چارسدہ اقوام  کا فیصلہ: تعزیتی بیٹھک، جنازوں میں شرکت محدود

’اگر کوئی شخص گاؤں میں کسی مرگ یا دور کے رشتہ دار کے جنازے میں بھی شرکت نہ کرے تو اسے برا سمجھا جاتا ہے اور ایسے شخص کا بعض اوقات سوشل بائیکاٹ بھی کیا جاتا ہے۔ پھر گاؤں کا کوئی بھی شخص ان کے خاندان کے خوشی اور غم میں شریک نہیں ہوتا۔‘

سابق ٹیسٹ کرکٹر  میاں سید احمد شاہ کی نماز جنازہ پشاور میں ادا کی جا رہی ہے۔(فروری 2021، تصویر: امجد عزیز ملک)

'کرونا وبا سے خود کو  اور انسانیت کو بچانے کے لیے اگر ہم روایات کو کچھ وقت کے لیے ملتوی کریں تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہماری اقوام نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ  نماز جنازہ میں  خاندان کے محدود افراد کی شرکت اور دوسرے اور تیسرے دن کی تعزیت   کی روایت ختم کی جائے ۔'

یہ کہنا تھا خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ سے تعلق رکھنے والے فلک شیر خان کا جو خوزہ خیل قوم کے سربراہ ہیں اور انھوں نے دیگر اقوام کے ساتھ مل کر متفقہ طور پر کرونا سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کا ایسا فیصلہ کیا ہے جو ہمارے معاشرے میں بظاہر  بہت مشکل لگتا ہے۔

اہل علاقہ کے مطابق کرونا وبا کی ابتدا سے  جب کوئی شخص کرونا سے فوت ہوتا تھا یا کوئی بھی دیگر بیماری  یا طبعی موت  وجہ بنتی تو حکومت بارہا یہ احکامات جاری کر چکی تھی کہ جنازوں میں شرکت کو محدود کیا جائے۔

تاہم اس حکم پرعمل نہ ہونے کے برابر تھا اور اب بھی ایسا ہی ہے۔ جنازوں میں شرکت  ایک پرانی  روایت ہے جو پشتون قوم  سمیت باقی اقوام میں  بھی بہت اہم ہے  اور ایک  دوسرے سے اتفاق کی ایک نشانی سمجھی جاتی ہے۔

اگر کوئی شخص گاؤں میں کسی فوتگی  یا کسی بھی دور کے رشتہ دار کے جنازے میں شرکت نہ کرے تو اس کو برا سمجھا جاتا ہے اور ایسے شخص سے بعض اوقات سوشل بائیکاٹ بھی کیا جاتا ہے۔ پھر گاؤں کا کوئی بھی شخص ان کے خاندان کے خوشی اور غم میں شریک نہیں ہوتا۔

تاہم ضلع چارسدہ کی کچھ اقوام نے یہ مشکل فیصلہ  کیا ہے تاکہ کرونا کی وبا سے لوگوں کو بچایا جا سکے۔ یہ فیصلہ خوزہ خیل قومی جرگہ میں شریک پریچ خیل، شموزئی، پیران، خٹک قوم، کنعان خیل، غنی خیل، اور کاکا خیل اقوام نے کیا ہے۔ جرگے کے سربراہ فلک شیر نے  بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ  پشتون قوم ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک ہوتے ہیں  جو  پشتون روایت بھی ہے اور اسلامی شعار بھی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ چونکہ کرونا کی وبا ہے اور جس طرح  ہم ایک دوسرے کے غم و خوشی میں شریک ہوتے ہیں تو  ہمیں ایک دوسرے کی صحت کا خیال رکھنا ہوگا،  اور اسی وجہ سے ہم نے جنازوں کے حوالے سے ایک متفقہ فیصلہ کیا ہے تاکہ لوگوں کو اس وبا سے بچایا جا سکے۔

فلک شیر نے بتایا 'ہم نے وفات کے بعد کھانے کے  پروگرام(خیرات) سمیت دوسرے اور تیسرے دن تعزیت کی روایت کو فی الحال موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کرونا کی وبا مزید نہ پھیل سکے۔

فلک شیر نے مزید بتایا کہ  ہم نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ فوتگی میں بڑے کھانے کے اہتمام پر جو پیسہ خرچ ہوتا ہے ، وہی پیسے ہم ضرورت مندوں میں تقسیم کریں گے جو اس وبا سے متاثر ہوئے ہیں  جب کہ حکومتی اعلان کردہ ایس او پیز پر عمل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے  جس میں ہم علما اور میڈیا کو  بھی اپنے ساتھ لیں گے تاکہ معاشرے میں اس حوالے سے آگاہی پھیل سکے۔

فلک شیر سے جب پوچھا گیا کہ آپ کے خیال میں لوگ اس فیصلے پر عمل کریں گے تو جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر کرونا کی اس وبا کے دنوں میں کسی بھی جنازے میں جب کوئی جاتا ہے تو اس کے دل میں یہ خوف ضرور ہوتا ہے کہ کہیں وہ اس وائرس سے متاثر نہ ہوجائے لیکن سب معاشرتی مجبوریوں کی وجہ سے جنازے میں شر کت کرتے تھے۔

فلک شیر نے بتایا، 'اب چونکہ واضح طور قوموں کا فیصلہ آ گیا ہے تو  دلوں میں جو خوف تھا کہ کہیں کوئی جنازے میں نہ جانے سے خفا نہ ہو جائے، وہ ختم ہوگیا ہے اور اب لوگ خود کو اور دیگر لوگوں کو بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ '

اس روایت کے حوالے سے فلک شیر کا کہنا تھا کہ اگر کوئی سمجھتا ہیں کہ ہم کسی روایت کو ختم کرنے کے پیچھے پڑے ہیں، تو ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ ہم تو اپنے ہی لوگوں کو اس وبا سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور جب بھی وبا ختم ہوجائے تو ہم دوبارہ اپنی روایات جاری رکھ سکتے ہیں۔

کیا  ان فیصلوں پر عمل درامد ممکن ہے؟

یہ فیصلہ ان  اقوام کے نمائندوں  نے جمعے کو ایک پریس کانفرنس کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا۔ مبصرین سمجھتے ہیں کہ بظاہر یہ فیصلہ تو کرونا سے بچاؤ کے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے  کےلیے ایک اچھا اقدام ہے تاہم اس پر عمل کرنا نہایت مشکل ہے اور اس کی بنیادی وجہ پشتون معاشرتی اقدار ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سراج الدین چارسدہ کے مقامی صحافی ہیں اور  گزشتہ کئی سالوں سے  سوشل ایشوز پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ سراج نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ فیصلہ جن اقوام نے کیا ہے وہ چارسدہ کی آبادی کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے لیکن چارسدہ  کی باقی آبادی کے لیے یہ فیصلہ ماننا مشکل ہوگا کیونکہ ہمارے معاشرے میں کسی کی غم اور خوشی میں شریک ہونا ایک فرض سمجھا جاتا ہے اور جو شریک نہیں ہوتا تو اس شخص کو نہایت بری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

سراج نے بتایا 'ایسا بھی ہے کہ گاؤں میں ایک شخص اسی پر مشہور ہوجاتا ہے کہ فلاں شخص کسی کی غم اور خوشی میں شریک نہیں ہوتا تو اسی علاقے کے سارے لوگ اس شخص سے دور رہنے کی پھر کوشش کرتے ہیں۔'

تاہم سراج کے مطابق جس قوم نے یہ فیصلہ کیا ہے وہاں پر اس پر عمل درامد ممکن ہے اور شاید اسی کو دیکھ کر باقی لوگ بھی اس پر عمل کران شروع کریں تاہم عام شخص کو اس پر قائل کرنا کہ وہ کسی کے جنازے میں شرکت نہ کرے، بہت مشکل کام ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان