کرونا پابندیاں ختم: وفاق اور پنجاب ایک پیج پر کیوں نہیں؟

وفاقی حکومت نے یکم مارچ سے تعلیمی اداروں اور دیگر شعبوں پر عائد پابندیوں کو اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم پنجاب میں بعض حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ ان پابندیوں کو مکمل طور پر ختم کرکے حکومت نے رسک لیا ہے۔

وفاقی حکومت نے یکم مارچ سے تعلیمی اداروں کو پورا ہفتہ کھولنے کا اعلان کیا ہے (فائل تصویر: اے ایف  پی)

پاکستان میں کرونا (کورونا) وائرس کا پھیلاؤ ابھی دیگر ممالک کے مقابلے میں کم تو نہیں ہوا، تاہم کیسوں میں اتار چڑھاؤ ضرور دیکھا جا رہا ہے، لیکن حکومت نے یکم مارچ سے تعلیمی ادارں اور ہوٹلوں کو کھولنے کے ساتھ ساتھ شادی ہالوں میں بھی سروس معمول کے مطابق شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

وفاقی حکومت کے مطابق چونکہ کرونا کی ویکسین لگنا شروع ہوچکی ہے اور کیسز بھی کم ہو رہے ہیں، اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا۔تاہم پنجاب میں کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کو مکمل طور پر ختم کرکے حکومت نے رسک لیا ہے۔

اس حوالے سے محکمہ صحت پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ احتیاط کے ساتھ تعلیمی اداروں اور ہوٹلوں کو کھولنا تو سماجی و معاشی مجبوری تھی لیکن ابھی جلسے جلوسوں کے انعقاد اور بازاروں کے مکمل طور پر کھلنے پر پابندی ہونی چاہیے کیونکہ وہاں احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل نہیں ہوتا۔

پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’تعلیمی ادارے فروری سے ہی کھولنے کی اجازت دے دی گئی تھی لیکن بڑے شہروں میں سکولوں کو گروپوں میں بچوں کو تعلیم دینے کی پابندی تھی جو یکم مارچ سے ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ایک تو کرونا کیسز میں کمی ہو رہی ہے، دوسرا یہ کہ ویکسین بھی آنا شروع ہوچکی ہے، لہذا معمولات زندگی بحال کرنے کا فیصلہ کیاگیا، مگر احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا سب کے لیے لازم ہوگا۔‘

شفقت محمود کے مطابق: ’ایک سال بعد یہ سب فیصلے عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں۔ پہلے ہی بہت نقصان ہوچکا ہے، جس کا حکومت کو احساس ہے۔‘

وفاقی حکومت کے اس فیصلے کے برعکس پنجاب کے کچھ شہروں میں پورا ہفتہ کلاسز بحال نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق کرونا وائرس کی مثبت شرح والے شہروں یعنی گجرات، لاہور، ملتان، سیالکوٹ، راولپنڈی، فیصل آباد اور رحیم یار میں 50 فیصد طلبہ آئیں گے۔

دوسری جانب یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پنجاب کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم بھی سمجھتے ہیں کہ کرونا کیسز میں ابھی اتنی کمی نہیں آئی کہ مکمل طور پر سب کچھ کھولنے کی اجازت دے دی جائے۔

پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’تعلیمی اداروں اور ہوٹلوں میں پہلے بھی احتیاطی تدابیر پر عمل کروانا ممکن تھا، لیکن کرونا پھیلنے کی بڑی وجہ ایسے اجتماعات ہیں جہاں ایس او پیز پر عمل درآمد ہی نہیں ہوتا جیسے جلسے جلوس، بازار اور پارکس وغیرہ۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’ابھی کرونا کی وبا پاکستان میں اتنی کنٹرول نہیں ہوئی جتنی دوسرے ممالک میں۔ دوسرا ویکسین بھی پہلے مرحلے میں ہیلتھ ورکرز کو ہی لگائی جارہی ہے اور یہ مرحلہ بھی ابھی مکمل نہیں ہوا، ایسے میں مکمل طور پر معمول زندگی بحال کرنے میں رسک برقرار ہے، تاہم اگر کیسوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا تو یقینی طور پر حکومت کو ایک بار پھر پابندیاں اور لاک ڈاؤن لگانا پڑے گا۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے مختلف اضلاع کے حکام کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ ’50 فیصد ہیلتھ ورکرز کرونا ویکسین لگوانے سے گریز کر رہے ہیں۔‘

خط میں مزید کہا گیا تھا کہ دوسرے مرحلے کے آغاز کی تاریخ سر پر ہے لیکن ابھی پہلا ہی مکمل نہیں ہوسکا، لہذا تمام ہسپتالوں کے طبی عملے کو کرونا ویکسین لگوانے پر آمادہ کر کے شرح 100فیصد یقینی بنائی جائے۔‘

جب اس حوالے ست ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر سلمان حسیب سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ کرونا ویکسین ڈاکٹرز تو لگوا رہے ہیں لیکن دیگر طبی عملہ کم علمی کے باعث خدشات کا شکار ضرور ہوسکتا ہے۔‘

ڈاکٹر سلمان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ہسپتالوں میں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو فراہم ہونے والی ویکسین سے تمام ڈاکٹرز مستفید ہورہے ہیں اور جو نہیں لگوا رہے انہیں بھی چاہیے کہ فوری ویکسین لگوائیں تاکہ ان کی زندگیاں کرونا سے محفوظ ہوسکیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس 25 فروری کو پہلا کیس سامنے آنے کے بعد سے ملک میں اب تک پانچ لاکھ77 ہزار 482 کرونا کیس رپورٹ ہوچکے ہیں جن میں سے 12 ہزار 804 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان