کوپ 26 ختم :’معاہدہ ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر لاکھوں لوگوں کی توہین ہے‘

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریش نے معاہدے کا خیر مقدم کیا لیکن زور دیا کہ ’یہ کافی نہیں ہے۔ ہم اب بھی ماحولیاتی تباہی کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔‘

گلاسگو میں 13 نومبر کو  کوپ 26 میں ہو نے والے معاہدے سے ناخوش ماحولیاتی کارکن اس   کا علامتی  جنازہ پڑھ رہے ہیں اور عقب میں ماضی کی کانفرنسوں کے کتبے ہیں۔ (اے ایف پی)

دو ہفتے کے طویل اور مشکل مذاکرات کے بعد گلاسگو میں اقوام متحدہ کی ماحولیاتی تبدیلی پر عالمی کانفرنس میں دو سو سے زائد ممالک نے کلائمٹ چینج سے نمٹنے کے لیے معاہدے پر اتفاق کیا، تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں طے شدہ اہداف عالمی درجہ حرارت میں خطرناک اضافے کو روکنے کے لیے ناکافی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عالمی اجلاس (کونفرنس آف پارٹیز) کوپ 26 میں امیر ملکوں پر الزام لگایا گیا کہ وہ قحط، سمندر کی سطح میں اضافے، آتشزدگی اور طوفانوں کے خطرے سے دو چار غیر ترقی یافتہ ملکوں کو وہ فنڈ دینے میں ناکام رہے جن کی انہیں سخت ضرورت ہے۔

کوپ 26 کے برطانوی صدر آلوک شرما نے میراتھن مذاکرات کو سمیٹے ہوئے مندوبین سے کہا: ’اب فیصلے کا وقت ہے اور آپ نے جو بھی منتخب کرنے کا فیصلہ کیا وہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔‘

اجلاس میں دو ہفتے سے تمام ممالک کے مندوبین کے درمیان کڑے مذاکرات جاری تھے، جس کے بعد اس کے اختتام پر اجلاس میں لیے گئے فیصلوں پر معاہدہ پیش کیا جانا تھا۔ اس سال مذاکرات اپنے طے شدہ وقت سے ایک دن زیادہ تک جاری رہے، کیونکہ معاہدے کے حتمی دستاویز کے نکات پر اتفاق نہیں ہو پا رہا تھا۔

مذاکرات میں چین اور بھارت کا اصرار تھا کہ فاسل فیولز کے استعمال کے حوالے سے حتمی دستاویز میں استعمال ہونے والی زبان میں مزید نرمی لائی جائے۔ 

ان کے مطالبے مان لیے جانے کے بعد کانفرنس کا اختتام کا اعلان کرتے ہوئے آلوک شرما نے آبدیدہ ہوتے ہوئے کہا: ’جس انداز میں یہ عمل سامنے آیا ہے میں اس پر معذرت خواہ ہوں۔ میں بہت معذرت چاہتا ہوں۔‘

مندوبین کے درمیان مذاکرات کا مقصد 2015 کے تاریخی پیرس معاہدے کے تحت عالمی درجہ حرارت کو صنعتی انقلاب سے قبل سے پہلے کے درجہ حرارت کے مقابلے میں 1.5 اور زیادہ سے زیادہ دو سیلسیئس پر محدود رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا تعین کرنا تھا۔ انہیں یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی کہ ایسے ملکوں کے لیے فنڈ تلاش کریں جنہیں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے خشک سالی، سیلابوں اور سطح سمندر میں اضافے کے سبب طوفانوں کے انتہائی خطرے کا سب سے زیادہ سامنا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں خطرناک اضافے سے بچنے اور کلائمٹ چینج سے نمںٹے کے لیے ملکوں کی صلاحیت میں بہتری یا قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے حوالے سے سربراہ کانفرنس کا معاہدہ ناکافی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریش نے معاہدے کا خیر مقدم کیا لیکن زور دیا کہ ’یہ کافی نہیں ہے۔ ہم اب بھی ماحولیاتی تباہی کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔‘

ماحول کے تحفظ کے لیے سرگرم سویڈن کی کارکن گریٹا ٹونبرگ کا ایک بار پھر کہنا تھا کہ بات چیت میں ’آئیں، بائیں، شائیں‘ سے زیادہ کچھ حاصل نہیں کیا گیا۔

پیرس معاہدے کی معمار لارنس ٹوبیانا نے اے ایف پی کو بتایا: ’کوپ اس وقت تکلیف سے گزرنے والے لوگوں کو فوری امداد دینے میں ناکام رہی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب یورپی کمیشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے نے پیرس معاہدے کے اہداف کو برقرار رکھا ہے۔ 

برطانوی وزیر اعظم، جن کی حکومت نے کانفرنس کی میزبانی کی، کا اصرار تھا کہ معاہدہ ’آگے کی جانب بڑا قدم ہے،‘ خواہ مزید کہیں زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہو۔

حتمی معاہدے میں ملکوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ غیر فلٹر شدہ کوئلے کا استعمال ’مرحلہ وار کم‘ اور غیر فعال فوسل کوئلے کا استعمال ’مرحلہ وار ختم‘ کریں۔

یہ وہ الفاظ ہیں جو بھارت کے اصرار پر معاہدے میں شامل کیے گئے۔

ماحولیات پر امریکی مندوب جان کیری کا کہنا تھا کہ کوئلے کے استعمال پر حکومتوں کے پاس بھارت کی زبان قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ’اگر ہم ایسا نہ کرتے تو ہم معاہدہ کرنے میں کامیاب نہ ہوتے۔‘ تاہم انہوں نے زور دیا کہ معاہدہ دنیا کے لیے خوشخبری ہے۔

دوسرے بہت سے ملکوں اور ماحول کے لیے مہم چلانے والوں نے ایسے مطالبات کرنے پر بھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا جن کی وجہ سے حتمی معاہدہ کمزور ہوا۔

سائنسی بنیادوں پر کام کرنے والے کلائمیٹ ایکشن ٹریکٹر کے لیے کاربن کے اخراج سے متعلق وعدوں کی نگرانی کرنے والے ماحول کے آسٹریلوی ماہر بل ہیئر کے بقول: ’بھارت طویل عرصے سے تحفظ ماحول کے لیے اقدامات میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے لیکن میں نے اسے کھلے عام ایسا کرتے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘

سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسز خارج کرنے والے ملک بھارت اور چین نے معاہدے کے دستاویز میں آلودگی کا سبب بننے والے ایندھن کا ذکر کرنے کی مخالفت کی اور معاہدے کا حتمی متن پہلے کے مسودوں سے کہیں زیادہ مختلف تھا۔

معاہدے میں تمام ملکوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پیرس میں ہونے والے اتفاق رائے سے تین سال پہلے ہی 2022 تک نئے قومی معاہدے جمع کرواتے ہوئے گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی لائیں، جن کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ 

مذاکرات کا یہ بھی مقصد تھا کہ کلائمٹ چینچ سے نمٹنے کے لیے غریب اور غیر ترقی یافتہ ممالک کے لیے امیر ممالک سے ایک سو ارب ڈالر کی سالانہ فنڈنگ (جسے لاس ایںڈ ڈیمچ کہا جاتا ہے) کے دعوں کو یقینی بنایا جائے۔ تاہم حتمی دستاویز میں امریکہ اور یورپی یونین کے اصرار پر ایسے تمام جملے نکال دیے گئے جن میں اس پر کوئی واضح حکمت عملی اور فنڈنگ ادارے کے قیام کا ذکر تھا۔  

مسودے میں بس اس موضوع پر ’ڈائلاگ‘ (بات چیت) کا ذکر ہے۔ 

اس پر ردعمل دیتے ہوئے جزیرے مالدیپ کی وزیر ماحولیات شونا امیناتھ نے کہا کہ ’کچھ کے لیے لاس اینڈ ڈیمیج ایک گفتگو یا ڈائیلاگ ہے، مگر ہمارے لیے یہ ہمارے وجود کا مسئلہ ہے۔‘

معاہدے میں ’شدید ملال‘ کے ساتھ کہا گیا کہ امیر ممالک وہ سو ارب ڈالر کا فنڈ دینے سے قاصر رہے ہیں جس کا وعدہ انہوں نے دس سال پہلے کیا تھا۔ اس میں ان ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ ’ہنگامی طور پر اور 2025 تک‘ یہ پیسے جاری کریں۔

اگرچہ میزبان برطانیہ نے کہا کہ وہ چاہتا ہے کہ کوپ 26 کا عالمی درجہ حرارت کو 1.5 سیلسیئس تک محدود رکھنے کا مقصد پورا ہو، تاہم گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے ایک سائنسی تجزیے میں انکشاف ہوا کہ ممالک کے ماحولیات کے حوالے سے منصوبے ایسے ہیں جس سے زمین کا درجہ حرارت 2.7 سیلسیئس تک جا سکتا ہے۔

گلاسگو میں دو ہفتوں میں ممالک اور لیڈران نے کئی اہم وعدے کیے، مثال کے طور پر 2030 تک گرین ہاؤس گیس میتھین کے اخراج میں 2030 تک 30 فیصد کمی لانے کا عہد۔ اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی کارکنان کے مظاہرے بھی جاری رہے جن میں ہزاروں لوگوں، خاص طور پر نوجوانوں نے شرکت کی، جو حکومتوں کے موسمیاتی بحران پر ہنگامی اقدامات لینے پر سستی سے نا خوش ہیں۔

ایکشن ایڈ انٹرنیشنل میں کلائمٹ پالیسی کوڈنیٹر ٹریزا اینڈرسن نے کہا کہ کوپ 26 ’ان لاکھوں کی توہین ہے جن کی زندگیاں موسمیاتی بحران سے اجڑ رہی ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات