قطر فٹ بال ورلڈ کپ بائیکاٹ کے مطالبوں میں شدت؟

قطر میں 2010 سے چھ ہزار سے زائد ایشیائی مزدورں کی ہلاکت کے بارے میں اخبار ’دا گارڈین‘ کی ایک رپورٹ کے بعد خلیجی ملک میں 2022 کے فٹ بال ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کے مطالبوں میں اضافہ ہوا ہے۔

دوحہ میں لوسیل سٹیڈیم پر کام کرنے والے مزدور۔ ’دا گارڈین‘ کی رپورٹ کے مطابق قطر میں ہزاروں مزدور ہلاک ہو چکے ہیں (روئٹرز فائل)

دسمبر میں ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے نگران کیسپر فیشر نے وہ کیا جو انہوں نے اس سے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔

32 سالہ کیسپر نے ڈنمارک کی پارلیمان ’دی فولکیٹنگ‘ میں ایک پیٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی فٹ بال ٹیم کو اگلے سال قطر میں منعقد ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔

کوپن ہیگن کے نواح میں رہنے والے کیسپر فیشر جو اس پیٹیشن کے چھ مدعیان میں شامل ہیں کا کہنا ہے کہ ڈنمارک کو خلیجی ریاست میں انسانی حقوق کے برے حالات اور فیفا میں ہونے والی کرپشن کے خلاف اس ٹورنامنٹ میں کھیلنے سے انکار کر دینا چاہیے۔ 

پیٹیشن میں کہا گیا ہے: ’ہم نہیں مانتے کہ ایک ایسے ملک کے طور پر جو عالمی انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرتا ہو، ہمارے ملک کے مشہور ترین کھلاڑیوں کو قطر جیسے مطلق العنان ملک میں کھیل کر اور اس نظام پر قبولیت کی مہر ثبت کرنے کا کوئی فائدہ ہو سکتا ہے۔‘

اگر جون کی آٹھ تاریخ تک فیشر اس پیٹیشن پر 50 ہزار دستخط حاصل کر لیتے ہیں تو ڈنمارک کے قوانین کے تحت ملک کی پارلیمنٹ کو قطر میں سال 2022 میں ہونے والے ورلڈ کپ میں شرکت پر بحث کرنی ہو گی۔

لیکن اگر وہ ناکام بھی ہوتے ہیں تو ان کی پیٹیشن نے 2022 میں ہونے والی اس شرکت کو موضوع بحث بنا دیا ہے کہ نہ صرف ڈنمارک بلکہ اس سے باہر بھی۔ آج کی تاریخ تک اس پر سات ہزار افراد دستخط کر چکے ہیں۔

فیشر نے دی انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے کہا: ’مجھے 50 ہزار دستخط حاصل کرنے پر انہیں نہ حاصل کرنے سے زیادہ حیرانی ہو گی۔ یہاں صرف 50 ہزار دستخط حاصل کرنا مقصد نہیں ہے۔ بلکہ اس بات پر روشنی ڈالنا مقصد ہے کہ دنیا میں کھیلوں کی دوسری سب سے بڑی تقریب کا قطر میں ہونا خود کتنا بڑا مسئلہ ہے۔‘

یہ واضح ہے کہ فیشر ایسا سوچنے والے واحد شخص نہیں ہیں۔

ایک رکن پارلیمنٹ کارسٹن ہونگ جن کا تعلق سوشلسٹ پیپلز پارٹی سے ہے، نے اس حوالے سے پیٹیشن کے بغیر بھی پارلیمنٹ میں اس موضوع پر بحث کرنے کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایسا کرنے سے قطر میں ڈنمارک کے نقطہ نظر کو ’سنا اور دیکھا‘ جائے گا۔

کارسٹن ہونگ نے دی انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہاں بائیکاٹ کی بات نہ بھی ہوتی تو ایک پارلیمانی بحث قطر پر بھرپور دباؤ ڈالتی کہ وہ اپنے ملک میں کام کرنے والے مزدوروں کے انسانی حقوق کو یقینی بنائے۔‘

ڈنمارک کی ٹیم کے کھیلنے کے لباس کو سپانسر کرنے والے بینک اربیجڈرنس لینڈ بینک کا کہنا ہے کہ وہ اپنا تعلق اس ٹورنامنٹ سے نہیں جوڑنا چاہتا۔

بینک کی کمیونیکشن اور برینڈنگ کے سربراہ پیٹر فورلوند کا کہنا ہے کہ ’قطر میں اس ورلڈ کپ کا ہونا ایک مسئلہ ہے۔ ہمیں اس حوالے سے بہترین حکمت عملی کا فیصلہ کرنا ہو گا۔‘

فورلوند کا کہنا ہے کہ سپانسر شپ کے حوالے سے حتمی فیصلہ موسم گرما میں کیا جائے گا لیکن ان کے مطابق ’امکان‘ ہے کہ بینک ڈنمارک کی ٹیم کی برینڈنگ کو ختم کر دے گا اگر وہ نمومبر 2022 میں قطر گئی۔ 

یاد رہے کہ ڈنمارک اپنے کاولیفائنگ گروپ میں ٹاپ سیڈ ہے اور اسرائیل، سکاٹ لینڈ اور دیگر ممالک کے ساتھ ٹائی میں ہے۔ ٹیم 2018 کے ورلڈ کپ کی ٹاپ 16  ٹیمز میں بھی شامل تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)


ڈینش فٹ بال یونین (ڈی ایف یو) کے جیکوب ہوئیر کا کہنا ہے کہ ڈی ایف یو بائیکاٹ کے بجائے قطر کے ساتھ اس حوالے سے ’بات چیت‘ کی حمایت کرتی ہے اگر اس بائیکاٹ کی توسیع ’سفارت کاری اور کاروبار تک نہیں کی جاتی۔‘

 حالیہ دنوں میں بائیکاٹ کے بارے میں کی جانے والی گفتگو میں بہت اضافہ ہو گیا اور اس میں ناروے کی کلیدی لیگ کے کلبز بھی شامل ہو گئے ہیں۔ ان میں ٹرومسو شامل ہے جس نے کھلے عام مطالبہ کیا ہے کہ ناروے کی قومی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں حصہ نہ لے۔

جب سے سال 2010 میں قطر کو متنازع اور حیران کن طور پر ورلڈ کپ کی میزبانی سونپی گئی ہے تب سے قطر پر کڑی نگاہ رکھی جا رہی ہے خاص طور پر انسانی حقوق کے حوالے سے مغرب میں کئی مطالبے سامنے آئے ہیں جن میں اس ٹورنامنٹ کی میزبانی واپس لینے کا کہا جا رہا ہے۔

لیکن گذشہ چند ماہ سے بائیکاٹ کے مطالبے میں اضافہ ہو رہا ہے جو کہ گذشتہ کچھ دن میں بہت بڑھ چکے ہیں جب سے ’دا گارڈین‘ کی رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق سال 2010 سے قطر میں 6500 ایشائی مزدور ہلاک ہو چکے ہیں۔

خلیجی بادشاہت نے ورلڈ کپ 2022 کی تیاری کے لیے بڑے اور بے مثال تعمیری منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔ اس ٹورنامنٹ کے لیے 11 سٹیڈیمز کی بنیاد رکھی گئی یا ان کی تعمیر نو کی جا رہی ہے۔ درجنوں نئی سڑکیں، ایک نیا میٹرو منصوبہ، ائیرپورٹ، ہوٹلز اور ورلڈ کپ کے لیے ایک نئے شہر کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

سال 2017 میں قطر نے اعلان کیا تھا کہ وہ ورلڈ کپ کے لیے ہر ہفتے میں 50 کروڑ ڈالر خرچ رہا ہے جو کہ دنیا میں گیس کی دولت سے مالا مال امیر ملک کے لیے بھی بہت زیادہ ہے۔

 

ملک میں اس حوالے سے کی جانے والی تعمیرات دوسرے ممالک میں کسی کھیل کے ٹورنامنٹ کے لیے کی جانے والی تیاریوں سے بالکل الگ ہیں۔

جب فیفا کے سابق صدر سیپ بلیٹر نے اعلان کیا تھا کہ قطر 2022 کے ورلڈ کپ کی میزبانی کرے گا تب قطر میں صرف 18 لاکھ لوگ رہائش پذیر تھے یا ملازمت کرتے تھے۔ آج قطر کی آبادی 28 لاکھ ہو چکی ہے جس کی بڑی وجہ تعمیراتی کام کے لیے بنگلہ دیش، نیپال، بھارت اور پاکستان سے آنے والے لاکھوں مزدور ہیں۔ 

یہ ان مزدوروں کے ساتھ کیا جانے والا سلوک ہی ہے جو دنیا بھر میں سامنے آنے والی تشویش کی بڑی وجہ ہے۔ الزامات، جن میں حقیقت بھی ہے، کہ بہت زیادہ افراد بہت بری حالت میں رہائش پذیر ہیں، انہیں تنخواہیں نہیں دی جاتیں اور جدید غلامی جیسے اس نظام میں ان کے مالکان ان سے بہت برا سلوک کرتے ہیں۔

قطر مزدوروں کے حوالے سے کی جانے والی اصلاحات کی بات کرتا ہے جن میں استحصال پر مبنی ’کفالہ‘ کے نظام کے خاتمہ شامل ہے جہاں ملازم اپنے آجر کی مرضی کے بغیر نوکری تبدیل نہیں کر سکتا۔ قطر اس حوالے سے مزید تبدیلیوں کا وعدہ کرتا ہے۔ لیکن یہ ناقدین کو خاموش کروانے کے لیے کافی نہیں ہیں اور ’دا گارڈین‘ میں ان اموات کی خبر شائع ہونے کے دو دن کے اندر فیشر کے مطابق ان کی پیٹیشن کو سات سو سے زائد دستخط حاصل ہو چکے ہیں۔ 

فیفا کے ایک ترجمان نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’ہم نہیں سمجھتے کہ ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنا ایک مناسب قدم ہو گا یا اس سے قطر میں انسانی حقوق کے حوالے سے کوئی فائدہ مند نتیجہ حاصل ہو سکتا ہے۔ میرے خیال میں اس حوالے سے بات چیت کرنا ہی بہترین حکمت عملی ہے تاکہ بین الااقوامی انسانی حقوق کی اقدار کو بہترین انداز میں فروغ دیا جا سکے۔‘

ورلڈ کپس کا بائیکاٹ کیا جانا ایک بہت عام سی بات ہے گو کہ ایسا سمجھا نہیں جاتا۔ اس حوالے سے سب سے اہم واقعہ 1966 کا ہے جب تمام افریقی ممالک نے برطانیہ میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں کھیلنے سے انکار کر دیا جس کی وجہ افریقہ سے چنی جانے والے ٹیموں کے لیے مختص کی جانے والی تعداد تھی۔

فرانس میں امیلیون بزنس سکول کے یوریشین کھیلوں کے پروفیسر سائمن چیڈوک نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ قطر میں ہونے والے سال 2022 کے ٹورنامنٹ کے بائیکاٹ کا امکان نہیں ہے۔ ایسا کرنا ایک غیر معمولی فیصلہ ہو گا جو کہ ایسا کرنے والوں کے لیے ضابطوں کے مسائل پیدا کرے گا اور ایک بہت پیچیدہ مسئلے کا بہت آسان سا ردعمل ہو گا۔ لیکن میرا دل کہتا ہے کہ موجودہ وقت میں کچھ بھی ممکن ہے۔‘


اگر کوئی بائیکاٹ ہوتا بھی ہے تو یقنی طور پر یہ چند مغربی ممالک تک محدود ہو گا۔ مشرق وسطیٰ کے ایک عرب مسلمان ملک میں پہلی بار ورلڈ کپ منعقد ہونے کو بڑے پیمانے پر حمایت حاصل ہے۔  

کچھ مغرب میں موجود ان لوگوں کے مقاصد کے بارے میں سوال کرتے ہیں جو قطر کا بائیکاٹ کرنا چاہتے ہیں کہ قطر کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 

ایک قطری مداح نے دی انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے کہا: ’حقیقت یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے 10 سال پہلے یہ فیصلہ کیا کہ وہ قطر میں ورلڈ کپ منعقد کرنے کی کبھی حمایت نہیں کریں گے۔ برازیل، روس اور جنوبی افریقہ میں بھی غربت، ماحولیات اور انسانی حقوق کے مسائل موجود تھے لیکن مجھے نہیں یاد کہ کسی نے ان ٹورنامنٹس کے بائیکاٹ کی تحریک چلائی ہو۔‘

قطری شہری کا کہنا تھا: ’یہ ورلڈ کپ میرے ملک کے لیے بہت اچھا ثابت ہو گا۔‘

اگر بائیکاٹ نہیں ہو سکتا تو احتجاج کی ایک قسم ’زمین پر گھٹنا ٹیکنا‘  بھی ہو سکتی ہے۔ کھیل کے میدان میں احتجاج کرنے کے دور میں ایسا ہونا خارج از امکان نہیں ہے کہ کچھ کھلاڑی ان مزدوروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں جنہوں نے فٹ بال کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ کے لیے قربانیاں دی ہیں۔

اس حوالے سے کچھ لوگوں نے آن لائن بات کی ہے اور کارسٹن ہونگ کا کہنا ہے کہ ’یہ احتجاج کا ایک طریقہ‘ ہو سکتا ہے۔ 

پروفیسر چیڈوک کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے لیے ورلڈ کپ کے منتظمین کو تیار رہنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا: ’یہ سوچنا ناممکن نہیں ہے کہ کھلاڑی گھٹنا ٹیک کر احتجاج کریں گے۔ ایسا شاید مزدوروں کے حقوق کے بارے میں ہو سکتا ہے۔ لیکن کچھ افراد ایل جی بی ٹی کے حقوق یا قطر کے ماحولیاتی ریکارڈ پر بھی احتجاج کر سکتے ہیں۔ پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ قطر یا فیفا اس احتجاج کے لیے کیا تیاری کریں گے اور اس حوالے سے کیا کارروائی کی جائے گی؟ اب جب قطر 2022 کے قریب آتا جا رہا ہے تو فٹ بال کے عالمی ادارے کو اس حوالے سے اپنے موقف کو واضح کرنا ہو گا۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل