جسٹن ٹروڈو تیسری مرتبہ کینیڈا کے وزیراعظم بننے کی راہ پر گامزن

پیر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں جسٹن ٹروڈو کی لبرل پارٹی نے اب تک سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی لبرل پارٹی نے پیر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں، اس طرح ٹروڈو  کے لیے ملک کے اگلے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق لبرلز کو 156 سیٹوں پر برتری حاصل ہے، جو 2019 میں ان کی جیتی ہوئی سیٹوں سے ایک کم ہے، جبکہ حریف کنزرویٹو پارٹی کو 121 سیٹوں پر فتح حاصل ہے، وہی جو انہوں نے 2019 میں بھی جیتی تھیں۔ نیو ڈیموکریٹس پارٹی نے 27 سیٹیں جیتی ہیں۔

ہاؤس آف کامنز کی کُل 338 نشستیں ہیں اور کسی بھی پارٹی کو اکثریت حکومت قائم کرنے کے لیے 170 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

49 سالہ جسٹن ٹروڈو اپنے والد، لبرل آئیکون اور آنجہانی وزیراعظم پیئر ٹروڈو کی سٹار پاور کی راہ پر چلتے ہوئے پہلی بار 2015 میں الیکشن جیتے تھے اور اب انہوں نے اپنی پارٹی کو دو انتخابات میں پہلی پوزیشن پر پہنچایا ہے۔

 

اے پی کے مطابق ٹرودو نے نتائج کے لیے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فتح کی ایک تقریب میں کہا: ’آپ ہمیں واضح مینڈیٹ کے ساتھ کینیڈا کو اس وبا سے نکالنے کے لیے کام پر واپس بھیج رہے ہیں اور ہم یہی کریں گے۔‘

 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جسٹن ٹروڈو کرونا ویکسین کے حامی رہے ہیں اور وبا کے دوران کینیڈا میں سخت پابندیاں نافذ رہی ہیں۔  وہ کرونا وبا کے دوران کہہ چکے تھے کہ کینیڈین شہری کنزرویٹو پارٹی کی حکومت نہیں چاہتے۔

کینیڈا اب دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے، جہاں کے سب سے زیادہ شہریوں کو کرونا ویکسین لگ چکی ہے۔

ٹروڈو کی حکومت نے لاک ڈاؤن کے درمیان معیشت کو آگے بڑھانے کے لیے سینکڑوں ارب ڈالر خرچ کیے اور انہوں نے دلیل دی کہ کنزرویٹیوز کا نقطہ نظر، جو لاک ڈاؤن اور ویکسین مینڈیٹ کے بارے میں شکوک کا شکار ہے، خطرناک ہوگا۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کینیڈین شہریوں کو ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو سائنس کی پیروی کرے۔

دوسری جانب اپوزیشن نے ٹروڈو پر الزام لگایا کہ انہوں نے اپنی ذاتی خواہش کے لیے ڈیڈ لائن سے دو سال قبل غیر ضروری طور پر ابتدائی ووٹنگ کروائی۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا