طالبان مظاہرین اور صحافیوں کو نشانہ بنانا بند کریں: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ مظاہرین اور صحافیوں کے خلاف تشدد سے گریز کریں۔

تین ستمبر کو کابل میں خواتین طالبان حکومت میں اپنے حقوق کو برقرار رکھنے کے لیے مظاہرہ کر رہی ہیں (اے ایف پی)

اقوام متحدہ نے افغانستان میں طالبان کی جانب سے مظاہروں کو روکنے کے لیے پرتشدد طریقہ کار اپنانے اور صحافیوں پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ ملک میں زیادہ تر خاندانوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان روینا شمداسانی نے کہا: ’ہم طالبان پر زور دیتے ہیں کہ وہ پرامن اجتماع کا اپنا حق استعمال کرنے والوں اور ان مظاہروں کو کوور کرنے والے صحافیوں پر تشدد یا ان کو بےجواز حراست میں لینے سے فوراً گریز کریں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ طالبان جنگجو مظاہرین کو منتشر کرنے لیے اسلحے اور کوڑوں کا استعمال کر رہے ہیں اور اگست کے وسط سے اب تک چار لوگ جان سے جا چکے ہیں۔

رواں ہفتے طالبان جنگجوؤں نے کئی شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں شرکا کو منتشر کیا جس میں فائرنگ میں دو شہری مارے گئے۔

شمداسانی نے کہا کہ ان کے دفتر کو یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ گذشتہ ماہ ایک قومی پرچم اڑنے کی تقریب میں ایک شخص اور بچہ مارا گیا تھا جب طالبان نے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔  

بدھ کو کم سے پانچ صحافیوں کو بھی گرفتار کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا صحافی اپنا کام کر رہے ہیں مگر انہیں ڈرایا جا رہا ہے۔

بدامنی کو روکنے کے لیے طالبان نے بدھ کو یہ اعلان بھی کیا کہ مظاہروں کے لیے وزرات انصاف سے پہلے اجازت نامہ لینا ہوگا۔ اس کے اگلے دن ہی ٹیلی کمیونیکشن کمپنیوں کو کابل کے کچھ علاقوں میں انٹرنیٹ اور فون سروس بند کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔

دوسری جانب ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ ملک میں 93 فیصد افراد کو خوارک کی مناست مقدار نہیں مل رہی۔

ادارے کی ایشیا پسیفک ریجنل ڈائریکٹر انتھیا ویب نے کہا: ’ملک کے 34 صوبوں میں اگست 21 سے ستمبر 5 کے درمیان کیے جانے والے رینڈم فون سروے میں معلوم ہوا کہ چار میں سے تین خاندان کھانے کی مقدار میں کمی کر رہے ہیں یا ادھار لے رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’والدین کھانا نہیں کھا رہے تاکہ بچوں کو پورا ہو سکے۔‘


طالبان کا افغانستان پر قبضہ انتہا پسندوں کے حوصلے بلند کرے گا: ایم آئی فائیو سربراہ

برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کے ڈومیسٹک سربراہ کا کہنا ہے کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے سے دیگر مقامات پر موجود حملوں کی منصوبہ بندی کرتے انتہا پسندوں کے حوصلے بلند ہوں گے۔

کین میک کلم کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان ایسے انتہا پسندوں کو افغانستان میں ٹھکانے بھی فراہم کر سکتے ہیں جیسا کہ نائن الیون تک کیا جا رہا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برطانوی سکیورٹی سروس ملٹری انٹیلی جنس سیکشن فائیو کے ڈائریکٹر جنرل نے بی بی سی کو بتایا کہ برطانیہ کو دہشت گردی سے لاحق خطرہ ’حقیقی اور مسلسل ہے۔‘

نائن الیون حملوں کی بیسویں برسی سے چند گھنٹے قبل دیے جانے اس انٹرویو میں کین میک کلم کا کہنا تھا کہ ’ہمیں انتہاپسندی کو شکست دینے اور دہشت گردی سے محفوظ رہنے کے لیے ایک مسلسل عالمی جدوجہد کا سامنا ہے۔‘

برطانیہ میں دہشت گردی کا آخری بڑا واقعہ سال 2017 میں ہوا تھا جب کہ مانچسٹر شہر میں ایک کانسرٹ کو ایک بم دھماکے اور لندن کے دو پلوں پر چاقوؤں سے حملے کیے گئے تھے۔

برطانوی عہدیدار کین میک کلم کے مطابق گذشتہ چار سال کے دوران پولیس اور انٹیلی جنس سروسز نے حملوں کے 31 ایسے منصوبوں کو تدارک کیا ہے جو اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے عسکریت پسند طالبان کی کامیابیوں سے حوصلہ حاصل کریں گے۔


پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ انسانی بحران سے بچنے کے لیے افغانستان کی مدد عالمی برادری کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق جمعے کو اپنے ایک بیان میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’محدود وسائل ہونے کے باوجود پاکستان نے خوراک اور ادویات پر مشتمل ایک طیارہ کابل بھیجا۔‘

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مزید امداد زمینی راستوں سے افغانستان بھیجی جائے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ہسپانوی ہم منصب جوز مینوئل البرز کے دورے سے قبل کیا، جن کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ وہ آج افغانستان کے بارے میں بات چیت کے لیے اسلام آباد پہنچیں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’افغانستان میں انسانی بحران خطے یا دنیا میں کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا۔‘

بقول وزیر خارجہ: ’پاکستان چاہتا ہے کہ بین الاقوامی برادری افغانستان کے اثاثے غیر منجمد کرے تاکہ کابل اپنے پیسے کو کسی بحران سے بچنے کے لیے استعمال کرسکے۔‘

طالبان حکومت کو فی الحال افغانستان کے مرکزی بینک کے نو ارب ڈالرز کے ذخائر تک رسائی حاصل نہیں، جن میں سے زیادہ تر نیویارک فیڈرل ریزرو کے پاس ہے۔

امریکہ یہ ذخائر گذشتہ ماہ افغانستان میں سیاسی ہنگامہ آرائی کے درمیان منجمد کر دیے گئے تھے۔


طالبان نے انخلا میں ’کاروباری اور پیشہ ورانہ‘ رویہ اپنایا: امریکہ

امریکہ نے افغانستان سے اپنی فوج کے انخلا کے سلسلے میں کاروباری انداز اپنانے اور سہولیات فراہم کرنے میں تعاون پر طالبان کی تعریف کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایملی ہورن نے جمعرات کو قطر ایئر ویز کی چارٹرڈ پرواز کی کابل سے دوحہ روانگی کو نئی افغان حکومت کے ساتھ ’ایک مثبت پہلا قدم‘ قرار دیا۔

انہوں نے کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ایئرپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا: ’طالبان حامد کرزئی ایئرپورٹ سے چارٹرڈ پروازوں میں امریکی شہریوں اور قانونی مستقل رہائشیوں کی روانگی کو آسان بنانے کے سلسلے میں تعاون کر رہے ہیں۔‘

ترجمان نے مزید کہا: ’انہوں نے لچک دکھائی ہے اور وہ ان کوششوں میں ہمارے ساتھ کاروباری اور پیشہ ورانہ انداز میں پیش آئے ہیں۔‘

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بتایا تھا کہ 30 سے ​​زائد امریکی شہریوں اور مستقل رہائشیوں کو مذکورہ پرواز میں سوار ہونے کے لیے مدعو کیا گیا تھا لیکن امریکی حکام اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ پرواز میں آخر کتنے لوگ سوار ہوئے۔

 

پرائس نے کہا: ’یقیناً ہم اس طرح کی مزید پروازیں دیکھنا چاہیں گے۔ ہم نے عوامی بیانات سنے ہیں کہ حقیقت میں مزید پروازیں بھی آنے والی ہیں۔‘

امریکہ کا کہنا ہے کہ 30 اگست کو فوجی انخلا کے بعد 100 سے زائد امریکیوں کی افغانستان میں موجودگی کی اطلاعات ہیں۔

پرائس نے کہا کہ باقی رہنے والے زیادہ تر امریکیوں کے افغانستان میں روابط تھے اور انہیں وہاں سے نکلنے کے بارے میں ’مشکل ‘ فیصلے کرنے تھے اور انہیں ابھی فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

انہوں نے مزید کہا: ’یہ موقع ختم نہیں ہوگا، اگر وہ اسے ایک دن کے لیے ٹھکرا دیں اور پھر اگلے یا اس سے اگلے سال اپنا ذہن بدل لیں۔‘


عالمی برادری کو طالبان سے بات چیت جاری رکھنی چاہیے: اقوام متحدہ سربراہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی برادری سے افغانستان میں طالبان کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ممکنہ طور پر لاکھوں افراد کی ہلاکت کے ساتھ ’معاشی تباہی‘ سے بچنا چاہیے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا: ’ہمیں افغان شہریوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے طالبان کے ساتھ بات چیت جاری رکھنی چاہیے، جہاں ہم اپنے اصولوں پر برقرار رکھیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی یکجہتی ایسے لوگوں تک پہنچائیں جو بہت زیادہ تکلیف میں ہیں، جہاں لاکھوں افراد کے بھوک سے مرنے کا خطرہ ہے۔‘

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ ’اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ مذاکرات سے کیا نتائج نکلیں گے لیکن اگر ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان دہشت گردی کا مرکز نہ بن جائے، خواتین اور لڑکیاں گذشتہ دور میں حاصل کیے گئے تمام حقوق سے محروم نہ ہوں اور مختلف نسلی گروہ نمائندگی محسوس کریں، تو مذاکرات ضروری ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اب تک ہمارے درمیان ہونے والی بات چیت میں، مذاکرات کے لیے کم از کم ایک قبولیت کا عنصر موجود ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی خواہش ہے کہ ’ایک جامع حکومت‘ ہو جہاں افغان معاشرے کے تمام سٹیک ہولڈرز کی نمائندگی ہو۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حالیہ عبوری حکومت جس کا کچھ دن پہلے اعلان کیا گیا تھا ’یہ تاثر نہیں دیتی۔‘

اقوام متحدہ کے سربراہ نے مزید کہا: ’ہمیں انسانی حقوق، خواتین اور لڑکیوں کے احترام کی ضرورت ہے۔ دوسرے ممالک میں دہشت گردی کے لیے افغانستان میں کوئی اڈہ نہیں ہونا چاہیے اور طالبان کو منشیات کے خلاف جدوجہد میں تعاون کرنا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن اور استحکام کے ساتھ ساتھ لوگوں کے حقوق کا بھی احترام کیا جانا چاہیے۔

گوٹیرس نے مزید کہا کہ طالبان چاہتے ہیں کہ انہیں تسلیم کیا جائے اور ان کی مالی مدد اور عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا