روہنگیا کے سب سے بڑے کیمپ میں آتشزدگی، 15 ہلاک، 400 لاپتہ

بنگلہ دیش کی حکومت نے اس سب سے بڑے آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جس نے ملک کے جنوب مشرقی حصے میں واقع کاکس بازار کیمپ میں 10 لاکھ روہنگیا پناہ گزینوں کی آباد کاری کو متاثر کیا ہے۔

کاکس بزار میں تباہ ہونے والے پناہ گزین کیمپ کے مناظر (روئٹز)

اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) نے منگل کو تصدیق کی بنگلہ دیش میں قائم دنیا کے سب سے بڑے روہنگیا پناہ گزین کیمپ میں آتشزدگی کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 15 ہو گئی ہے۔

بنگلہ دیش میں یو این ایچ سی آر کے نمائندے جوہانس وین ڈیر کلاؤ نے کہا کہ ’بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہ کن‘ آتشزدگی میں مزید 560 افراد زخمی اور 45 ہزار بے گھر ہوگئے ہیں۔

کلاؤ نے کہا: ’جو کچھ ہم نے دیکھا ہے وہ اس سے قبل ان کیمپوں میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ ہمارے پاس ابھی تک 400 افراد کی معلومات نہیں ہیں، وہ شاید ملبے میں کہیں ہوسکتے ہیں۔‘

بنگلہ دیش کی حکومت نے اس سب سے بڑے آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جس نے ملک کے جنوب مشرقی حصے میں واقع کاکس بازار کیمپ میں 10 لاکھ روہنگیا پناہ گزینوں کی آباد کاری کو متاثر کیا ہے۔

بنگہ دیش کے حکام کی جانب سے آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاہم اس کی وجہ کا تاحال پتہ نہیں چل سکا ہے۔

روہنگیا ایک نسلی اقلیت ہے جو 2017 میں فوجی کارروائی کے دوران میانمار جان بچا کر بھاگے۔ اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف اس فوجی کریک ڈاؤن کو ’نسل کشی کے ارادے‘ سے شروع کی گئی کارروائی قرار دیا تھا جب کہ میانمار نے ہمیشہ اس الزام کی تردید کی ہے۔

بنگلہ دیشی حکام کے مطابق آگ پیر کو  34 کیمپوں پر مشتمل پناہ گاہ میں سے ایک میں شروع ہوئی تھی جس کے بعد اس نے دیگر دو کیمپوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ابتدائی رپورٹ کے مطابق آتشزدگی سے دو بچے ہلاک ہوگئے تھے۔ تقریباً چھ گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا۔

واقعے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں کیمپوں سے دھویں کے گہرے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے جبکہ سینکڑوں فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے اور لوگوں کو نکالنے کی کوشش کرتے نظر آئے۔

عینی شاہدین نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ آگ سے بچنے کی کوشش کے دوران متعدد افراد کیمپ کے چاروں طرف خاردار تاروں میں پھنس گئے تھے۔ فائر بریگیڈ کے ایک عہدےدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ چار روز کے دوران کیمپوں میں آگ لگنے کا یہ تیسرا واقعہ تھا۔

اس سے قبل جنوری میں آتشزدگی کے دو بڑے واقعات میں ہزاروں املاک تباہ ہوگئیں جن میں یونیسیف کے چار سکولز بھی شامل تھے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا کے لیے کمپیئنر سعد ہمادی نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا: ’کیمپوں میں بار بار آگ لگنے کے واقعات کچھ زیادہ ہی اتفاقیہ ہیں، خاص طور پر جب ماضی میں ایسے واقعات کی تحقیقات کے نتائج معلوم نہیں ہو سکے ہیں اور ایسے واقعات دوبارہ رونما ہوتے رہے ہیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا