لاہور پولیس نے جتنے بھکاری پکڑے سب ضمانت پر رہا

لاہور پولیس ترجمان کے مطابق ’عملاً بھکاریوں پر مقدمہ بنتا نہیں ہے ہم انہیں اس کے باوجود دفعہ 102 کے تحت اندرکر دیتے ہیں لیکن ان کی بھی ضمانت ہو جاتی ہے۔‘

لاہور پولیس کے ترجمان عارف رانا کے بقول ’ہم نے ان سب گداگروں کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا لیکن وہاں سے ان سب کو بری کر دیا گیا ہے۔‘ (تصویر: لاہور پولیس)

 

سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کے مطابق گذشتہ 11 روز میں لاہور پولیس 2707 بھکاریوں کو گرفتار کر چکی ہے اور مزید فقیروں کو قانونی گرفت میں لینے کے لیے بھی کارروائیاں کی جاری ہیں۔

لیکن دوسری جانب اس وقت تک ان تمام گرفتار شدگان کی ضمانتیں عدالت سے منظور ہو چکی ہیں۔

لاہور پولیس کے ترجمان عارف رانا کے بقول ’ہم نے ان سب گداگروں کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا لیکن وہاں سے ان سب کو بری کر دیا گیا ہے۔‘

عارف نے بتایا کہ ان بھکاریوں کے ساتھ ان کے سہولت کار بھی پکڑے گئے تھے جو ان میں سے کسی کا بھائی تھا کسی کا والد تھا کسی کا چچا تھا۔ ’عملاً ان پر مقدمہ بنتا نہیں ہے ہم انہیں اس کے باوجود دفعہ 102 کے تحت اندرکر دیتے ہیں لیکن ان کی بھی ضمانت ہو جاتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان بھکاریوں کو گداگری ایکٹ کے تحت کچہری میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جس کے بعد یہ عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ انہیں ایک دو روز کے لیے جوڈیشل کرتے ہیں یا ضمانت پر چھوڑ دیتے ہیں۔

عارف نے مزید بتایا کہ ان گداگروں میں جو نشئی گداگر تھے انہیں سوشل ویلفئیر والوں کے سپرد کر دیا گیا ہے جن کے ری ہیب ہسپتال میں سو بیڈز کی سہولت موجود ہے جب کہ ہم نے 70 سے 80 کے قریب نشئی گداگر پکڑے ہیں، ان گداگروں میں بچے بھی شامل ہیں۔

’ابھی اتنے وسائل نہیں ہیں کہ ہم ان بچوں کے ڈی این اے کروائیں اور دیکھیں کہ کیا یہ بچے انہی بھکاریوں کے ہیں یا نہیں البتہ  ان سب پکڑے جانے والے بھکاریوں کے انگوٹھوں کے نشان ریکارڈ میں رکھے جا رہے ہیں۔ جن کے شناختی کارڈ ہیں وہ تو ٹھیک ہیں لیکن جن کے نہیں ہیں ان کے تھمب اپمریشن کو ریکارڈ میں رکھا جائے گا تاکہ مستقبل میں اگر یہ پکڑے جائیں تو ہمیں معلوم ہو کہ یہ پہلے بھی پکڑے جاتے رہے ہیں۔‘

دوسری جانب لاہور آپریشن ونگ کے ایک پولیس افسر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تمام پکڑے جانے والے بھکاریوں کی ضمانتیں تو ہو گئی ہیں لیکن اگر وہ دوبارہ سڑک پر آئے تو انہیں پھر سے گرفتار کر لیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت جلد ان سہولت کاروں کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا جنہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں گداگروں کی ضمانتیں کروائیں۔

سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور پولیس کا گداگروں کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری ہے۔ ان میں سے بہت سے گداگر ایسے ہیں جو سڑکوں پر معزوری کا ڈھونگ کر کے بھیک مانگتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ 11 روز میں ان گداگروں  کے خلاف 2560 مقدمات درج ہوئے جبکہ کل 2707 گداگر گرفتار کیے گئے۔

سی سی پی او لاہور کا کہنا ہے کہ ان گداگروں کے پیچھے منظم گروپوں کا نیٹ ورک کام کر رہا ہے جسے توڑا جا رہا ہے۔  ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے بھیک مانگنے والے بچوں کو بھی اپنی تحویل میں لے کر انہیں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفئیر بیورو کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ سی سی پی او نے عوام سے بھی گذارش کی کہ وہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنے میں پولیس کا ساتھ دیں۔

 لاہور پولیس کے ترجمان عارف رانا نے ان بھکاریوں کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ لاہور سٹی ڈویژن سے گرفتار ہونے والے گداگروں کی تعداد 550 کینٹ ڈویژن سے گرفتار ہونے والے گداگروں کی تعداد 312 ہے۔ اسی طرح سول لائینز میں525 ، صدر ڈویژن سے 491، اقبال ٹاؤن ڈویژن سے 333، ماڈل ٹاؤن ڈویژن سے 496 گداگرگرفتار ہوئے جب کہ سٹی ٹریفک پولیس کی جانب سے گداگروں کے خلاف 132 مقدمات درج کروائے گئے۔

گداگروں کی ضمانتیں اتنی جلدی کیسے ہو جاتی ہیں؟

ایڈووکیٹ سپریم کورٹ افتخار شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا ’گداگری ایک جرم تو ہے لیکن ضمانت کا قانون یہ کہتا ہے کہ ایسے جرائم جو قابل ضمانت ہوں ان میں ضمانت دینے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا کیس جس میں سزا کے امکانات کم ہوں اس میں بھی ضمانت ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کورٹ نے ایک اصول وضع کیے ہیں کہ اگر ضماانت منظور نہ کرنی ہو تو اس کے کیا اصول ہو سکتے ہیں جیسے، کیا ملزم وہ پراسکیوشن پر اثر انداز ہو سکتا ہے؟ کیا ملزم ثبوت بدل سکتا ہے؟ کیا ملزم عدالت کی حدود سے باہر جا سکتا ہے؟ جب ان تینوں کا جواب منفی میں ہو تو ضمانت منظور نہ کرنے کی صورت نظر نہیں آتی۔ اور اس سے بھی زیادہ یہ کہ جرم قابل ضمانت ہو اور اس میں سزا دس برس سے کم ہو ان صورتحال میں ضمانت قوائد کے مطابق ملتی ہے نہ کہ ایک رعایت کے طور پر۔‘

ایک شخص ایک وقت میں کتنے لوگوں کی ضمانت کروا سکتا ہے؟

ایڈووکیٹ افتخار شاہ کا کہنا ہے کہ کسی کی ضمانت کروانے کے لیے آپ کا صاحب ثروت ہونا ضروری ہے۔ اگر ایک ملزم کی ضمانت ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ہو جاتی ہے اور آپ کے پاس دس لاکھ ہیں تو آپ دس لوگوں کی ضمانت ایک وقت میں کروا سکتے ہیں۔

’یہ منحصر ہے عدالت کے حکم پر کہ وہ کیا سکیورٹی مانگتی ہے؟ اگر سکیورٹی شخصی ضمانت ہے تواس میں شخصی ضمانت دینے والا شخص عدالت کو بتاتا ہے کہ وہ حکم ملنے پر ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کا مجاز ہو گا اور اگر پیش نہیں کر پائے گا تو اس کے عوض کسی مخصوص رقم جیسے دس لاکھ روپے تک کے سکیورٹی باڈز بھرے گا۔ شخصی ضمانت پر آپ جتنے چاہے مرضی ملزمان کی ضمانت کروا لیں۔‘

افتخار شاہ کہتے ہیں کہ بھکاریوں کے سہولت کاروں کو پکڑنا اتنا مشکل نہیں اس میں سیف سٹی اتھارٹی کی جانب سے شہر بھر میں لگائے کیمروں سے مدد لی جا سکتی ہے۔ ’ان میں سے بیشتر خواتین اور مرد بھکاریوں کو علی الصبح گاڑیوں میں بٹھا کر لایا جاتا ہے اور ان کے بھیک مانگنے کے پوائنٹ پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ سیف سٹی کے کیمروں سے کیا ان سہولت کاروں کی نشاندہی کر کے انہیں پکڑا نہیں جاسکتا؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفئیر بیورو لاہور کی چئیر پرسن سارہ احمد کی ٹیمیں بھی آج کل بھکاری بچوں کو سڑکوں سے اٹھا کر بیورو منتقل کے کام میں مصروف ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے سارہ کا کہنا تھا کہ لاہور پولیس بھکاریوں کے خلاف اپنا آپریشن کر رہی ہے جس میں پکڑے جانے والے بیشتر بھکاری بالغ ہیں۔

’بچوں کے لیے بھی وہ ہم سے رابطہ کرتے ہیں جیسے گذشتہ رات بھی لاہور پولیس کی جانب سے ہمیں پانچ بھکاری بچے موصول ہوئے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ لاہور پولیس کی ایک ٹیم ہماری ٹیم کے ساتھ بھی ہوتی ہے جب ہم سڑکوں پر بھیک مانگنے والے بچوں کے خلاف اپنا آپریشن شروع کرتے ہیں تو ان کا بھرپور تعاون ہمیں حاصل ہوتا ہے۔‘

سارہ نے بتایا کہ کہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفئیر بیورو نے 15 اگست سے بھکاری بچوں کے خلاف کریک ڈاؤن آپریشن شروع کیا ہوا ہے جس میں ہر روز صبح نو بجے سے رات ایک بجے تک چار آپریشن کیے جاتے ہیں اور ہر روز 30 سے 50 بھکاری بچوں کو بیورو لایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔

’ان میں سے کچھ بچے تو گھروں کو چلے گئے لیکن زیادہ تر بچے بیورو میں ہیں۔ اب عدالت کے حکم کے مطابق اگر انہیں ہم ان کے والدین کے حوالے نہیں کر سکتے تو ہم انہیں بیورو میں ایک ماہ سے زیادہ بھی نہیں رکھ سکتے اس لیے عدالت کے ان کے حوالے سے فیصلے کے بعد ہم انہیں دیگر اضلاع کے بیوروز میں بھیج دیں گے جیاں وہ اپنی تعلیمی سرگرمیاں شروع کر سکیں گے اور ساتھ ہی ساتھ انہیں کوئی ہنر بھی سکھایا جائے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان