’بے بی فرینڈلی اسمبلی بنانے کا خواب پورا ہو گیا‘

ڈے کئیر سنٹر نہ ہونے کی وجہ سے بالخصوص ان رکن ہائے اسمبلی خواتین و حضرات کو پریشانی کا سامنا رہتا تھا جن کے گھروں میں بچوں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں تھا۔

وفاق اور صوبہ بلوچستان کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی بچوں کی نگہداشت  کے لیے ’ڈے کئیر سینٹر‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کے پہلے ڈے کئیر سینٹر کا افتتاح پیر کے دن سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی نے کیا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں رکن خواتین کے بچوں کے عارضی قیام اور کھیل کود کے لیے اس سے پہلے کوئی جگہ نہیں تھی۔

ڈے کئیر سنٹر نہ ہونے کی وجہ سے بالخصوص ان رکن ہائے اسمبلی خواتین و حضرات کو پریشانی کا سامنا رہتا تھا جن کے گھروں میں بچوں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں تھا۔

اس مسئلے کو زیادہ توجہ اس وقت ملی جب  بلوچستان اسمبلی میں کیچ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون رکن صوبائی اسمبلی ماہ جبین شیرین کو سیشن میں اپنا بچہ ساتھ لانے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

حقوق نسواں کے اداروں، ویمن کاکس کی اراکین ودیگر حمایتیوں نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی مذمت کی، اور اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل بحث مباحثے ہوئے۔

ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی کہ ہر کام کرنے والی جگہ پر ’ڈے کئیر سنٹرز‘ لازمی ہونے چاہئیں تاکہ خواتین یکسوئی سے اپناکام کرسکیں، اورانہیں اپنی ملازمت کو اس وجہ سے خیرباد نہ کہنا پڑے کہ وہ بچوں کو گھر پر اکیلا نہیں چھوڑ سکتیں۔

اس مہم کے بعد خیبر پختونخوامیں خواتین ارکان اسمبلی نے ڈے کئیر سنٹر کے قیام کے لیے آواز اٹھائی، جس میں بطور خاص ویمن پارلیمنٹری کاکس کی اراکین نے اہم کردار ادا کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رکن صوبائی اسمبلی سمیرا شمس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ڈے کئیر سنٹر کے قیام میں بچوں کے عالمی ادارے یونیسف نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے فنڈنگ کی تاکہ سیاست میں خواتین کا مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کا خواب پورا ہوسکے۔‘

خآتون ایم پی اے نے بتایا کہ صوبائی اسمبلی کے بعدصوبے کے دیگر سرکاری عمارتوں میں بھی ڈے کئیر سنٹرز قائم کیے جائیں گے۔

’پارلیمنٹیرین ہوں یا دیگر ملازمت پیشہ خواتین۔ دونوں کو کام پر جاتے وقت یکساں مشکل کا سامنا ہوتا ہے کہ بچے کس کے آسرے پر چھوڑ کر جائیں۔اس سے ان کے کام پر اثر پڑتا تھا۔‘

افتتاح کے موقع پر موجود رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر آسیہ اسد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ پہلے ڈاکٹر تھیں اور اس کے بعد سیاستدان بنیں۔

’جب میں ڈاکٹر تھی تو مجھے ہر وقت اس پریشانی کا سامنا رہتا تھا کہ مجھے بچوں کو گھر میں چھوڑ کر جانا پڑتا تھا۔ جب سیاست میں آئی تو یہاں بھی وہی مشکل تھی کہ بچوں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی اور بچوں کو اکیلا چھوڑنا بھی مشکل اور اذیت ناک تھا۔‘

 ڈاکتر آسیہ نے کہا کہ ایک جانب ہم بچوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں اور پھر اگر ہم ہی اسمبلی کی عمارت میں اپنے بچوں کو محفوظ جگہ فراہم نہیں کرسکتے تو ہم دوسروں کے لیے کیا بات کریں گے۔

’ہم اسمبلی میں صبح سے شام تک ہوتے ہیں۔ بعض اوقات اسمبلی سیشن شام گئے تک چلتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں بچوں کی فکر لگی رہتی ہے۔‘

 خیبر پختونخوا اسمبلی میں نئے قائم شدہ ڈے کئیر سنٹر میں بچوں کی دلچسپی کے لیے ایک  ٹی وی سکرین لگائی گئی ہے جس پر وہ کارٹون دیکھ سکیں گے۔ علاوہ ازیں، ان کا دل بہلانے کے لیے نت نئے کھلونے بھی رکھ دیے گئے ہیں۔

 ان بچوں کی دیکھ بھال آیائیں کریں گی جب کہ ارکان اسمبلی خود گھروں سے اپنے ملازمین بھی ساتھ لا سکیں گی۔ نیز سنٹر میں سی سی ٹی وی کیمروں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان