میاواکی جنگل کیا ہے اور عام جنگلوں سے کس طرح مختلف ہوتا ہے؟

پچھلے 30 برسوں میں پاکستان کے جنگلوں میں 76 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد اب پاکستان کے صرف 1.91 فیصد رقبے پر جنگلات پائے جاتے ہیں۔

پاکستان میں جنگلات کے رقبے میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے جس کے مقابلے کے لیے نئے درخت لگانا ازحد ضروری ہے (فوٹو:پکسا بے)

وزیراعظم عمران خان نے پیر کو ’10 بلین ٹری سونامی‘ پروجیکٹ کے تحت لاہور میں ’دنیا کے سب سے بڑے میاواکی شہری جنگل‘ کا افتتاح کردیا۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہر کسی کو کم از کم ایک درخت لگا کر اس کی پرورش ضرور کرنی چاہیے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ جنگل سو کنال سے زیادہ رقبے پر قائم کیا گیا ہے اور اس میں ایک لاکھ 65 ہزار پودے ہیں۔

اس موقعے پر ایک سوال گردش کر رہا ہے کہ جنگل اگانے کی میاواکی تکنیک کیا ہے کیا ہے اور اس میں کیا خاص بات ہے۔

جنگلات انمول قدرتی خزانہ ہیں اور ان سے کسی بھی ملک کو بے بہا فائدے حاصل ہوتے ہیں جن میں قیمتی لکڑی کی فراہمی سے لے کر سیم و تھور اور زمین کے کٹاؤ سے بچاؤ، ہوا سے کاربن ہٹا کر ماحولیاتی تپش کے خلاف مزاحمت، مقامی موسم کی بہتری، جنگلی حیات کا تحفظ اور سیاحت کا فروغ وغیرہ شامل ہیں۔ 

جنگلات کے اعداد و شمار پیش کرنے والی ویب سائٹ ’سی ای او ڈاٹ بز‘ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے صرف 1.91 فیصد رقبے پر جنگلات پائے جاتے ہیں اور دنیا بھر میں ہمارا نمبر 173واں ہے۔

مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ ورلڈ بینک کے مطابق پچھلے 30 برسوں میں پاکستان کے جنگلوں میں 76 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ جس رفتار سے آبادی بڑھ رہی ہے، اس سے پاکستان میں رہے سہے جنگلوں کا وجود بھی خطرے میں دکھائی دیتا ہے۔

میاواکی کون تھے اور ان کی تکنیک کیا ہے؟

اکیرا میاواکی جاپان سے تعلق رکھنے والے ماہرِ نباتیات تھے اور انہوں نے جنگل اگانے کا ایک نیا طریقہ ایجاد کیا ہے جو انہی کے نام پر میاواکی تکنیک کہلاتا ہے۔

میاواکی نے جاپان میں مذہبی زیارات پر اگنے والے درختوں کا جائزہ لیا اور ان کا موازنہ جاپان بھر میں اگنے والے دوسرے جنگلوں سے کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ جنگلوں کی چار تہیں ہوتی ہیں۔ اکثریتی بڑے درخت، درختوں کی ذیلی انواع، جھاڑیاں اور زمین پر اگنے والی گھاس اور بوٹیاں۔

میاواکی کو یہ معلوم تھا کہ درختوں کا ایک دوسرے سے رابطہ ہوتا ہے اور اسی کی روشنی میں انہوں نے جنگل اگانے کا طریقہ ایجاد کیا۔

ڈیلی جے سٹور نامی جریدے کے مطابق اس طریقے میں جہاں جنگل اگانا ہو، اس زمین کو پہلے مقامی طور پر پائے جانے والے قدرتی نباتاتی مواد کی مدد سے زرخیز بنایا جاتا ہے، مثال کے طور پر بھوسہ ڈال کر۔

اس کے بعد 50 تا 100 مقامی درختوں کے بیج اس زمین پر بےترتیبی سے بوئے جاتے ہیں، بالکل ایسے ہی جیسے قدرتی جنگلوں میں ہوتا ہے۔

عام طور پر مصنوعی جنگلوں میں ڈھائی ایکڑ کے رقبے میں ایک ہزار کے قریب بیج بوئے جاتے ہیں لیکن میاواکی تکنیک میں بیجوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے اور ڈھائی ایکڑ میں 20 ہزار تا 30 ہزار بیج بوئے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میاواکی کے نظریے کے مطابق چونکہ اس طرح اگنے والے جنگل میں شروع میں پودوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے ان کے درمیان ہوا اور خوراک کے لیے سخت مقابلہ ہوتا ہے جس کے باعث وہ معمول سے زیادہ تیزی سے اگتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اربن فاریسٹ نامی ویب سائٹ کے مطابق میاواکی جنگل کے اگنے کی رفتار عام جنگل سے دس گنا زیادہ ہوتی ہے۔ عمران خان نے ایک ٹویٹ میں دہرایا تھا کہ اس طریقے سے جنگل دس گنا زیادہ رفتار سے اگتے ہیں اور 30 گنا زیادہ گھنے ہوتے ہیں۔

اس کے بعد اگلے دو سے تین برس کے دوران اس علاقے کی نگرانی کی جاتی ہے، پودوں کو پانی دیا جاتا ہے اور غیر ضروری جڑی بوٹیاں الگ کر دی جاتی ہیں۔

دو تین سال بعد جب جنگل اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے تو اسے مزید نگرانی کی ضرورت نہیں رہتی، سوائے اس کے کہ کوئی انسان آ کر نو خیز پودوں کو ضائع نہ کر دے۔ 20 سے 30 برس کے دوران میاواکی جنگل قدرتی جنگل کی طرح ہو جاتا ہے۔

نرسری کے ذریعے اگائے جانے والے دوسرے مصنوعی جنگلوں سے میاواکی اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس میں صرف اونچے درختوں نہیں، بلکہ ہر طرح کے پودوں کی آبیاری کی جاتی ہے، تاکہ ایک صحت مندانہ ماحول وجود میں آ سکے۔

مزید یہ کہ اس میں مقامی درختوں اور پودوں کو ترجیح دی جاتی ہے، کیوں کہ وہ مقامی ماحول کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہوتے ہیں اور زیادہ آسانی کے ساتھ پھل پھول سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ میاواکی تکنیک میں مٹی کا معائنہ کرکے وہاں موجود نمکیات، پانی اور دوسرے اجزا کے جائزے کے بعد موزوں درختوں کی قسمیں تجویز کی جاتی ہیں۔

میاواکی طریقے سے دنیا کے درجنوں ملکوں میں کامیابی کے ساتھ جنگلات اگائے جا چکے ہیں، جس کے بعد اسے پاکستان میں لانچ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے مطابق لاہور کے مختلف علاقوں میں 50 مقامات پر میاواکی جنگل اگائے جا رہے ہیں۔

البتہ جب ہم نے جنگلوں اور ماحولیات کے ماہر اور سابق انسپکٹر جنرل آف پاکستان سید محمد ناصر سے اس بارے میں بات کی تو ان کا نظریہ مختلف نکلا۔

کیا پاکستان میاواکی جنگلوں کا متحمل ہو سکتا ہے؟

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ میاواکی جنگل وقت اور پیسے کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں۔ ’میاواکی تکنیک میں نصف ایکڑ جنگل اگانے پر پانچ سے چھ لاکھ روپے خرچ آتا ہے جب کہ ہمارا ملک اس بھاری خرچ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘

سید محمد ناصر نے مزید کہا کہ ’جہاں پہلے جنگل تھا، اگر وہاں جنگل اگایا جائے تو اچھی بات ہے کیوں کہ اس علاقے کی آب و ہوا اور زمین میں پانی کی مقدار اس جنگل کا بوجھ سہار سکتی ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایسے علاقوں میں بھی جنگل اگائے جا رہے ہیں جہاں پہلے کبھی جنگل تھے ہیں۔ جہاں چراگاہیں تھیں یا جو بنجرعلاقے تھے وہاں جنگل اگانے سے پانی کی سطح مزید نیچے گر جائے گی اور وہ لوگ جو بھیڑ بکریاں پال کر گزارا کرتے ہیں، ان کے لیے مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔‘

ہم نے اس بارے میں جب لاہور کے پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل جواد احمد قریشی سے بات کی تو انہوں نے سید محمد ناصر کے تمام دلائل کو رد کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ میاواکی تکنیک کے تحت تحقیق کرکے صرف مقامی درخت ہی منتخب کیے جاتے ہیں جن کا ماحول کو نقصان پہنچنے کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔

سید محمد ناصر نے کہا کہ ’پانی کی سطح گرنے کا اندیشہ بھی غلط ہے کیوں کہ مقامی درختوں کی وجہ سے زمین میں پانی کی مقدار بڑھتی ہے، کم نہیں ہوتی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’قدیم زمانے میں لاہور اور اس کے آس پاس کے علاقے جنگلوں سے ڈھکے ہوئے تھے، جن کی وجہ سے یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ جہاں جنگل نہیں تھے، وہاں جنگل اگائے جا رہے ہیں۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ باہر سے منگوا کر بڑے مہنگے پودے اگائے جاتے تھے، اب ہم نے مقامی پودوں پر توجہ دی ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میاواکی صرف لاہور شہر کے اندر مختلف جگہوں پر لگایا گیا ہے اور اس کا چراگاہوں سے تعلق نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات