خلائی مشن ’ہوپ‘ متحدہ عرب امارات کے لیے اہم جیوپولیٹکل فتح

خلائی جہاز ’الامل‘ کی کامیاب پرواز کو اماراتیوں نے ایک بہت بڑا سائنسی کارنامہ قرار دیا ہے۔ مریخ پر جانے والے مشنز میں کامیابی کا صرف 50 فیصد امکان ہوتا ہے لیکن اس کامیابی کو ایک بڑی فتح کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

دبئی کے برج خلیفہ پر عربی میں ’مشن اکمپلشڈ‘ درج ہے۔منگل کو سات ماہ اور 30 کروڑ میل کے سفر کے بعد متحدہ عرب امارات کا خلائی مشن ’ہوپ‘ اپنی منزل مقصود  مریخ پر پہنچ گیا (اے ایف پی)

سات ماہ اور 30 کروڑ میل کے سفر کے بعد متحدہ عرب امارات کا خلائی مشن ’ہوپ‘ اپنی منزل مقصود پر پہنچ گیا ہے جہاں سے یہ مریخ پر ممکنہ طور پر زندگی بسر کرنے کے حوالے سے معلومات اور سرخ سیارے کے موجودہ حالات کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرے گا۔

مدار میں اس کے 687 دن، جو مریخ پر وقت کے لحاظ سے ایک سال ہو گا، کے دوران متحدہ عرب امارات کا مشن ہائیڈروجن اور آکسیجن کی مقدار کے ساتھ سیارے پر چار موسموں کے دوران بدلتے ہوئے ماحول اور موسم کے پیٹرن کا چارٹ بنائے گا اور اعداد و شمار اور تصاویر کا بلا تعطل سلسلہ واپس زمین پر بھیجے گا۔

خلائی جہاز ’الامل‘ (امید) کی کامیاب پرواز کو اماراتیوں نے ایک بہت بڑا سائنسی کارنامہ قرار دیا ہے۔ مریخ پر جانے والے مشنز میں کامیابی کا صرف 50 فیصد امکان ہوتا ہے لیکن اس کامیابی کو ایک بڑی جغرافیائی سیاسی فتح کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

یہ خلائی جہاز چینی اور ایک امریکی مشنز سے پہلے مریخ کے مدار میں پہنچا ہے جو سرخ سیارے کی جانب گامزن ہیں۔ اسے ایک نئی خلائی دوڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس مشن کو خلیجی ریاست کی بین الاقوامی سطح پر وسعت پسندی کی خواہش کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے جو اس کی یمن، لیبیا اور شام کے تنازعات میں شمولیت جیسی حوصلہ مندانہ اور جارحانہ خارجہ پالیسی کا آئینہ دار ہے۔

اس خلائی پروگرام کو متحدہ عرب امارات کے حکمران اور عالمی سطح پر اپنی قوم کو اہم حیثیت دلوانے کے خواہش مند محمد بن زید النہیان  کی پوری حمایت حاصل ہے۔

ملک میں تیار کردہ پہلے مصنوعی سیارے، جو 2023 میں لانچ کیا جائے گا، کا نام حکمران کے اعزاز میں ’ایم بی زیڈ۔ سیٹ‘ رکھا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے یہ خلائی پیش رفت ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خلا کو فوجی کارروائی کے لیے ایک نئے محاذ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور دنیا کے کئی ممالک اپنی مسلح افواج میں ’سپیس فورس‘ یونٹ تشکیل دے رہے ہیں۔ جبکہ امریکہ اوربرطانیہ نے روس پر اینٹی سیٹلائیٹ ہتھیار داغنے کا الزام عائد کیا ہے

اگرچہ متحدہ عرب امارات کے خلائی مشن کے فوجی مقاصد نہیں ہیں لیکن یہ اس خلائی دوڑ کا حصہ بن گیا ہے جو امریکہ اور چین کے معاملے میں ایک وسیع تر دشمنی کا حصہ ہے اور جس نے حالیہ دنوں میں ڈرامائی طور پر شدت اختیار کر لی ہے۔

چینی تیان وین 1 یو اے ای کے مشن ’ہوپ‘ کے 24 گھنٹے بعد مریخ کے مدار میں پہنچے گا جب کہ امریکی ناسا روور ’پرسویرنس‘  اگلے ہفتے یہ ہدف پورا کر لے گا۔

گذشتہ سال جولائی میں لانچ کیے گئے تینوں مشنز، بشمول متحدہ عرب امارات کے جاپان سے بھیجے گئے مشن، کا مقصد زمین اور مریخ کے مابین ایک سیدھے راستے کا فائدہ اٹھانا تھا جو ہر 26 ماہ میں صرف ایک بار ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ میں قائم یونیورسٹی آف ایریزونا کے کالج آف سائنس میں فلکیات کے ایک پروفیسر اور ایسوسی ایٹ ڈین کرسٹوفر امپی نے کہا: ’خلا میں مقابلے کی دوڑ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک ہی مہینے میں مریخ پر پہنچنے والے تین مشنز کی اس سے پہلے مثال نہیں ملتی۔ اجتماعی طور پر یہ مشنز سرخ سیارے کے بارے میں ہمارے معلومات میں اضافہ کریں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’یہ ایک نئی خلائی دوڑ ہے۔ ابتدائی خلائی دور کی سویت یونین اور امریکہ کی دشمنی اب چین امریکہ دشمنی میں بدل چکی ہے۔ چین چاند اور مریخ پر اپنے بیسز بنانے کے علاوہ اپنا ذاتی خلائی سٹیشن بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ وہ اس کے لیے بہت زیادہ رقم خرچ کر رہے ہیں اور خلا میں کامیابی کو براہ راست قومی فخر اور چینی طاقت سے منسوب کیا جا رہا ہے۔‘

متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھی اس سیارے پر ایک انسانی بیس قائم کرے گا اور ایک لیبارٹری کمپلیکس تعمیر کرے گا جسے ’مارز سائنس سٹی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ تاہم ایسا ایک سو سال میں ہوگا۔ موجودہ منصوبہ بندی کے تحت فی الحال ایک نوجوانوں پر مشتمل ٹیکنیکل افرادی قوت تشکیل دی جائے گی جس سے دوسروں میں بھی سائنس اور انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے تحریک پیدا ہو گی۔

اگرچہ ہوپ خلائی جہاز امریکی ریاست کولوراڈو میں بنایا گیا تھا تاہم مریخ مشن پر کام کرنے والے 450 افراد میں سے 200 اماراتی ہیں اور متحدہ عرب امارات کے مطابق چیلنجز کے باوجود یہ مشن ان کے لیے ایک آسان پروجیکٹ ثابت ہوا ہے۔ 

متحدہ عرب امارات کی خلائی ایجنسی کی سربراہ سارہ العمری کا کہنا ہے: ’اگر آپ واقعی میں تیزی سے پیش رفت کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں اور آپ پوری نسل کو ان کی مہارت اور صلاحیتوں کو تیزی سے فروغ دینا چاہتے ہیں تو آپ کو بڑے خطرات اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ اسے زیادہ ضمانت کے ساتھ حاصل نہیں کر سکتے۔‘

سارہ نے مزید کہا: ’یہ (مشن) عام لوگوں کے ساتھ سائنس کے بارے میں بات چیت کو آگے بڑھانے اور اس کے بارے میں معلومات پھیلانے میں بہترین رہا، اس شعبے کو نہ صرف ملک کے اندر بلکہ خطے میں بھی بڑی حد تک نظرانداز کیا گیا تھا۔ اس (سائنس) بارے میں لوگ بات نہیں کرتے تھے۔‘ 

دریں اثنا موجودہ خلائی کارنامے کا یو اے ای میں جشن منایا جارہا ہے۔ اس موقعے پر عوامی عمارتوں کو سرخ سیارے کے رنگ سے روشن کیا گیا۔ براہ راست کوریج کے ساتھ ساتھ ویب کاسٹ اور ٹیلی ویژن بلیٹن پر اس حوالے باقاعدہ اپ ڈیٹس بھی نشر کی گئیں۔ تاہم کرونا وبا کی وجہ سے سٹریٹ پارٹیز منسوخ کر دی گئیں۔

متحدہ عرب امارات کے ہوائی اڈوں پر آنے والے مسافروں کے پاسپورٹس پر آتش فشاں بیسالٹ پتھروں سے بنائی گئی ’مریخی روشنائی‘ کی سٹمپس لگائی گئیں جن پر درج تھا: ’آپ امارات پہنچ چکے ہیں۔ جب کہ امارات نو فروری 2021 کو مریخ پر پہنچ رہا ہے۔‘

سارہ العمیری کا کہنا: ’ہوپ مشن دو سالگرہوں کے موقعے پر مریخ پر پہنچا ہے جیسا کہ 2021 امارات کی 50 ویں سالگرہ ہے اور انسانی ساختہ کوئی آلہ پہلی بار 50 سال قبل مریخ کی سطح پر اترا تھا۔‘

انہوں نے کہا: ’ایک نوجوان قوم کی حیثیت سے یہ فخر کا ایک مقام ہے کہ ہم اب مریخ کے بارے میں انسانیت کی معلومات میں اضافہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ امارات کے لیے یہ مہم جاری رکھنا ایک اہم نکتہ بھی ہے۔ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے اپنے ملک کی معیشت کو متنوع بنائیں گے۔ اس مشن کے ذریعے مریخ کی بھیجی گئی تصویر مثالی ہو گی لیکن میں یہ تصور نہیں کر سکتی کہ یہ مریخ کے پورے کرے کی تصویر حاصل کرنے کے بعد کیسا محسوس ہو گا۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر