پاکستان پر ماہی گیر کو ’فائرنگ میں ہلاک کرنے‘ کا بھارتی الزام

دہلی میں میڈیا اداروں کو بتایا گیا کہ بھارت نے اس واقعے کا ’سنجیدگی سے نوٹس لیا‘ ہے اور پاکستان سے سفارتی طور پر اس پر بات کی جائے گی۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ماہی گیر پاکستان اور بھارت کے درمیان خراب تعلقات کے بھینٹ چڑھے ہوں (فائل تصویر: اے ایف پی)

بھارتی ریاست گجرات میں پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بحیرہ عرب میں بھارتی ماہی گیروں کی کشتی پر مبینہ فائرنگ میں ایک بھارتی شخص ہلاک ہوا ہے۔

چھ بھارتی ماہی گیروں کو حراست میں لے کر پاکستانی پولیس کے حوالے کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔

انڈیا ٹوڈے کی خبر کے مطابق، گجرات پولیس نے سوموار کو پاکستانی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے 10 اہلکاروں کے خلاف قتل اور قتل کی کوشش کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ فائرنگ میں زخمی ہونے والے ماہی گیر دلیپ ناٹو سولنکی کی شکایت پر باقاعدہ شکایت درج کروائی گئی تھی۔

پاکستانی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی (پی ایم ایس اے) نے تصدیق کی کہ مشرقی میری ٹائم ریجن میں پانچ نومبر کو کچھ غیر قانونی بھاری کشتیاں داخل ہوئیں جنہیں واپس بھیج دیا گیا۔ تاہم ایجنسی کا کہنا ہے کہ انہیں اس واقعے میں کسی کی ہلاکت کا علم نہیں۔

گجرات میں پولیس نے بتایا کہ مارے جانے والے ماہی گیر کی لاش اتوار کو ملی۔

پولیس سپرانٹنڈنٹ دیوبھومی دھوارکا نے الزام عائد کیا کہ: ’مہاراشٹرا سے ایک ماہی گیر، جو کشتی جل پری پر سوار تھا، تب مارا گیا جب ہفتے کو پی ایم ایس اے کے اہلکاروں نے اس اور اس کے عملے پر فائرنگ کی۔‘

حکومتی ذرائع نے دہلی میں میڈیا اداروں کو بتایا کہ بھارت نے اس واقعے کا ’سنجیدگی سے نوٹس لیا‘ ہے اور پاکستان سے سفارتی طور پر اس پر بات کی جائے گی۔

ہلاک ہونے والے ماہی گیر، 32 سالہ شریھدر رمیش چامرے، کی لاش گجرات کی اوکھا بندرگاہ پر اتوار کو لائی گئی۔

پولیس نے سرکاری طور پر کیس درج کر لیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

پی ایم ایس اے نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا: ’پدمنی کوپا نامی ایک کشتی، جو ہدایت پر عمل نہیں کر رہی تھی، اسے حراست میں لیا گیا اور مزید قانونی کارروائی کے لیے چھ نومبر کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔‘

بیان میں مزید کہا گیا: ’پی ایم ایس اے کو ایسے کسی واقعے کے بارے میں علم نہیں جس میں کسی کی ہلاکت ہوئی ہو یا کوئی زخمی ہوا ہو۔ حراست میں لی گئی کشی کے کاغذات میں ایسا کوئی نام درج نہیں جو بین الاقوامی میڈیا میں بتایا جا رہا ہے۔‘

پوربندر میں ماہی گیروں کے ایک رہنما نے بتایا کہ ایک اور کشتی کو پاکستانی بحریہ نے حراست میں لیا جس میں چھ ماہی گیر سوار تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارتی اہلکاروں نے ابھی اب تک کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

جس کشتی میں چامرے سوار تھے اس کے مالک جیانتی بھائی راتھوڑ کا کہنا ہے کہ چامرے کیبن میں تھے جب کشتی پر فائرنگ ہوئی۔

پی ٹی آئی نیوز ایجنسی کے مطابق راتھوڑ نے صحافیوں کو بتایا: ’ان کے سینے میں تین گولیاں لگیں جس کے بعد وہ ہلاک ہوگئے۔ پاکستانی اہلکاروں کی فائرنگ میں کشتی کا کپتان بھی زخمی ہوا۔‘

ایسے واقعے پہلے بھی وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ انٹرنیشنل میریٹائم باونڈری لائن کے مطابق دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے 632 ماہی گیر جیلوں میں قید ہیں۔

پاکستان کی مختلف جیلوں میں 558 جب کہ بھارت میں 74 پاکستانی ماہی گیر قید ہیں۔

دونوں مملک کے ماہی گیر اکثر بین الاقوامی سرحدیں عبور کر لیتے ہیں۔ وہ اپنے علاقوں کی نشاندہی کے لیے جی پی ایس پر انحصار کرتے ہیں، مگر وہ سمندر میں خراب موسم کی وجہ سے خراب بھی ہو سکتا ہے۔

ماہی گیروں کے بقا کے فورم مہاراشٹرا مچھی مار کریتی سمیتی اور چامرے کے خاندان نے اس بات کی تردید کی ہے کہ کشتی بین الاقوامی پانیوں میں داخل ہوئی۔

والدہ انوشا چامرے نے کہا: ’میرا بیٹا بھارتی حدود میں تھا۔‘

چامرے کے سوگواروں میں ان کی اہلیہ اور آٹھ اور چھ سالہ بیٹیاں ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا