کولپور سٹیشن، جہاں پہنچنے کے لیے ایک نہیں دو انجن لگتے ہیں

یہ ریلوے سٹیشن قدیم زمانے کی گزرگاہ ہونے کے باعث اہمیت کا حامل رہا ہے، یہاں پر بعض تعمیرات 1876 کے دور کی ہیں۔

خاموش اور پرسکون پہاڑوں کے دامن میں سیٹی بجاتی ہوئی اس ٹرین کو یہاں تک پہنچنے کے لیے دو انجنوں کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، ایک آگے اور ایک پیچھے لگا ہوتا ہے، کیوں کہ یہ سٹیشن بلوچستان کا بلند ترین ریلوے سٹیشن ہے۔

یہاں کا نظارہ اس وجہ سے اور بھی خوبصورت ہے کہ اس کے ایک طرف ڈیڑھ سو سال پرانی ایک سرنگ بھی ہے، دوسری جانب دو پہاڑوں کے درمیان ایک قدیم آبادی ہے۔

یہاں آکر انسان کو ایک خوش گوار احساس ہوتا ہے، جو یہاں پر چلنے والی ٹھنڈی ہوا کے باعث ہے۔ یہ کوئٹہ سےتقریباً 40 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع کولپور کا ریلوے سٹیشن ہے جو درہ بولان کا ریل اور سڑک دونوں کے لحاظ سے پہلا مقام ہے۔

یہ ریلوے سٹیشن اور یہ مقام قدیم زمانے کی گزرگاہ ہونے کے باعث ایک اہم مقام کا حامل رہا ہے۔ یہاں پر ہونے والی بعض تعمیرات 1876 کے دور کی ہیں۔ دوسری جانب سٹیشن پر موجود ایک مشینری پر 1888 کی تاریخ درج ہے۔

کولپور کی گزرگاہ زمانہ قدیم میں جنگجو لشکروں کے گھوڑوں، یلغار کرنے والے فوجوں اور انگریزوں کے دور میں ریلوے لائن بچھانے کے لیے سامان لانے والے اونٹوں کے طویل قافلوں کو بھی دیکھ چکی ہے۔

سٹیشن کو ایک سیاحتی مقام بنانے کے لیے محکمہ ریلوے اور حکومت بلوچستان نے ایک قدم اٹھاتے ہوئے ہفتے میں دو روز کے لیے ٹرین سروس کا آغاز کردیا ہے۔ یہ ٹرین کوئٹہ ریلوے سٹیشن سے پہلے بوستان اور وہاں سے واپس ہوکر کولپور تک جائے گی۔

یہاں پر موجود اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹر شیراز غفار کہتے ہیں کہ اس کے قدیم ہونے کی گواہی یہاں پر نصب سامان اور اس وقت کی بنائی ہوئی سرنگیں دیتی ہیں۔

شیراز کے بقول: ’یہ تقریباً 1876 یا 1888 کا دور رہا ہوگا جب انگریزوں نے یہاں پر ریلوے ٹریک بچھانے کا کام شروع کیا تھا۔ انہوں نے اس مقام کو اس کے ماحول اور اہمیت کے لحاظ سے منتخب کیا تھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ کولپور شہر سے دور ایک پر فضا اور صاف ماحول کا مقام ہے جہاں پر انسان کو سکون ملتا ہے۔ کولپورکو دشت سے ملانے والی سرنگ پر سمٹ 1894 لکھا ہے جو ایک مضبوط بناوٹ اور پتھروں سے بنا ہوا ہے جس کی برج اور پتھروں کی تراش خراش بھی کاریگروں کی محنت ظاہر کرتی ہیں جو صدیوں بعد میں اسی طرح کھڑا ہے۔

شیراز نے بتایا کہ کولپور سطح سمندر سے 1792 میٹر بلند ہے جو بلوچستان کا سب سے بلند ترین ریلوے سٹیشن ہے۔ اس سے قبل کا بلند ترین ریلوے سٹیشن ژوب سیکشن پر واقع کان مہترزئی کا تھا جو اس وقت بند ہوچکا ہے۔

اس سٹیشن کی خاصیت کا اندازہ یہاں پر انگریز افسروں کےلیے بنائے گئے قیام گاہ سے بھی لگایا جاسکتا ہے جنہوں نے یہاں ایک ڈاک بنگلہ بھی بنایا تھا۔

شیراز نے بتایا کہ صاف اور پُرسکون ماحول کے باعث یہ سیاحوں کے لیے پرکشش مقام بن سکتا ہے، اس سلسلے میں محکمہ ریلوے نے ٹرین سروس کا آغاز کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ یہاں پر ایک سٹال موجود ہے جس سے سیاح اور ٹرین کے مسافر اپنی ضرورت کی اشیا خرید سکتے ہیں۔ پانی کا مسئلہ ہے جسے حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کولپور کا نظارہ گرمیوں کی نسبت سردیوں میں زیادہ خوبصورت ملے گا جب یہاں پر برف پڑتی ہے۔

شیراز نے بتایا کہ جب یہاں برف ہوتی ہے تو نہ صرف کوئٹہ سے سیاح کھنچے چلے آتے ہیں بلکہ ٹرین کے مسافر بھی زیادہ دیر رکنے پر اسرار کرتے ہیں تاکہ وہ اس برف کو اپنے کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرسکیں۔

شیراز کے مطابق: ’یہاں پر جنوری اور فروری کے مہینے میں برف باری ہوتی ہے جو دو سے ڈھائی فٹ تک ہوتی ہے، برفباری کے موسم میں پاکستان کے دوسرے شہروں سے آنے والے سیاح زیارت کے علاوہ کولپور کا بھی رخ ضرور کرتے ہیں، ٹرین سروس کے باعث سیاح نہ صرف گرمی میں خوشگوار موسم بلکہ سردیوں میں برفباری سے بھی لطف اندوز ہوسکیں گے۔‘

یہ سٹیشن کسی وقت مصروف رہتا تھا جب کوئٹہ سے چلنے اور آنے والی ٹرینوں کی تعداد زیادہ تھی، اب صرف ایک ٹرین کے باعث یہاں کی رونقیں بھی ماند پڑی ہیں۔

شیراز نے بتایا کہ کرونا کی وجہ سے لاہور اور کراچی کے لیے چلنے والی ٹرین بند ہیں جنہیں تاحال شروع نہیں کیا گیا۔ اب ٹرین سروس ہفتے میں صرف دو دن چلانے کا آغاز کیا گیا ہے، اگر یہاں پر سیاحوں کی آمد شروع ہوگئی تو یہ سٹیشن بھی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا