیں گے، ان کے چہروں پہ گہری سنجیدگی ہو گی، پھر وہ افسردہ سی شکل بنا کر 'گڈنیس، لک ایٹ ہز آئز' کہیں گے، پورا فلور گھوم کے واپس وہیں آئیں گے، تصویر کے دام ادا کر کے اسے ریزرو کروا لیں گے جو نمائش کے بعد ان کے گھر پہنچا دی جائے گی۔
یہاں ایک بات یاد رکھیں۔ وہ جس بابے کی تصویر آپ نے بنائی ہے، تین پشت سے اس کا غریب ہونا ضروری ہے۔ جیسے یہ لوگ جو نمائش میں آئے تھے، ان کے چہروں پہ وہ فراغت تھی جو کم از کم تین نسلوں کی امارت کے بعد چھلکتی ہے۔ آپ غریب پیدا ہوں، قسمت کا جھٹکا امیر کر دے، سبحان اللہ، لیکن شکل آپ کی غریب رہے گی یہ آپ مان لیں۔ نہ مانیں تو آزما کے دیکھ لیں۔ بہت زیادہ شوق ہے تو ایک دن کسی مہنگے برانڈ کی دکان میں کھڑے ہو جائیں، بندہ قدم رکھے گا دکان میں اور چہرے سمیت پورا جسم اوقات بتا دے گا۔ یہ ہے، ایسا ہوتا ہے اور آس پاس ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ دیکھیں، نوٹ کریں۔ تو بابا جو ہے وہ پوتڑوں کا فقیر ہونا ضروری ہے! خیر۔۔
فلموں کی بات کر لیں۔ پاتھر پنچالی 1951 کی ایک فلم تھی، غریب خاندان، ٹریجڈیاں، لو بجٹ فلم، پھٹے کپڑوں والے لوگ، ٹرین دیکھنے کی حسرت میں گھر سے بھاگتے بچے، کامیاب ہو گئی، پتہ نہیں کتنے ایوارڈ جیتے، ستیہ جیت رے نے اگلے دس سال کے بیچ دو اور فلمیں کھڑکا دیں پہلی فلم کے سکوئیل میں، وہ بھی ہٹ رہیں، تینوں فلمیں ایک کردار کے نام پہ اپو ٹرائیلاجی کہلاتی ہیں۔ ہماری پنجابی فلموں تک میں یہی ہوتا تھا، سلطان راہی کی غربت زدہ پھڑبازیوں میں بھائی لوگ اپنا عکس ڈھونڈتے تھے، نانا پاٹیکر، نواز الدین صدیقی، عرفان خان، نصیرالدین شاہ، یہ سب کیا ہیں؟ ہیرو ایسے نہیں ہوتے، یہ غریب شکلیں ہیں، عام چہرے، مجھ جیسے، آپ جیسے، یہ سب اسی لیے ہٹ ہیں۔ ٹھیک ہے، لیکن دھیان رہے کہ اپنے لیے ہم سیف علی خان جیسی شکل یا زندگی پسند کرتے ہیں۔
وہ یاد کریں نیشنل جیوگرافک والی شربت بی بی، 1984 میں کھینچی گئی تصویر کی بلی آنکھیں اور ان میں خوف، اجنبیت، کیسے اب تک یاد ہے آپ کو؟ 'پورـ افگان ـ پیپل، اینڈ ـ لیس ـ وار، اوہ ـ گاڈ!' ہو گیا؟ پسند کیوں ہے تصویر آپ کو؟ دنیا میں وہ تصویر اتنی مشہور کیوں ہوئی کہ پچیس تیس سال تک شربت گل کو تلاش ہی کیا جاتا رہا اور بالاخر وہ مل گئی، ملی تب بھی اس کے نصیب کہاں بدلے تھے مگر سٹیو مک کرے - دا فوٹوگرافر، وہ کہاں پہنچ چکا ہے؟ لونگ لیجنڈ؟ کس پر، شربت گل کی ایک خوفزدہ اور  بغیر اجازت کھینچی گئی تصویر پر؟ چھاپتے وقت بھی کسی نے اس کے باپ تک سے پوچھنے کی زحمت نہیں کی؟ کیوں کریں، کون کرے؟ 'پور ـ پیپل، نو ـ نیڈ ـ ٹو ـ آسک' کون آئے گا پیچھے؟ چھاپ دو، یہ ہٹ ہے، بکے گی! آج تک بک رہی ہے بابا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکیومینٹری دیکھ لیں۔ تھرڈ ورلڈ جتنا غریب دکھے گا اتنا گورا لوگ کو پسند آئے گا۔ پاکستان، افغانستان، انڈیا، آج بھی کوئی ادارہ فلم بنائے گا تو جھگیوں پہ جا کے کھڑا ہو جائے گا، ادھ ننگے بچے، کچرا، مکھیاں، معذور لوگ، ٹوٹے گھر 'کرائسٹ ۔۔۔ وٹ این ایٹرنل سفرنگ!' تیزاب سے جھلسے چہرے کو ویسے ایک نظر دیکھنے کے بعد دوبارہ آپ کی ہمت بھلے نہ ہو دیکھنے کی لیکن فلمیں بنیں گی، آپ کا بین الاقوامی چہرہ وہی ہو گا اور اسی طرح کی چیزوں کو آسکر بھی ملے گا، کیوں؟ غربت بکتی ہے بھائی، تکلیفوں کے دام ہوتے ہیں، ٹھنڈے پرسکون سینیما گھروں اور ڈرائنگ روموں کے اندر بیٹھ کر وہ لوگ کیا وہی سب کچھ دیکھیں گے جو ان کے پاس موجود ہے؟ نہ ۔۔۔ ان کی تفریح ان کی 'انسپریشن' سبھی کچھ آپ کے دم سے ہے کیونکہ آپ میں پوٹینشل موجود ہے بکنے کا اور دکھنے کا!
سب چھوڑ دیں، پوری دنیا سے علی الاعلان آپ کے نام پہ قرضے اٹھائے جاتے ہیں، بھیک مانگی جاتی ہے، آپ کے لیے فنڈ جاری ہوتے ہیں، امدادیں آتی ہیں، جاتا کدھر ہے؟ ستر سال پہلے اور آج کی تصویروں میں، فلموں میں، ڈاکیومینٹریوں میں کوئی فرق ہے؟ اسی لیے نہیں ہے، آپ کو اپنی غربت سے پیار ہے اور لوگوں کو آپ کی غربت پسند ہے۔ رکے نہ اپنا کارواں، بڑھے چلو بڑھے چلو۔
'بات صرف اتنی ہے کہ غم شروع سے ہے اور آخر تک رہنے والا ہے۔ پیدا ہوتے ہوئے رونے سے شروع ہو کر مرتے دم تک آدمی روتا زیادہ ہے اور ہنسنا بہت کم ملتا ہے۔ غم سب کو اپنے دل کے قریب محسوس ہوتا ہے جب کہ خوشی کو سب جانتے ہیں کہ عارضی ہے، وقتی ہے۔ انسان واحد جانور ہے جو ہنس سکتا ہے، ہنسنا پتہ نہیں بائے نیچر صرف انسانوں کو ہی کیوں ملا؟' اصل میں اس طرح کے فلسفے ہماری مت زیادہ مارتے ہیں، سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ ہم مشرق والے حال مست لوگ ہیں، دنیا جو کرے سو کرے بر پشم قلندر، اپنا سین آن ہے، سانس چلتا ہے، روٹی ملتی ہے، بچے ہو رہے ہیں، غم ہے تو کیا ہے، غریبی ہے تو کون سے باپ دادا امیر تھے؟ ہماری غربت گلیمر ہوتی ہے تو ہوا کرے، لوگوں کا فیشن ہے تو ہو، کیا پاگل ہوتے ہیں یہ لکھنے والے بھی؟ ہونہہ!
 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ