’ہمیں صرف ہمارا پیسہ ہی واپس کر دیا جائے‘: طالبان کی اپیل

افغان وزارت خزانہ کے ترجمان احمد ولی حقمل کا کہنا ہے کہ ’یہ پیسہ افغان قوم کا ہے۔ ہمیں صرف ہمارا پیسہ واپس کیا جائے۔ اس پیسے کو منجمد کرنا غیر اخلاقی ہے اور تمام بین الااقوامی قوانین اور اقدار کی خلاف ورزی ہے۔‘

افغانستان میں طالبان کے اقدار میں آنے اور معیشت کی بگڑتی صورتحال کے باعث شہری پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کررہے ہیں (اے ایف پی)

افغانستان میں برسراقتدار طالبان انتظامیہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مشکلات کے شکار افغان عوام کو قحط، پیسے کی کمی اور پناہ گزینوں کے بحران سے بچانے کے لیے دوسرے ممالک میں موجود زر مبادلہ کو استعمال کرنے کی اجازت دیں۔

اس حوالے سے طالبان کے اقوام متحدہ کے لیے نامزد نمائندے اور سابق ترجمان سہیل شاہین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر سلسلہ وار ٹویٹس میں کہا ہے کہ ’افغانستان میں سردی کا موسم عنقریب شروع ہو جائے گا اس لیے عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ افغانستان کے مفلس، مشکلات کے شکار اور مہاجر بننے پر مجبور عوام کے لیے ایک ارب یوروز (1.2 ارب ڈالر) کے امدادی پیکیج کو جلد فراہم کرے، جس کا اعلان جی 20 اجلاس کے دوران کیا گیا تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’طالبان انتظامیہ افغانستان میں کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیموں اور مختص اداروں کے ساتھ مکمل تعاون پر تیار ہے۔ انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی یہ امداد ہماری اس مشترکہ ذمہ داری کو ختم نہیں کرے گی جو ہم افغانستان میں مہاجرین، قحط اور انسانی بحران کو روکنے کے لیے کریں گے۔‘

سہیل شاہین نے اپنی ٹویٹس میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان کے 10 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کو بحال کرنے میں بھی افغان انتظامیہ کی مدد کرے، تاکہ افغانستان میں ترقیاتی منصوبوں اور پروجیکٹس کو دوبارہ شروع کیا جا سکے۔‘

بیرون ملک اثاثوں، جن میں امریکہ کے وفاقی ریزرو اور یورپ کے دوسرے مرکزی بینک شامل ہیں، میں افغانستان کے اربوں ڈالر موجود ہیں لیکن طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مغربی حکومتوں نے ان اثاثوں کو منجمد کر رکھا ہے۔

افغانستان کی وزارت خزانہ کے ترجمان نے بھی عالمی برادری سے انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزارت خزانہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہماری حکومت انسانی حقوق کے احترام اور خواتین کی تعلیم کو یقینی بنائے گی۔‘

افغان وزارت خزانہ کے ترجمان احمد ولی حقمل کا کہنا ہے کہ ’یہ پیسہ افغان قوم کا ہے۔ ہمیں صرف ہمارا پیسہ واپس کیا جائے۔ اس پیسے کو منجمد کرنا غیر اخلاقی ہے اور تمام بین الااقوامی قوانین اور اقدار کی خلاف ورزی ہے۔‘

ان کے مطابق افغانستان کو فراہم کی جانے والی امداد ’معمولی ریلیف‘ ہے۔

دوسری جانب افغانستان کے مرکزی بینک کے بورڈ کے رکن شاہ محرابی کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک مشکل صورت حال ہے اور پیسہ بہت جلد کم ہو رہا ہے۔ لیکن ابھی اتنی رقم موجود ہے جس سے افغانستان کا یہ سال گزر جائے گا۔‘

افغانستان کی وزارت خزانہ کے مطابق افغانستان سے روزانہ کی بنیاد پر تقریبا 44 لاکھ ڈالر کے برابر ٹیکس جمع کیا جاتا ہے۔

شاہ محرابی کا کہنا ہے کہ افغانستان کو ہر مہینے تقریبا 15 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے تاکہ کسی ’فوری بحران کو ٹالا جا سکے‘، اس کے علاوہ یہ رقم مقامی کرنسی کی قدر اور قیمتوں کو مستحکم کرنے میں بھی مدد گار ہو گی۔

ان کے مطابق اگر یہ اثاثے منجمد ہی رہتے ہیں تو افغان درآمد کنندگان اپنے کاروبار کے لیے رقم ادا نہیں کر سکیں گے اور افغانستان میں بینکنگ کا نظام بھی منہدم ہو جائے گا۔ اس صورت حال میں افغانستان میں روز مرہ کی اشیا خریدنا مشکل ہو جائے گا۔

محرابی کے مطابق جرمنی کے ایک بینک میں افغانستان کے 43 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رقم موجود ہے جسے منجمد کر دیا گیا ہے جب کہ جرمنی کے مرکزی بینک میں بھی نو کروڑ 40 لاکھ ڈالر سے زائد کی رقم موجود ہے۔ علاوہ ازیں عالمی مفاہمتی بینک میں بھی 66 کروڑ ڈالر کی رقم منجمد ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا