اضافی ٹیکس منظور: چھ منٹ کال آج سے 22 روپے کی

ابھی تک ٹیلی کام کمپنیز کا موقف سامنے نہیں آیا ہے کہ وہ اضافی ٹیکس پیکجز پر بھی وصول کریں گے یا یہ صرف سٹینڈرڈ ریٹس پر ہی لاگو ہوگا۔

پاکستانی وزیر خزانہ شوکت ترین نے اسلام  آباد میں بجٹ تقریر سے ایک روز قبل کہا تھا کہ آئندہ بجٹ عوام دوست ہوگا۔ (اے ایف پی فائل)

عابد خان کا تعلق ضلع خیبر سے ہیں اور گذشتہ آٹھ برسوں سے پشاور میں ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔ وہ پشاور کے ایک اپارٹمنٹ میں دوستوں کے ساتھ رہتے ہیں اور ہفتے میں ایک بار گھر جاتے ہیں۔

ہفتے کے بقیہ دنوں میں ان کا گھر کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر رابطہ رہتا  ہے اور اپنے چھوٹے بیٹے اور گھر والوں کے ساتھ ڈھیر ساری باتیں کرتے ہیں۔

عابد  کہتے ہیں: '(موبائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) یہی گھر کے ساتھ رابطے کا ایک ذریعہ ہے جبکہ ٹیلی کام کمپنیز کے کال پیکجز سونے پر سہاگہ ہیں کیونکہ مجھے یہ پریشانی نہیں ہوتی کہ کتنے منٹس باتیں کیں یا بیلنس ختم ہوگیا۔‘

لیکن عابد خان تین منٹ سے طویل کال پر 75 پیسے کے اضافی ٹیکس عائد کرنے کے حکومتی فیصلے سے نالاں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم پہلے سے ٹیلیفون کالز، بیلنس ڈلوانے اور کارڈز خریدنے پر ٹیکس دے رہے ہیں تو اب اس اضافی ٹیکس کی کیا ضرورت ہے۔‘

عابد نے بتایا: ’میری طرح ہزاروں ملازمت پیشہ افراد روزگار کی وجہ سے گھروں سے دور زندگی بسر کر رہے ہیں اور گھر  کے ساتھ  رابطے کا ایک ہی سہارا موبائل فون ہوتا ہے  جس کے ذریعے وہ گھر سے حال احوال پوچھتے ہیں۔

عابد جس علاقے میں رہتے ہے وہاں پر انٹر نیٹ فور جی کی سہولت  بھی میسر نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ انٹرنیٹ کی مفت کالز سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔

عابد نے بتایا کہ اگر انٹرنیٹ ہوتا تو ’میں واٹس ایپ کے ذریعے گھر والوں کے ساتھ رابطہ کرسکتا تھا لیکن ایک طرف انٹرینٹ کی سہولت موجود نہیں ہے اور دوسری طرف حکومت نئے ٹیکسز عائد کر دیے ہیں جو غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے۔‘

اضافی ٹیکس کیا ہے؟

وفاقی حکومت نے بجٹ 2021-22 میں تمام ٹیلی کام کمپنیز کے صارفین پر نیا ٹیکس عائد کیا ہے۔

فنانس بل 2021-22 میں لکھا ہے کہ کوئی  بھی صارف اگر تین منٹ سے زیادہ کال کرے گا تو فی کال اس سے 75 پیسے اضافی ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

بجٹ تقریر اور فنانس بل میں پہلے پانچ منٹ سے طویل کال پر ایک روپیہ اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز تھی اور ایک جی بی سے زیادہ انٹرنیٹ کے استعمال پر اضافی پانچ روپے اور فی ایس ایم ایس 10 پیسے اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز بھی تھی۔

لیکن حکومت کی جانب سے اب کالز کے دورانیے کو کم کر کے تین منٹ کر دیا گیا ہے جس پر 75 پیسے اضافی ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ جبکہ انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس پر عائد اضافی ٹیکس کی تجویز کو رد کیا گیا ہے۔

یہ ٹیکس کالز پر عائد 19.5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور 10 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کے علاوہ ہوگا۔

یہ دونوں ٹیکسز پاکستان میں تمام سیلولر نیٹ ورکس پر پہلے سے عائد ہے اور صارفین سے ہر ایک کال پر یہ دونوں ٹیکسز وصول کیے جاتے ہیں۔

اسی طرح صارفین پر ری چارج کرنے اور کمپنی کی طرف سے مہیا دیگر سروسز پر ٹیکسز الگ ہوں گے جس طرح ٹیلی نار کی جانب سے  فی ری چارج پر پانچ فیصد ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔

تین منٹ سے زیادہ کی کال کتنے کی ہوگی؟

انڈپینڈنٹ اردو نے تین منٹ سے زیادہ کال کی قیمت کا جائزہ لینے کے لیے موبائل کمپنیز ٹیلی نار اور زونگ کے نرخوں کا جائزہ لیا ہے۔

سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان میں سیلولر کمپنیز صارفین کو دو قسم کی سروسز فراہم کرتی ہیں جس میں سے ایک میں سٹینڈرڈ ریٹس پر کالز اور ایس ایم ایس دیتی ہیں جبکہ دوسری قسم میں پیکجز اور بنڈل کی صورت میں کالز اور ایس ایم ایس دینا شامل ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پیکجز اور بنڈلز سٹینڈرڈ ریٹس پر کالز اور ایس ایم ایس سے قدرے کم قیمت پر ہوتے ہیں۔

اس کی ایک مثال ٹیلی نار کی جانب سے ’ایزی کارڈ‘ کے نام سے مختلف پیکجز کی سہولت ہے۔

اس میں تین اقسام شامل ہیں جن میں سب سے زیادہ قیمت والا 715 روپوں والا کارڈ ہے۔

صارف یہ کارڈ مہینے میں ایک بار استعمال کر سکتا ہے اور اسی پیکج میں صارف کو نو جی بی انٹرنیٹ، ٹیلی نار سے اسی کے نیٹ ورک پر بات کرنے کے لیے پانچ ہزار مفت منٹس ، دیگر نیٹورکس پر بات کرنے کے لیے 300 مفت منٹس شامل ہیں جبکہ اسی پیکج میں صارف کو پانچ ہزار ایس ایم ایس کرنے کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔

ٹیلی نار ہیلپ لائن سے حاصل  کی گئی معلومات کے مطابق ٹیلی  نار کی فی منٹ کال کے آج کل کے نرخ 2.43  روپیہ ہیں تاہم پہلے سے عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور ود ہولڈنگ ٹیکس ملا کر ٹیلی نار کی فی منٹ کال  تقریباً 3.20 روپے کی ہو جاتی ہے۔

اگر کال کی قیمت3.20  روپے فی منٹ ہے تو تین منٹ کی کال کی قیمت  9.6روپے بن جائے گی اور اگر اس کے ساتھ اب 75 پیسے اضافی جمع کریں تو تین منٹ سے زیادہ کی کی کال صارف کو 10.35 روپے پر پڑ جائے گی۔

اسی طرح زونگ کے ریٹس کا بھی جائزہ لیتے ہیں جس کے آج کل کال کی قیمت فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور ود ہولڈنگ ٹیکس ملا کر 3.40 روپے فی منٹ بنتی ہے۔

اب اگر زونگ کا کوئی صارف تین منٹ سے زیادہ گفتگو کرے گا تو اس سے اس کال کے تقریباً11روپے وصول کیے جائیں گے اور چھ منٹس سے طویل کال 22 روپے کی پڑے گی۔

تاہم ابھی تک ٹیلی کام کمپنیز کا موقف سامنے نہیں آیا ہے کہ وہ اضافی ٹیکس پیکجز پر بھی اصول کریں گے یا یہ صرف سٹینڈرڈ ریٹس پر ہی لاگو ہوگا۔

اگر سیلولر کمپنیز کی جانب سے پیکجز پر اس اضافی ٹیکس کو لاگو کیا جاتا ہے تو اس سے صارفین زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ آج کل غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے صارفین زیادہ تر پیکجز ہی استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ قیمت میں سیٹینڈرڈ ریٹس کے مقابلے میں زیادہ سستے پڑتے ہیں۔

پاکستان  ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے  جون 2021 کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت 18 کروڑ 83 لاکھ موبائل کنکشنز موجود ہیں جبکہ تھری جی اور فور جی صارفین کی تعداد  تقریباً 10 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔

اسی طرح 10 کروڑ سے زیادہ انٹرنیٹ براڈ بینڈ کے صارفین موجود ہیں۔

محمد افتخار پشاور کے رہائشی ہیں اور جب سے سیلولر کمپنیز نے صارفین کے لیے پیکجز متعارف کرائے ہیں وہ وہی استعمال کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پیکجز میں فائدہ یہ ہوتا ہے کہ صارف کو کم قیمت پر ایک پورا کالز، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ کا پیکج  مل جاتا ہے جس میں پورا مہینہ یہ پریشانی بھی نہیں رہتی کہ بیلنس ختم ہوجایے گا یا انٹرنیٹ کا ڈیٹا ختم ہوجایے گا۔

افتخار نے کہا: ’حکومت اگر پہلے سے موجود ٹیکسز کم نہیں کر سکتی تو کم از کم غریب اور متوسط طبقے کے استعمال کی چیزوں پر اضافی ٹیکس تو عائد نہ کرے۔

’اب اگر پیکجز پر بھی کمپنیزنے ٹیکسز لگائے تو یہ غریب کی دسترس سے دور ہوجائیں گے کیونکہ فی منٹ کال کی قیمت فی الحال تین روپے سے زیادہ ہے پھر اس پر ٹیکسز لگیں گے تو سیلولر کمپنیز اسی حساب سے پیکجز کے ریٹس بھی بڑھائیں گی۔‘

پری پیڈ اور پوسٹ پیڈ صارفین پر کیا اثر پڑے گا؟

ایس طرح سیلولر کمپنیز پری پیڈ اور پوسٹ پیڈ کی سہولت بھی صارفین کو دیتی ہیں۔ پری پیڈ نمبرز میں صارف بیلنس ختم ہونے پر اس کو دوبارہ چارج کرسکتا ہے جبکہ پوسٹ پیڈ کا بل ماہانہ بنیاد پر آتا ہے جس طرح بجلی اور گیس کا بل آتا ہے۔

اضافی ٹیکس سے پوسٹ پیڈ صارفین بھی متاثر ہوں گے اور ان کے ماہانہ بل میں بھی اضافہ ہوگا اگر کوئی صارف تین مںٹ سے زیادہ بات کرے گا۔

انڈپینڈنٹ اردو نے تین منٹ سے زیادہ کال پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کے حوالے سے سیلولر کمپنی ٹیلی نار سے رابطہ کیا ہے لیکن قید تحریر تک کوئی جواب نہیں موصول ہوا۔

ٹیلی نار کا موقف موصول  ہونے پر اس رپورٹ میں شامل کردیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی