’افغان امور اور ٹی ٹی پی‘: جنرل فیض کی پشاور میں تعیناتی کی وجہ؟

دفاعی تجزیہ کاروں کی رائے میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی بطور الیونتھ کور کمانڈر تعیناتی کا تعلق ٹی ٹی پی سے مذاکرات اور افغان امور سے ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کار اسلام آباد اور پاکستانی طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کو بھی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی کمانڈر پشاور کور کی حیثیت سے تعیناتی کی وجہ قرار دیتے ہیں ( آئی ایس پی آر)

انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے دو سال سے زیادہ عرصے تک فرائض سرانجام دینے کے بعد لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو صوبہ خیبرپختونخوا میں آرمی کی واحد الیونتھ کور کی سربراہی سونپی گئی ہے۔ 

پاکستانی فوج میں ہونے والے حالیہ تبادلوں کو معمول کی کارروائی قرار دیا جاتا ہے، تاہم لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی پشاور میں تعیناتی پر مختلف فورمز پر بحث ہو رہی ہے۔   

دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ فوج میں ایسے تبادلے اور تعیناتیاں معمول ہیں اور حالیہ تعیناتیاں بھی کوئی ایسی نئی یا انہونی بات نہیں۔ 

’سابق ڈی جی آئی ایس آئی کی نئی پوسٹنگ کو غیر ضروری طور پر اچھالا جا رہا ہے، ہر آفیسر کی قابلیت کو دیکھ کر تعیناتی کی جاتی ہے۔‘ 

ان کا کہنا تھا کہ کور کمانڈر کی حیثیت سے فرائض سر انجام دینا ہر فوجی افسر کی خواہش ہوتی ہے کیونکہ اس سے ان کے کمانڈ کے تجربے میں اضافے کے علاوہ اس علاقے سے متعلق علم و معلومات بھی حاصل ہوتی ہیں۔ 

تاہم بعض دوسرے تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی نئی ذمہ داریوں کو پڑوسی ملک افغانستان، پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات اور موجودہ آرمی چیف جنرل جاوید قمر باجوہ کے پیش رو کی تعیناتی سے جوڑتے ہیں۔  

دفاعی امور پر لکھنے والے صحافی متین حیدر کا کہنا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی کور کمانڈر پشاور کی حیثیت سے تعیناتی انہی عوامل کو سامنے رکھ کر کی گئی ہوگی کیونکہ وہ ان شعبوں سے متعلق اٹھنے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے اہل افسر ہیں۔ 

’ان کے تجربے، مہارت اور ان علاقوں اور یہاں کے لوگوں سے متعلق معلومات نے انہیں اس عہدے کے لیے اچھا امیدوار بنایا۔‘ 

افغانستان 

صحافی اور تجزیہ کار فہد حسین پاکستان کے انگریزی اخبار ڈان میں لکھتے ہیں کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ڈی جی آئی ایس آئی کی حیثیت سے پاکستان کی افغان پالیسی بنانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ 

اکثر دفاعی تجزیہ کاروں کی رائے میں ان کی کمانڈر الیونتھ کور کی حیثیت سے تعیناتی کا براہ راست تعلق افغانستان میں ماضی قریب میں ہونے والے اور مستقبل میں پیش آنے والے ممکنہ واقعات سے ہے۔ 

جنرل (ر) طلعت مسعود کے خیال میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے گذشتہ دو سالوں کے دوران افغانستان سے جڑے واقعات کو قریب سے دیکھا اور بعض چیزوں میں بذات خود شامل بھی رہے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ جنرل فیض ’افغانستان کے معاملات کو بہت قریب سے دیکھ چکے ہیں اور اس متعلق بہت کچھ جانتے ہیں، اس لیے میرے خیال میں یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے انہیں پشاور بھیجنے کی۔‘  

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کور کمانڈر پشاور افغانستان کے قریب ترین فوجی افسر ہوتا ہے جبکہ الیونتھ کور پاکستان کے نازک ترین علاقوں کو دیکھتی ہے، جس کی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پوری معلومات رکھتے ہیں۔ 

متین حیدر کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید افغانستان کے حوالے سے کافی تجربہ رکھتے ہیں اور کمانڈر پشاور کور کی حیثیت سے وہ افغان طالبان اور ان کی حکومت کے ساتھ براہ راست رابطوں میں رہیں گے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پاکستان اور موجودہ افغانستان کے درمیان تعلقات کے حوالے سے تجربہ کار افسر ہیں، اس لیے ان کی پشاور میں تعیناتی کی ایک وجہ افغانستان کو قرار دیا جا سکتا ہے۔   

بین الاقوامی امور کے استاد پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین کے خیال میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی افغانستان کے معاملات میں شمولیت برقرار رہے گی اور اس بارے میں بہتر تجزیہ پیش کرسکتے ہیں، جو پاکستان فوج کے لیے بہت اہم اور قیمتی ثابت ہوگا۔ 

یاد رہے کہ افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد انہوں نے کابل کا دورہ کیا تھا، جسے چند روز بعد ہی طالبان کی عبوری کابینہ کے اعلان سے بھی منسلک کیا جاتا ہے۔ 

فہد حسین نے اپنے مضمون میں مزید لکھا کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے محمد صادق نے امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان گذشتہ سال فروری میں دوحہ معاہدے کو ممکن بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ 

پاکستانی طالبان 

وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں ایک ترک ٹی وی چینل کو انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے بعض گروہوں کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، تاہم ٹی ٹی پی نے اس کی تردید کی تھی۔ 

تجزیہ کار اسلام آباد اور پاکستانی طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کو بھی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی کمانڈر پشاور کور کی حیثیت سے تعیناتی کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ 

متین حیدر کا کہنا تھا کہ بحیثیت کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی ایک ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ جاری مذاکرات پر نظر رکھنا اور یقینی بنانا ہے کہ جنگجو گروہ ہتھیار رکھ کر پر امن زندگی بسر کرنے پر راضی ہو جائیں۔ 

انہوں نے مزید کہا: ’وہ پاکستان افغانستان سرحد کے دو اطراف علاقوں کی زیادہ معلومات رکھتے ہیں، تو ان سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف امن اور استحکام کے قیام میں اہم کردار ادا کریں گے۔‘ 

متین حیدر کا کہنا تھا کہ انہیں پشاور بھیجنے کی ایک بڑی وجہ ان کا کاؤنٹر ٹیررازم میں تجربہ ہے، جس سے پاکستان کے سابق قبائلی علاقوں میں دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ 

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سابقہ قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد اس خطے میں امن و امان سے متعلق چیلنجز نے سر اٹھایا ہے اور ان پر قابو پانا ریاست کے لیے بہت ضروری ہے۔ 

لیفٹیننٹ جنرل غلام مصطفی کا کہنا تھا: ’پاکستان کی مغربی سرحد گرم ہونے کے امکانات ہیں اور ٹی ٹی پی کے حوالے سے بھی معاملات آگے بڑھ رہے ہیں تو ایسے میں نئے کور کمانڈر پشاور کا تجربہ ایک بڑا مثبت نقطہ ثابت ہو گا۔‘ 

پروفیسر ڈاکٹڑ رفعت حسین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں فیض حمید کی ان پٹ بہت مفید ثابت ہو گی کیونکہ اسلام آباد حقانی نیٹ ورک کے ذریعے پاکستانی طالبان کے نسبتاً اعتدال پسند گروہوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘ 

تاہم انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے حالیہ حملوں کے تناظر میں شاید یہ حکمت عملی اتنی کامیاب ثابت نہ ہو سکے، لیکن جنرل فیض حمید پشاور سے ان سب معاملات پر نظر رکھیں گے۔ 

آئندہ آرمی چیف 

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ پاکستان آرمی کے قواعد و ضوابط کے تحت فوج کا سربراہ بننے کے لیے دوسری قابلیتوں اور تجربات کے علاوہ کسی تین ستارہ جرنیل کا کم از کم ایک کور کا سربراہ رہنا ضروری ہے۔ 

کور کمانڈر کی حیثیت سے تعیناتی ایک اعلیٰ سطحی آپریشنل ذمہ داری ہے۔ 

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نومبر 2022 میں اپنی مدت ملازمت پوری کر کے سبکدوش ہو جائیں گے اور اس وقت ترقی کے لیے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید چار سینیئر ترین جرنیلوں میں سے ایک ہوں گے۔ 

تاہم تین دوسرے افسران (لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا، لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس اور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود) پہلے ہی کسی نہ کسی کور کی سربراہی کر چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین کے خیال میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے جنرل فیض کو پشاور کور اس لیے بھیجا ہے تاکہ ’آئندہ سال نومبر تک وہ کور کمانڈر کی حیثیت سے ایک سال مکمل کرچکے ہوں گے اور اس عرصے کے دوران افغانستان کے معاملات کو بھی دیکھتے رہیں گے۔‘ 

انہوں نے کہا کہ جنرل فیض کو پشاور بھیجنے کے فیصلے کے پیچھے ایک وجہ مستقبل میں انہیں فوج کا نیا سربراہ بنانا ہو سکتا ہے۔ 

متین حیدر کا کہنا تھا کہ فیض حمید سول اور ملٹری لیڈرشپ کے ’پسندیدہ‘ ہیں اور انہیں کور کمانڈر الیونتھ کور اسی لیے بنایا گیا کہ ان کے آرمی چیف بننے میں یہ آخری رکاوٹ بھی دور ہو جائے۔ 

’فیض حمید نومبر 2022 تک کور کمانڈر الیونتھ کور کی حیثیت سے کام کر کے آرمی چیف کے عہدے کے لیے پوری طرح اہل ہو جائیں گے۔‘ 

پاکستان آرمی کورز 

پاکستان فوج کی ملک میں مجموعی طور پر نو کورز ہیں، جن میں فرسٹ کور (منگلا، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر)، سیکنڈ کور (ملتان)، فورتھ کور (لاہور)، ففتھ کور (کراچی)، ٹینتھ کور (راولپنڈی)، الیونتھ کور (پشاور)، ٹویلتھ کور (کوئٹہ)، تھرٹینتھ کور (گوجرانوالہ) اور تھرٹی فسٹ کور (بہاولپور) شامل ہیں۔ 

مندرجہ بالا نو کورز کے علاوہ پاکستانی فوج میں کور کی سطح کی تین فارمیشنز بھی شامل ہیں، جنہیں ایئر ڈیفنس کمانڈ، سٹریٹجیک فورسز کمانڈ اور آرمی ایوی ایشن کمانڈ کے نام دیے گئے ہیں۔ 

ہر کور دو یا دو سے زیادہ ڈویژنز پر مشتمل ہوتی ہے جبکہ اس کے سربراہ کو کور کمانڈر کہا جاتا ہے اور اس عہدے پر تین ستارہ جرنیل (تھری سٹار جرنل) یا لیفٹیننٹ جنرل رینک کے افسر کو تعینات کیا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان