’ڈاکٹر عبدالقدیر، پلیز واٹر‘

ڈاکٹر عبدالقدیر کی وضع قطع سے وہ جتنے رعب دار لگتے ہیں حقیقت میں اتنے ہی نرم خو اور ملنسار تھے۔ سب سے ملتے جلتے اور کئی اساتذہ کو جھک کر سلام کرتے وہ سٹیج پر اپنی جگہ پر جاکر بیٹھ گئے۔

24 دسمبر 2003 کی اس تصویر میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک سیمنار میں شریک افراد کے سلام کا جواب دیتے ہوئے(اے ایف پی فائل)

ڈاکٹر عبدالقدیر سے میری ملاقات زمانہ طالب علمی میں ہوئی جب میں ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج میں سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا اور اس وقت انہیں اپنے سامنے دیکھ کر صرف میرے منہ سے یہی نکل پایا ’مسٹر عبدالقدیر پلیز واٹر‘۔ 

کراچی میں میٹرک کرنے والے ہر طالب علم کا خواب ہوتا تھا اور شاید ہے بھی کہ وہ ڈی جے سائنس کالج میں تعلیم جاری رکھے۔ اس کا معیار تو بہترین ہے ہی اس کی عمارت سونے پہ سہاگہ لیکن اس کی وجہ شہرت میری طرح کے لاکھوں لڑکوں کے دلوں میں وہاں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش پیدا کرتی تھی اور وہ وجہ شہرت تھی کہ وہاں سے عبدالقدیر خان نے تعلیم حاصل کی ہے۔  

ویسے تو ملک کے کئی نامور افراد ڈی جے کالج سے فارغ التحصیل ہیں لیکن عبدالقدیر خان جیسا مقام شاید کسی کو بھی حاصل نہیں۔ 

یہ 2000 کی بات ہے جب ڈی جےسائنس کالج میں پینے کا پانی صرف کینٹین سے خرید کر ہی پیا جا سکتا تھا۔ طلبہ کے لیے کالج میں پینے کے پانی کا کوئی انتظام سرے سے نہیں تھا۔   

ڈی جے ایسا کالج ہے جہاں پر پورے شہر میں بہترین پوزیشن پرسنٹیج حاصل کرنے والے طلبہ کا نام میرٹ پر آتا ہے اور وہ طویل سفر کر کے کالج آنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے خاص طور ہر گرمی میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ کو کافی پریشانی اٹھانی پڑتی تھی۔  

کالج میں پانی کی فراہمی کے لیے مخلتف ادوار میں مختلف سطح پر کوششیں ہو چکی تھیں لیکن کامیاب نہیں ہو پائی تھیں کیونکہ کالج کی عمارت قدیم ورثے میں شامل تھی۔ پانی کی لائن ڈالنے کے لیے زمین میں جو کھدائی ہوتی اور دیواروں میں سوراخ کرنے پڑتے اس کی اجازت حاصل کرنا ایک انتہائی مشکل کام تھا اور اس میں کئی اداروں کی شمولیت ضروری تھی اور وہ کام بھی اگر تعلیمی ادارے کا ہو کسے پروا تھی؟ 

ایسی صورتحال میں اسلامی جمیعت طلبہ نے پانی لانے کی ایک مہم شروع کی لیکن اس پر اپنا نام ثبت نہیں کیا بلکہ اسے بغیر اپنے نام کے آگے بڑھایا۔ یہی وجہ تھی اس میں کالج کے تمام طلبہ و طالبات نے نہ صرف حصہ لیا بلکہ خوب خوب حصہ لیا۔  

دراصل ایک سٹیکر سے اس مہم کا آغاز ہوا جس پر سفید سٹیکر پر کالے رنگ سے لکھا تھا ’مسٹر پرنسپل پلیز واٹر‘ بس۔ نہ کسی تنظیم کا نام نہ کسی گروہ کا۔ یہی وجہ تھی کیا لڑکیاں اور کیا لڑکے سب نے اس میں بھرپور حصہ لیا بلکہ چند اساتذہ نے بھی وہ سٹیکر لگا کر کلاسز لیں۔  

اس مہم میں کوئی مظاہرہ نہیں کیا گیا لیکن جس کا دل چاہتا وہ پرنسپل کے پاس چلا جاتا اور پوچھ لیتا ’مسٹر پرنسپل وین واٹر؟‘ 

ہمارے پرنسپل روی شنکر تھے اکثر کلاسز لیتے تھے تو ان کی کلاسز میں تو اکثر آتے اور جاتے وقت یہی نعرے لگتے تھے۔  

پھر ایک دن پتہ چلا کہ شام کو ڈی جے کی المنائی یونین ’ڈی جےیریئن‘ کا فنکشن ہے اور اس میں عبدالقدیر خان صاحب آ رہے ہیں۔ 

اس وقت تک ڈاکٹر عبدالقدیر پر پابندیاں نہیں لگی تھیں اور ان کو بڑے پروٹوکول میں لایا اور لے جایا جاتا تھا۔  

ہم نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ منصوبہ بنایا کہ شام کو فنکشن میں ضرور شریک ہوں گے۔ اصل وجہ ہماری مہم نہیں تھی بلکہ عبدالقدیر خان کی ایک جھلک دیکھنی تھی اور ہاتھ ملانے کی خواہش تھی۔ 

کالج آف ہونے کے بعد کا وقت برنس روڈ پر مختلف جگہوں پر گھوم کر گزارا اور شام پانچ بجے سے پہلے کالج پہنچ گئے۔  

ہم کو معلوم تھا تقریب میں داخلہ بغیر دعوت نامے کے نہیں ملے گا لہٰذا ڈاکٹر صاحب کی آمد کا انتظار کیا اور ان کے داخلے کے دوران موقع ملنے پر پنڈال میں سرک آئے۔ 

ڈاکٹر عبدالقدیر کی وضع قطع سے وہ جتنے رعب دار لگتے ہیں حقیقت میں اتنے ہی نرم خو اور ملنسار تھے۔ سب سے ملتے جلتے اور کئی اساتذہ کو جھک کر سلام کرتے وہ سٹیج پر اپنی جگہ پر جاکر بیٹھ گئے۔  

ہم جب انہیں دیکھ چکے تو پھر ہر نوجوان کی ان سے ملنے کا شوق چرایا۔ سٹیج کے پاس پہنچ گئے۔ سکیورٹی پروٹوکول کی وجہ سے سیڑھیوں کے قریب نہیں آ پائے۔ کئی بار ہاتھ بلند کیا کہ وہ دیکھ لیں تو بلا لیں لیکن ایسا نہ ہو سکا۔  

دیگر اساتذہ اور تقریب کی نظامت کرنے والے تقریر کرتے رہے کہ عصر کی اذان ہوگئی۔ ڈاکٹر صاحب خاموشی سے سٹیج سے نیچے اترے تو ان کے ساتھ دو افراد بھی آئے تاکہ انہیں نماز کی جگہ اور قبلہ وغیرہ بتا دیں۔ یہی ہمارا موقع تھا۔  

ہم آگے بڑھے اور پریئر روم کی طرف اشارہ کیا، ’سر اس طرف ہے، آئیے۔‘ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ آنے والے اساتذہ نے بھی ہمیں دیکھ لیا تھا اور پہچان لیا تھا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ہم راستہ بتا رہے ہیں تو پیچھے نہیں آئے۔  

پریئر روم کے سو قدم کے فاصلے میں سے 50 قدم کا فاصلہ طے ہوگیا تھا، سکیورٹی والے بھی مطمئن ہو چکے تھے کہ اچانک میں نے آگے بڑھ کر ڈاکٹر عبدالقدیر کا ہاتھ تھام لیا اور کہا، ’سر آپ سے ملنے کی بڑی خواہش تھی اور ہاتھ ملانے کی کیونکہ ان سے آپ نے بڑا کام کیا ہے۔‘  

اس اچانک حملے پر وہ مسکرائے اور میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا، ’آپ کی تعریف؟‘  

میں نے بتایا کہ یہاں کا طالب علم ہوں صرف آپ کو دیکھنے کے لیے یہاں آیا ہوں مجھے دعوت نہیں تھی۔  

ڈاکٹر صاحب پھر مسکرائے اور کہا، ’میں نماز پڑھ لوں تو بات کرتے ہیں۔‘  

اتنے میں سکیورٹی والوں کو کچھ بھنک لگ گئی تھی وہ تیزی سے مجھے ہٹانے آگے بڑھے تو میرا ایک دوست بیچ آگیا اور کہا صرف بات کر ہے ہیں ہم سٹوڈنٹس ہیں۔ 

ڈاکٹر صاحب نے سکیورٹی والوں اشارہ کیا اور پیچھے ہٹنے کو کہا اور ہم سے پوچھا صرف ملنا تھا یا کوئی شکایت تھی؟ شاید ہم سے پہلے بھی کچھ لوگ یہی کام کرچکے ہوں۔  

اچانک خیال آیا کہ اس سے اچھا موقع نہیں ملے گا۔ ہم نے کہا شکایت نہیں فرمائش تھی اگر آپ پوری کر پائیں۔ انہوں نے پوچھا وہ کیا۔ ہم نے چند جملوں ان کو پوری داستان سنائی اور جیب سے نکال سٹیکر بھی دکھا دیا جس پر لکھا تھا ’مسٹر پرنسپل پلیز واٹر‘ اور ڈاکٹر صاحب کو دیتے ہوئے میں نے کہا ’ڈاکٹر عبدالقدیر پلیز واٹر۔‘ 

انہیں جیسے سب معلوم تھا۔ کہنے لگے، ’یہ عمارت تاریخی ورثہ ہے اس لیے مشکل تو ہے لیکن آپ کا یہ کام ہوجائے گا میرا وعدہ۔‘ 

ہم پلٹ گئے۔ انہوں نے نماز پڑھی پھر تقریر کی اور تقریب ختم ہوگئی۔ جب وہ جانے لگے تو ہم بھی الوداع کہنے والوں میں شامل تھے۔ اچک اچک کر ہاتھ ہلا رہے تھے کہ ہم پر دوبارہ نظر پڑ جائے۔

ڈاکٹر صاحب گاڑی میں بھی تھے اور جانے لگے پھر اچانک پرنسپل صاحب کو اشارہ کیا اور گاڑی میں بیٹھنے کو کہا اور انہیں بٹھا کر واپس جانے کے بجائے ایڈمن بلاک کی جانب بڑھ گئے۔  

ڈی جے کالج کا ایڈمن بلاک اس وقت کالج کی مرکزی عمارت کے عقب میں ایس ایم آرٹس کالج کی عمارت سے متصل عمارت میں واقع تھا جہاں پرنسپل صاحب کا دفتر بھی تھا۔ مرکزی عمارت سے وہاں کا پیدل تین سے چار منٹ کا راستہ تھا۔  

گاڑیاں ایڈمن بلاک پر رکیں اور ڈاکٹر صاحب ہمارے پرنسپل روی شنکر کے ساتھ ان کے آفس کے اندر چلے گئے۔ 

ہم بھی پیچھے پیچھے سن گن لینے پہنچ گئے کہ کیا ہو رہا ہے۔ دل میں ایک خیال تھا کہ شاید پانی کا معاملہ زیر غور ہو۔ ہم عمارت کے اندر تو داخل نہیں ہو پائے سکیورٹی کی وجہ سے لیکن باہر جنگلے سے لگ کر کھڑے ہوگئے۔  

کچھ دیر بعد ڈاکٹر عبدالقدیر باہر نکلے اور اپنی گاڑی میں بیٹھنے لگے تو ہم پر نظر پڑی اشارہ کیا اور قریب آنے کو کہا پھر پرنسپل صاحب سے کہا، ’ان برخوردار کی فرمائش تھی پانی کی اور میں نے ان سے وعدہ کر لیا ہے اب آپ کو میری بات کا پاس رکھنا ہے۔‘ 

ڈاکٹر صاحب نے دوبارہ ہاتھ ملایا اور اس بار ہاتھ میرے سر پر پھیرا اور کہا ’جیتے رہیے‘ اور گاڑی میں بیٹھے اور چلے گئے۔ 

اگلے دن میری پیشی پرنسپل کے سامنے ہوئی۔ پہلے ڈانٹ پڑی کہ ’لیڈر بننا چاہتے ہو بیٹا؟‘  

پھر پرنسپل نے نرمی سے کہا کہ عبدالقدیر خان کے کہنے پر بہت سی رکاوٹیں دور ہوگئی ہیں اب چند دن میں فرمائش پوری ہوجائے گی۔ 

اور ہوا بھی یہی کہ پھر آندھی طوفان کے ساتھ محکمے کام پر لگ گئے اور دو ہفتوں کے اندر کالج کے پرنسپل نے کالج کو پانی کا تحفہ دے دیا۔  

دن گزرتے گئے اور میں کالج سے فارغ التحصیل ہوگیا۔ پیشہ صحافت کا اختیار کیا اور پھر ایک دن ایسی تقریب کو کور کرنے کی ذمہ داری لگی جس میں ڈاکٹر عبدالقدیر کو آنا تھا۔  

اب ڈاکٹر عبدالقدیر خان ’اے کیو خان‘ ہو چکے تھے اور ان کے قریب جانا اتنا آسان نہیں تھا جتنا کہ اس سے پہلے کی ملاقات میں تھا۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی کوشش ہوتی ہے کہ مہمان خصوصی سے تقریب کے بعد خصوصی بات چیت ہوجائے لیکن عبدالقدیر کے معاملے میں اب اس پر پابندی لگ چکی تھی۔  

تقریب کے بعد سب کی طرح میں نے بھی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی بھرپور دھکہ لگا اور میں کافی پیچھے چلا گیا۔  

اس کا حل میں نے یہ نکالا کہ با آواز بلند کہا، ’ڈاکٹر صاحب صرف آپ کا شکریہ ادا کرنا ہے بس ایک منٹ۔‘  

چلتے چلتے ڈاکٹر صاحب رک گئے۔ مڑ کر دیکھا کہ یہ آواز کس نے لگائی ہے۔ 

میں نے ہاتھ اٹھا کر متوجہ کیا اور کہا، ’ڈاکٹر میں ڈی جے کا سٹوڈنٹ تھا آپ سے پانی کی فرمائش کی تھی، پوری کرنے کا شکریہ!‘ 

میں سمجھ رہا تھا کہ بھول بھال گئے ہوں گے۔ حسب عادت مسکرائے اور میری طرف دیکھ کر بولے وہ ’مسٹر عبدالقدیر پلیز واٹر‘ والے۔ اور پھر چلے گئے۔  

آج وہ ہستی ہم میں نہیں لیکن شاید ڈی جے کالج کے طلبہ اس تحفے سے فائدہ اٹھا رہے ہوں۔  

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ