کابل میں ہلاک 13 فوجیوں کی باقیات وصول کرنے صدر بائیڈن ائیربیس پر

امریکی بحریہ کے 22 سالہ فوجی نے فیس ٹائم پر اپنی والدہ کے ساتھ ہونے والے اپنی آخری بات چیت میں کہا تھا کہ وہ محفوظ رہیں گے کیونکہ’میرے لوگوں نے مجھے سبنھال لیا ہے۔‘

جو بائیڈن اور ان کی اہلیہ ڈوور ایئر فورس بیس پہنچنے کے بعد(تصویر: اے ایف پی)

 امریکی صدر جوبائیڈن اتوار کو ریاست ڈیلاویئر میں واقع ڈوور ایئر فورس بیس پہنچ چکے ہیں جہاں وہ اس ہفتے افغان دارالحکومت کابل میں بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے 13 امریکی فوجیوں کی باقیات وصول کریں گے اور انہیں خراج عقیدت پیش کریں گے۔

ہلاک ہونے والے فوجیوں کی باقیات کی منتقلی سے قبل صدارتی مصروفیات کے یومیہ شیڈول میں بتایا گیا ہے کہ ’جوبائیڈن اور ان کی اہلیہ جِل بائیڈن’امریکی شہریوں، ہمارے شراکت داروں اور کابل میں ہمارے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے جان دینے والے فوجیوں کے اہل خانہ سے بھی ملیں گے۔‘

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد جوبائیڈن فوجیوں کی باقیات کی منتقلی کی روائتی فوجی تقریب میں شریک ہوں گے۔ کابل میں ہلاک ہونے والے امریکی کی عمریں 20 سے 31 سال کے درمیان ہیں اور ان کا تعلق کیلی فورنیا، میساچوسیٹس اور ان کے درمیان واقع ریاستوں کے ساتھ تھا۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والے 20 سالہ میرین ریاست وائیومنگ کے رہنے والے تھے۔ وہ تین ہفتے میں اپنے پہلے بچے کے باپ بننے والے تھے۔ دوسری جانب امریکی بحریہ کے 22 سالہ کورمین نے میسیجنگ ایپ فیس ٹائم پر اپنی والدہ کے ساتھ ہونے والے اپنی آخری بات چیت میں کہا تھا کہ وہ محفوظ رہیں گے کیونکہ’میرے لوگوں نے مجھے سبنھال لیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کابل میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں سے پانچ نائن الیون کے حملوں سے کچھ عرصہ پہلے پیدا ہوئے تھے۔ انہی حملوں کی وجہ سے امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تا کہ القاعدہ اور اس کی میزبان طالبان حکومت کا خاتمہ کیا جا سکے۔

موت کے وقت 13 فوجی امریکی اور افغان شہریوں کے افراتفری کے شکار انخلا میں مدد دینے کے لیے کابل کے ہوائی اڈے پر موجود تھے۔ صدر جوبائیڈن نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا تھا کہ’جن 13 فوجیوں نے جان قربان کی وہ ہیرو ہیں۔ انہوں نے ہمارے اعلیٰ امریکی مقاصد کے حصول اور دوسرے کی جان بچاتے ہوئے آخری قربانی دی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ